پاکستانی فوج کے دو اعلیٰ افسران جاسوسی کے الزامات میں گرفتار، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کورٹ مارشل

میجر جنر آصف غفور تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان فوج کے ترجمان نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستانی فوج کے دو اعلیٰ افسروں کے خلاف جاسوسی کے الزامات کی تحقیقات ہو رہی ہے۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ا ن خبروں کی تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فوج کے دو سینیئر افسران کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے افسران کسی نیٹ ورک کا حصہ نہیں ہیں اور یہ دونوں انفرادی کیسز ہیں۔ فوج کے ترجمان نے کہا کہ دونوں افسران کا مقدمہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں چل رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اعلیٰ افسران کی نشاندہی اور گرفتاری پاکستان کی کامیابی ہے کیونکہ ایسے معاملات ہوتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

بات چیت کا وقت ختم،اب کارروائی کا وقت ہے: مودی

حملے کی صورت میں جوابی حملہ کریں گے: عمران خان

پاکستان فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینٹ جنرل (ریٹائرڈ) اسد درانی کے خلاف ہونے والے انکوائری میں انھیں فوجی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جنرل اسد درانی جو اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے انھوں نےجس طریقے سے کتاب لکھی اور جس طرح کے روابط رکھے وہ ملٹری ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہا جنرل اسد درانی کی پینشن اور تمام مراعات ختم کر دی گئی ہیں لیکن ان سے ان عہدہ نہیں چھینا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کی طرف سے کسی قسم کے حملے کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بلکل تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا میں ایسی خبریں آ رہی ہے کہ پاکستان حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ ’ہم ایک خود مختار ملک ہیں اور اپنے دفاع کے لیے سب کچھ کرنے کا حق حاصل ہے۔‘

یہ بھی پڑھیئے

دی سپائی کرونیکلز: اسد درانی کا نام ای سی ایل میں شامل

انھوں نے کہا ماضی میں پاکستان سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں، لیکن پاکستان نے ان سے سبق سیکھا ہے اور آئندہ کوئی غلطی کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ جب بھی پاکستان میں کچھ اہم واقعات ہونے والے ہوتے ہیں تو انڈیا یا کمشیر میں ایسے واقعات ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا انڈیا کو سوچنا چاہیے کہ آخر کشمیریوں میں موت کا خوف ختم کیوں ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے انڈیا کی جانب سے فوری الزامات کا جواب دینے کے لیے کچھ وقت لیا کیونکہ ہم اپنی تحقیق کرنا چاہتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پلوامہ میں انڈین سکیورٹی فورس سی آر پی ایف پر خود کش حملے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں کشیدگی آئی ہے

انھوں نے کہا کہ انڈیا نے پاکستان کے قیام کے 72 سال بعد ابھی تک اسے دل سے قبول نہیں کیا ہے اور جب بھی پاکستان بہتر صورتحال میں پہنچتا ہے وہ اس کی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے جوہری طاقت بننے کے بعد جب بھارت پاکستان پر روایتی جنگ مسلط کرنے کی کی پوزیشن میں نہیں رہا تو اس نے ففتھ جنریشن وار کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کو ٹارگٹ کرنا شروع کیا ہے۔

انھوں نے کہا پاکستان فوج جنگ کی بھٹی سے گذری ہوئی فوج ہے۔ انھوں نے کہا پاکستان کی فوج نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ 'ہم نے خون کے سمندرسے گذر کر قوم کو جلا بخشی ہے۔'

انھوں نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن اگراس پر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان کو تیار پائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا ایک جمہوریت ہے اور جمہوریتیں جنگیں نہیں کرتیں۔ انھوں نے کہا انڈیا کو یہ بھی دھیان میں رکھنا چاہیے کہ ایک خطے میں ایک ملک ترقی نہیں کرتا بلکہ پورا خطہ اکھٹے ترقی کرتا ہے۔ انھوں نے کہا انڈیا اور پاکستان کے ہیومن سیکورٹی انڈیکس پر دھیان دینا چاہیے اور ا پنی آنے والی نسلوں کو بہتر معیار زندگی دینے پر توجہ دینی چاہیے۔

ایران کی جانب سے پاکستان پر الزامات کے حوالے سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ایران اور انڈیا کا موازنہ نہیں ہو سکتا۔ انڈیا کے ساتھ ہماری تاریخ ہے لیکن ایران ہمارا برادر ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ ہماری توجہ افغان بارڈر پر رہی ہے اس لیے ایران کے ساتھ بارڈر کو زیادہ توجہ نہیں دے سکے۔ ایران کے ساتھ ہماری 900 کلومیٹر بارڈر ہے اور ہماری فوج نہیں لگی ہیں کیونکہ ہمیں وہاں سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا پاکستان اور ایران سرحد پر باڑ لگانے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات