کلبھوشن کیس: اگر کلبھوشن کو سفارتی رسائی دی جاتی تو کیا وہ اپنا دفاع بہتر طریقے سے کر پاتے؟

عالمی عدالت انصاف تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی نیدرلینڈز میں جاری مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے مقدمے کی سماعت 21 فروری کو اختتام پذیر ہوئی ہے۔

انڈیا نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے استدعا کی تھی کہ پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں موت کی سزا پانے والے کلبھوشن جادھو کی سزا معاف کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت میں اس کیس کی سماعت دونوں ملکوں کے میڈیا نے کور کی تاہم اس معاملے پر وہ اپنے اپنے ملک کے انفرادی نقطہ نظر پر بات کرتے نظر آئے۔

18 فروری سے شروع ہونے والی سماعت کے 21 فروری کو پاکستان کی طرف سے وکیل خاور قریشی کے جوابی دلائل پر اختتام پذیر ہوئی۔

آئیے جانتے ہیں کہ اس سماعت کے دوران کون کون سے دلائل سامنے رکھے گئے؟ اور فریقین نے اس پر کیا جوابات جمع کرائے؟

اس بارے میں سابق وزیرِ قانون احمر بلال صوفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سماعت کے دوران دونوں ملکوں کا ایک دوسرے کے ساتھ رویہ سرد رہا۔ انھوں نے ہر روز کے بیانات اور وضاحتوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کیس پر فیصلہ محفوظ ہوچکا ہے۔

مزید پڑھیے

عالمی عدالتِ انصاف میں کلبھوشن کا مقدمہ 18 فروری سے

’کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت میں نہیں لایا جا سکتا‘

کلبھوشن جادھو کیس، کب کیا ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سماعت کے دوران دونوں ملکوں کے وکلا کا ایک دوسرے کے ساتھ رویہ سرد رہا

پہلے روز ایڈ ہاک جج بیمار اور شِق 36

احمر بلال صوفی کے مطابق سماعت کے پہلے روز بینچ میں شامل پاکستان کے ایڈ ہاک جج تصدق حسین جیلانی کی طبیعت ناساز ہوگئی جس کی وجہ سے وہ بینچ کا حصہ نہیں بن سکے۔ انڈیا کی طرف سے وکیل ہریش سالوے اپنے دلائل لکھ کر لائے تھے جو انھوں نے عدالت کے سامنے پڑھے۔ اس بیان کے متن کے مطابق، انڈیا کا زیادہ تر زور ویانا کنونشن اور اس کی شِق 36 کی تشریح پر تھا۔

شِق 36 کسی ایک ملک کے شہری کو دوسرے ملک میں گرفتار ہونے کی صورت میں سفارتی مشاورت کی اجازت دیتی ہے۔ یعنی سفارت خانے کے حکام اس کو مل سکتے ہیں اور خط و خطابت بھی کرسکتے ہیں۔

انڈیا کا موقف یہ رہا ہے کہ کوئی بھی ملک ایسا کرنے کا پابند ہے کیونکہ یہ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور اس کا جاسوس ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ویانا کنونشن پر دونوں ملکوں نے اتفاق کرتے ہوئے دستخط کیے ہوئے ہیں۔

انڈیا نے اس بات پر بحث کی کہ پاکستان نے ان کی سفارتی مشاورت کی درخواست رد کر کے ویانا کنونشن 1963 کی نفی کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سماعت کے دوران انڈین وکیل نے پاکستانی وکیل کے لہجے پر اور ان کے الفاظ کے چناؤ پر بھی اعتراض کیا

انڈیا کی بلوچستان اور کراچی میں مداخلت

دوسرے دن دلائل کا آغاز پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کیا۔ انھوں نے پاکستان میں انڈیا کی طرف سے سنہ 1971 سے لے کر موجودہ دور تک ہونے والی مداخلت کے بارے میں بات کی۔ انھوں نے کہا کہ مداخلت کے تانے بانے انڈین انٹیلیجنس ایجنسی را سے ملتے ہیں۔

ساتھ ہی انھوں نے بلوچستان اور کراچی میں ہونے والے بم دھماکوں کے حوالے سے بھی بیانات سامنے رکھے۔ دوسرے روز بھی ایڈ ہاک جج تصدق جیلانی عدالت نہیں آسکے تاہم اُن کو عدالت کی طرف سماعت کی آڈیو ریکارڈنگ بھیجی گئیں۔

اٹارنی جنرل نے پاکستان کی انڈیا سے متعلق عمومی قانونی پوزیشن بیان کی۔ پاکستان کی طرف سے وکیل خاور قریشی نے کہا کہ اگر شِق 36 کو جاسوسی کے زُمرے میں دیکھا جائے تو سفارتی مشاورت رد کرنے کا جواز بنتا ہے یعنی سفارت خانے تک ان کی رسائی روک سکتے ہیں۔

ساتھ ہی خاور قریشی نے موقف کی وضاحت کے لیے بین الاقوامی وکیلوں کی شِق 36 کے بارے میں آرا اور قانونی زاوئیے سلائیڈ پریزینٹیشن کے ذریعے پیش کیے جبکہ کچھ باتیں انھوں نے زبانی کیں۔

اس دن قابلِ غور بات خاور قریشی کا لہجہ تھا، جو پوری سماعت کے دوران برجستہ تھا۔ خاور قریشی نے کہا کہ اوّل تو انڈیا نے پاکستان کے سوالات کا تحریری جواب نہیں دیا ہے اور بھارت "نان سینس" باتوں کی طرف عدالت کو متوجہ کرکے پاکستان کی طرف سے کیے گئے سوالات کا جواب نہیں دینا چاہتا۔

الفاظ کے چناؤ پر اعتراض

اس کے نتیجے میں تیسرے دن کی سماعت کے دوران انڈین وکیل نے ان کے لہجے اور الفاظ کے چناؤ پر اعتراض کیا۔

اس دن کی اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب انڈیا کی طرف سے مقرر کردہ نمائندے ڈاکٹر دیپک مِتل نے کہا کہ اگر اس کیس کی سماعت پاکستان کی کسی روایتی عدالت یا سول عدالت میں رکھی جائے تو بھارت کو منظور ہوگا۔ اس بیان کو پاکستان کی طرف سے ’جیت‘ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

آخری دن وکیل خاور قریشی نے سلائیڈز کا سہارا لیتے ہوئے اپنا بیان سامنے رکھا۔ اور اس دن تصدق جیلانی بھی عدالت میں موجود تھے۔

اب تک کی سماعت میں پاکستان کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا کہ اس کیس کے حقائق دیکھتے ہوئے کلبھوشن کو سفارتی سروسز نہیں دینی چاہیئں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان کے لیے نادر موقع

اس بارے میں احمر بلال صوفی نے کہا کہ ’پاکستان کے وزیرِ اعظم کا بیان بین الاقوامی قانون کے مطابق ایک متوازن بیان ہے جبکہ انڈیا کی طرف سے پلوامہ حملے کی تحقیقات ہوئے بغیر الزام لگانا بین الاقوامی قانون میں بھی دھمکی دینے کے مترادف ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان کو کلبھوشن جادھو کی سماعت کا ایک بین الاقوامی عدالت میں ہونے سے کافی فائدہ ہوا ہے۔ ’پاکستان اور انڈیا کے درمیان ساری باتیں اب بین الاقوامی عدالت میں بمع ثبوت ریکارڈ ہوگئی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اسی طرح پاکستان کو ایک موقع انڈیا کی طرف سے کشمیر کے مسئلے کو لے کر اقوامِ متحدہ جانے پر ملا تھا۔ ’انڈیا آج بھی اس بات پر پچھتاتا ہے کیونکہ اس طرح پاکستان کا بیانیہ زور پکڑتا ہے کہ انڈیا کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی مداخلت کرتا رہا ہے۔ لیکن یہ بات دونوں ملکوں میں ہونے کے باوجود ایک بین الاقوامی فورم پر ریکارڈ کی جارہی ہے۔‘

انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کی ساؤتھ ایشیا لیگل ایڈوائزر، ریما عمر کے مطابق، اس طرح کے کیسز میں بیان بازی سے زیادہ قانون کی شق پر بات ہو تو اچھا ہے۔ ’اس کیس میں کچھ باتیں ایسی ہوئیں جو نہیں ہونی چاہیے تھیں، جیسے نواز شریف نے ممبئی حملے کے بارے میں کہا، یا افضل گرو نے کیا کیا، ان دونوں باتوں کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اتنے بڑے کیس کی سماعت کے دوران مختلف باتوں پر بات کرنے سے آپ اپنی عوام کو بھی گمراہ کررہے ہیں۔ ’جب فیصلہ آئے گا اور وہ بیانیے سے مختلف ہوگا توعوام تو کہے گی کہ یہ کیا ہوا؟ ہم تو جیت رہے تھے؟ کیونکہ ہمارے وکیل نے تو انڈیا کو ہر بات کا جواب دے دیا تھا۔ پھر فیصلہ اس کے برعکس کیوں آیا؟‘

ریما نے کہا کہ انڈیا نے پہلی ڈیمانڈ رکھی تھی کہ ’جادھو کو رہا کریں، اگر رہا نہیں کرسکتے تو پھر سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیں۔ اور اگر آپ یہ بھی نہیں کرسکتے تو صرف ریویو کرنا کافی نہیں ہے، آپ پھر سے ٹرائل کا آرڈر سیویلین عدالت میں دیں کیونکہ ملٹری عدالت ایک منصفانہ فیصلہ نہیں کرسکتی۔‘

پاکستان کا اس کیس میں موقف ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ملٹری عدالتوں میں ہونے والے فیصلے پر نطرثانی کرسکتی ہیں۔ انڈیا اس بات کو نہیں مانتا۔

انھوں نے کہا کہ جادھو کے کیس میں سوال یہ اٹھے گا کہ اگر انھیں سفارتی رسائی دی جاتی تو کیا وہ اپنا دفاع بہتر طریقے سے کرسکتے تھے۔

اسی بارے میں