’ہسپتال پہنچا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے نہیں رہے‘

فیصل کاکڑ بچوں کے ہمراہ تصویر کے کاپی رائٹ FB Faisal Kakar

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے ہلاک ہونے والے پانچ کم سن بچوں کے والد فیصل کاکڑ کا کہنا ہے کہ زیادہ طبیعت خراب ہونے کے باعث انہیں سب سے زیادہ فکر اہلیہ کی تھی، لیکن جدائی کا غم بچے اور بہن دے کر گئے۔

بلوچستان میں اپنے آبائی علاقے، خانوزئی، میں بچوں کی تدفین کے بعد واقعے کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر کے علاقے میں واقع ہوٹل میں قیام کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

زہریلا کھانا کھانے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھ ہو گئی

’کراچی کے ریستوران کا کھانا ہی بچوں کی موت کی وجہ بنا‘

انہوں نے بتایا کہ رات کو بچوں نے بریانی کھانے کی فرمائش کی جس پر انہوں نے صدر میں واقع ریسٹورنٹ سے ان کے لیے بریانی منگوائی۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ زیادہ تھک گئے تھے اس لیے وہ سو گئے۔ رات دو بجے کے لگ بھگ ان کا بڑا بیٹا اپنی والدہ کو پکار رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ اٹھ کر گئے تو ان کے بیٹے کو قے ہو رہی تھی جبکہ ان کی اہلیہ بے ہوش تھیں، جس پر انہوں نے اپنی بہن کو جگایا تاکہ وہ بچوں کو سنبھال سکے۔

فیصل کاکڑ کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی کمزوری محسوس کر رہے تھے تاہم وہ سمجھے کہ وہ شاید گھبراہٹ کے باعث ایسا محسوس کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کو لے کر ہسپتال چلے گئے جہاں ان کا علاج شروع ہو گیا، تاہم وہ اس دوران اپنی بہن کے ساتھ رابطے میں رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فجر کو جب انہوں نے بہن کو فون کیا تو بہن نے بتایا کہ بچوں کی حالت ٹھیک ہے لیکن انہیں قے آ رہی ہے۔ ’جس پر میں نے انہیں کہا کہ میں آرہا ہوں۔‘

فیصل کاکڑ نے بتایا کہ صبح ساڑھے سات بجے کے قریب انہیں فون پر بہن کا پشتو میں یہ پیغام آیا کہ ان کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے اس لیے جلدی پہنچو۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ہسپتال سے دوبارہ ہوٹل کے لیے نکلے اور جب وہاں پہنچے تو بہن کمرے کا دروازہ کھولنے کے بعد بستر پر گر گئی۔

انہوں نے کہا کہ وہ سمجھے کہ ان کا بڑا بیٹا اور بیٹی دونوں سو رہے ہیں۔

فیصل کاکڑ نے مزید بتایا کہ وہ اپنی بہن کو اٹھا نہیں سکتے تھے جس پر وہ باہر گئے اور ہوٹل کے عملے سے مدد طلب کی، اور پھر جب وہ بہن اور پانچوں بچوں کو ہوٹل سے ہسپتال لے کر پہنچے تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے دنیا میں نہیں رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کی تدفین کے لیے واپس اپنے گھر پہنچے جہاں رات کو دو بجے رشتہ داروں نے بتایا کہ ان کی بہن بھی فوت ہوگئی ہیں۔

فیصل کاکڑ نے صحافیوں سے گفتگو میں حکومت سے درخواست کی کہ اس معاملے کو دبایا نہ جائے بلکہ اس کی صحیح معنوں میں تحقیقات کی جائیں۔

بچوں کی لاشوں کو سندھ حکومت کی جانب سے نیوی کے ایک طیارے میں کوئٹہ پہنچایا گیا تھا، جہاں سے بذریعہ سڑک انہیں خانوزئی پہنچایا گیا۔

یہ علاقہ کوئٹہ سے شمال مشرق میں 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

بچوں اور ان کی پھوپھی کی ہلاکت پر علاقے کے ہر شخص کی آنکھ اشک بار تھی اور لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے ان کے جنازے میں شرکت کی۔

بظاہر پانچوں بچوں اور ان کی پھوپھی کی موت ریسٹورنٹ سے لائے جانے والے کھانا کھانے کے بعد واقع ہوئی اس لیے ان کی موت کی ایک وجہ مبینہ طور پر مضر صحت کھانا بتائی جارہی ہے تاہم ان کی موت کی اصل وجہ میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد معلوم ہوسکے گی۔

کراچی پولیس اس واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کررہی ہے۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت کی جانب سے سندھ حکومت سے اس سلسلے میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں