کراچی: طالبہ کی ہلاکت، تحقیقات شروع

طالبہ ہلاک تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’پولیس کو اپنی طاقت کا مناسب استعمال کرنا چاہیے۔ گولی چلانا ان کا آخری حربہ ہونا چاہیے، پہلا نہیں۔‘

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گزشتہ شب کراچی میں پولیس اور مبینہ ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والی فائرنگ کی زد میں آ کر 22 سالہ میڈیکل کی طالبہ نمرہ بیگ کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب کراچی پولیس کے سربراہ امیر شیخ نے واقعے کے بعد انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو واقعے کے بعد سامنے آنے والے دو مختلف بیانات کی جانچ پڑتال کرے گی۔

واقعہ کب اور کیسے رونما ہوا؟

پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے سخی حسن میں رات ساڑھے نو بجے پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس ان کا تعاقب کرتے ہوئے انڈہ موڑ میں واقع ڈگری کالج کے قریب پہنچی جہاں دوبارہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

’کاش کسی ماں باپ کو ایسی بہادری کا مظاہرہ نہ کرنا پڑے‘

’امل عمر بل‘ پر والدین کو اعتراض

طالب علم کی ہلاکت پر امریکی سفیر سے احتجاج

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس چیف امیر شیخ نے کہا کہ ’شاہراہِ نورجہاں پر ڈاکو لوٹ مار کررہے تھے اور اسی اثنا میں ایک رکشہ میں سوار لڑکی وہاں سے گزر رہی تھی۔ ڈاکوؤں نے جاتے ہوئے پولیس پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پولیس کی طرف سے بھی فائرنگ کی گئی۔ ایک گولی بچی کے سر کے دائیں حصے میں لگی۔ مجھے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بچی کو ڈاکو کی پستول سے چلنے والی گولی لگی جس کے نتیجے میں اس کی ہلاکت ہوئی۔‘

امیر شیخ کے مطابق میڈیکو لیگل رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ نمرہ کی موت چھوٹے ہتھیار کی گولی سے ہوئی جس کا سکہ ان کے سر سے برآمد نہیں ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس ایس ایم جی ہتھیار جبکہ ڈاکوؤں کے پاس ٹی ٹی پستول تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والا اس نوعیت کا یہ چوتھا واقع ہے

پہلا بیان ایک شہری کی طرف سے آیا جس میں اس نے کہا کہ ڈاکو متواتر فائرنگ کررہے تھے جس کے نتیجے میں نمرہ کی ہلاکت ہوئی۔ امیر شیخ نے کہا کہ ’دوسرا بیان آج صبح سامنے آیا جس میں میڈیا کے چند دوست جب بچی کے گھر گیے تو وہاں ایک خاتون نے کہا کہ وہ واقع کی عینی شاہد ہیں اور نمرہ کی موت پولیس کی گولی لگنے سے ہوئی ہے۔‘

واقعے کی جانچ کے لیے انکوائری کمیٹی

پولیس چیف امیر شیخ کی طرف سے ڈی آئی جی سی آئی اے عارف حنیف کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں ڈی آئی جی ویسٹ، ایس ایس پی سپیشل انویسٹیگیشن یونٹ اور ایس ایس پی ٹریفک سمیع اللہ سومرو شامل ہیں۔ انکوائری کمیٹی تین دن کے اندر رپورٹ جمع کروائے گی۔

حالیہ دنوں میں کراچی میں پیش آنے والا چوتھا واقعہ

وزیرِ اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے قانون مرتضیٰ وہاب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آج وزیرِ اعلیٰ نے اس واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ لیکن جب انکوائری کمیٹی کی رپورٹ منظرِ عام پر آئے گی تب ہی کوئی کارروائی کی جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس محدود اختیارات ہیں اور ہم بار بار پولیس کو کہتے رہے ہیں کہ ان کو اپنی طاقت کا مناسب استعمال کرنا چاہیے۔ گولی چلانا ان کا آخری حربہ ہونا چاہیے، پہلا نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حال ہی میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس نے وزیرِ اعلیٰ سندھ کو یقین دہانی بھی کروائی تھی کہ پولیس فورس اب بڑے ہتھیار کا کم سے کم استعمال کرے گی اور اسی وجہ سے 70 فیصد ہتھیار تبدیل کیے جا چکے ہیں۔‘

نمرہ بیگ آخری سال کی طالبہ تھیں

واقعے میں ہلاک ہونے والی نمرہ بیگ ڈاؤ میڈیکل کالج میں فائنل ائیر کی طالبہ تھیں۔ ان کے بھائی کے بیان کے مطابق گھر والوں کو صرف نمرہ کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی اور ہسپتال جا کر ان کو پتا چلا کہ نمرہ ہلاک ہوچکی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں