آمنہ مفتی کا کالم: دوستی جرم نہیں دوست بناتے رہیے!

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سیاسی ماہرین آج کل جنگ کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کو تو جنگی جہاز سنائی اور دکھائی بھی دے گئے۔ جنگ کے باقی شائقین کے لیے سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا نے بھی خوب اہتمام کر رکھا ہے۔ بقول شخصے 'رونق' لگی ہوئی ہے اور 'شغل میلہ' جاری ہے۔

یہ سارا قضیہ، پلوامہ میں ہونے والے خود کش حملے اور اس کے نتیجے میں مارے جانے والے انڈین سپاہیوں کی موت کے بعد شروع ہوا۔

انڈیا سے لمحہ بھر کی تاخیر کے بغیر پاکستان پر الزام لگا دیا گیا۔ عقل کہتی ہے کہ ایسے وقت میں جب پاکستان، سعودی ولی عہد کے استقبال کی تیاری کرنے اور خود پر لگے مختلف طرح کے داغ دھونے میں مصروف تھا یہ حملہ کرانا کوئی دانش مندی نہیں تھی۔

اس حملے سے اگر کسی کو فائدہ ہوتا ہے تو وہ مودی حکومت ہے۔

سیاست میں ایک بہت بڑی حکمتِ عملی 'مشترکہ دشمن' یا 'متھ' ہوتا ہے۔ یہ مشترکہ دشمن ہر محرومی، ظلم اور ہر زیادتی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ 'مشترکہ دشمن' تیار کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک گروہ متحد ہو کے خود پر مسلط اشرافیہ کو پہچانے بغیر اس نادیدہ دشمن کے خلاف اپنا غصہ اور نفرت نکالتا رہتا ہے۔

آمنہ مفتی کے مزید کالم پڑھیے

’اعلانیہ گرفتاریاں ہوں، چپکے سے غائب نہ کیا جائے‘

’طیبہ بچ گئی، عظمیٰ نہیں بچ پائی‘

مجاہدین، طالبان، دہشت گرد، حکمران!

غیر تربیت یافتہ پولیس!

آئندہ میں صرف اچھی عورتوں کے قصے لکھوں گی

تصویر کے کاپی رائٹ PM HOUSE

جس طرح کالونیل دور، 'تقسیم کرو اور حکومت کرو' کے نعرے کے لیے بدنام تھا اسی طرح آ زادی کے بعد، انڈیا اور پاکستان میں ملکی اتحاد کے لیے سرحد کے آر پار ایک دشمن کھڑا کر دیا گیا۔ کشمیر کے مسئلے کو انڈیا میں ہمیشہ پاکستان کی جانب سے اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے طور پر دیکھا گیا۔

پاکستان میں بنگال کی علیحدگی کو انڈیا کے سر باندھا گیا اور اپنی کوتاہیوں پر کسی نے نظر نہ کی۔ 30 سال گزرنے کے بعد بھی حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ مکمل شکل میں سامنے نہیں آ سکی۔ بلوچستان میں دہرائی جانے والی غلطیوں کو بھی انڈیا کی پشت پناہی کے سر ڈالا جاتا ہے۔

چونکہ دونوں ممالک کے حکمران ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں اس لیے آج کل انڈیا میں پلوامہ حملے کی اصل وجوہات پر بات ہونے کی بجائے پاکستان کی جانب منھ کر کے بکرے بلائے جا رہے ہیں۔

گو یہاں سے جوابی کارروائی بھی جاری ہے لیکن اس تمام طوفانِ بد تمیزی میں لکھنے پڑھنے والوں اور فنکاروں کو گھسیٹنا اور ان کا ملوث ہونا بے حد تکلیف دہ ہے۔

دونوں ممالک کی عوام نے جنگ نہیں دیکھی۔ بنگال کی علیحدگی، ایک ہلتے ہوئے، جڑ سے الگ ہوئے دانت کے نکلنے کی تکلیف کے برابر تھی جو پہلے ہی گرنے والا تھا۔

سنہ 1965 کی چند روزہ لڑائی جس کے گن گاتے ہم نہیں تھکتے اور کارگل کا شب خون جس پر بغلیں بجاتے ہمارے سرحد پار کے دوست، نازاں رہتے ہیں، جنگیں نہیں تھیں۔

یہ تو جنگوں کے ٹریلر بھی نہیں تھے۔ جنگیں وہ ہوتی ہیں جو ملکوں کی آبادیاں ختم کر دیتی ہیں۔ وہ سلطنتیں جن پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا محکوموں کو دینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ جنگ وہ ہوتی ہے جو جاپان نے دیکھی۔ ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے رہنے والوں نے دیکھی۔

جنگ کا رومانس افغانستان کی ان نسلوں سے پوچھیں جو کیمپوں میں پروان چڑھیں اور جنھوں نے کبھی معاشرہ نہیں دیکھا۔ یمن اور شام کے لوگوں سے پوچھیں جن پر خدا کی زمین تنگ ہو گئی ہے اور فلسطین اور اسرائیل سے پوچھیں جو ایک دادا کی اولاد ہو کے اپنے ہی خطے کو آ گ اور خون میں جھونک بیٹھے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالات معمول پر لانا ہوں گے اور اس کے لیے کشمیر کا مسئلہ حل ہونا ضروری ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک دونوں ملکوں کی عوام ایک دوسرے کے قریب نہیں ہوں گے ۔ عوام کو قریب لانے کا واحد ذریعہ فنکاروں، ادیبوں اور دانشوروں کا تبادلہ ہے۔

پاکستان میں اور کچھ عرصہ پہلے تک انڈیا میں بھی فنکاروں اور لکھنے والوں کا کھلے بازوؤں سے استقبال کیا جاتا تھا لیکن اب جس طرح انڈیا میں کھلاڑیوں اور فنکاروں کی تذلیل کی جا رہی ہے منیزہ ہاشمی کو پچھلے سال ایک کانفرنس میں بات کرنے سے بھی روک دیا گیا اور انھیں عجلت میں انڈیا چھوڑنا پڑا (اس سے پہلے یہ سلوک ایک اور خاتون ادیب کے ساتھ بھی کیا گیا) انڈین دوستوں کو اس پر احتجاج کرنا چاہیے، نہ کہ اس رویے سے خوفزدہ ہو کے پاکستان آنا چھوڑ دیں؟

شبانہ اعظمی نے میرے ڈرامے 'آخری سٹیشن' کے لیے ایک نظم پڑھی تھی 'مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے۔‘ اس نظم کی ادائیگی میں وہ ایک مضبوط آزاد خاتون کے طور پر کھڑی نظر آ تی ہیں۔ عورت صرف مرد ہی سے اپنے جینے کاحق نہیں مانگتی، عورت بطور ماں، اس دنیا میں امن بھی چاہتی ہے۔ اس دنیا کو ایک ایسی جگہ بنانا چاہتی ہے جہاں اس کی آ نے والی نسلیں بے خوف و خطر پروان چڑھ سکیں۔

ہمارا احتجاج یہ ہی ہو سکتا ہے کہ ہم سرحد کے آ ر پار محبت، امن اور دوستی کا ذکر کرتے رہیں۔ ان کی ناں کے سامنے اپنی ہاں بلند کرتے رہیں یہاں تک کہ صرف ہماری ہاں باقی رہ جائے۔

’آ پ بھی آئیے، ہم کو بھی بلاتے رہیئے

دوستی جرم نہیں، دوست بناتے رہیئے‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں