کراچی: پولیس اور مبینہ ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ میں ہلاک ہونے والی طالبہ نمرہ بیگ کے لواحقین انصاف کے منتظر

  • محمد زبیر
  • صحافی
نمرہ بیگ
،تصویر کا کیپشن

22 سالہ طالبہ نمرہ بیگ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ڈاکٹر آف پیتھالوجی کی فائنل ائیر کی طالبہ تھیں

دو روز قبل کراچی میں پولیس اور مبینہ ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والی 22 سالہ طالبہ نمرہ بیگ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ڈاکٹر آف پیتھالوجی کی فائنل ائیر کی طالبہ تھیں۔

سندھ حکومت نے ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم صادر کیا ہے جبکہ اعلیٰ پولیس حکام نے اس حوالے سے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔

مزید پڑھیے

ہلاک ہونے والی نمرہ بیگ کے چھوٹے بھائی 21 سالہ حسن بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ جس روز فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اس دن سب گھر والوں نے کسی تقریب میں شرکت کرنا تھی مگر نمرہ کو یونیورسٹی میں کوئی ضروری کام تھا۔

’میں اس کو مجبور کرتا رہا کہ وہ یونیورسٹی کی سرگرمی چھوڑے مگر اس نے ایسا کرنے سے انکار کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ یونیورسٹی جائے گی۔ مگر واپسی پر یہ واقعہ پیش آ گیا۔‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

میری بہن خود مختار اور انتہائی ہنس مکھ تھیں‘

حسن بیگ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے والد بچپن میں وفات پا گئے تھے جس کے بعد ہمارے ماموں ہمیں اپنے گھر لے آئے۔ ہماری والدہ نجی کالج میں لیکچرارکی حیثیت سے ملازمت کرکے ہماری پڑھائی اور دیگر اخراجات اٹھاتی تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فائنل ائیر میں پہنچتے ہی نمرہ نے اپنی والدہ سے کہنا شروع کردیا تھا کہ ’بس اب تھوڑے دن رہ گئے ہیں، اب میں ملازمت کروں گی اور آپ گھر میں آرام کریں گی، جبکہ نمرہ نے سی ایس ایس کی تیاری بھی شروع کردی تھی۔‘

’وہ بہت زیادہ خود اعتماد، خود مختار اور انتہائی ہنس مکھ طبعیت کی مالک تھیں۔ بہت جلد دوست بنا لیا کرتی تھیں۔ اپنے کپڑوں اور میک اپ کا بہت خیال رکھتی تھی، ہمیشہ بہترین فیشن کا لباس زیب تن کرتی تھی۔ اکثر بازار میں اپنی خریداری اپنی مرضی سے کرتی تھی۔ والدہ اکثر اس کو زیادہ شاپنگ کروایا کرتی تھیں۔ وہ تھی بھی والدہ کے بہت زیادہ قریب، والدہ کا بھی بہت زیادہ خیال رکھتی تھی۔‘

حسن کا کہنا تھا کہ اکثر چھوٹی چھوٹی چیزوں پر میری اس کے ساتھ لڑائی ہوتی تھی جس پر میں اس کو جعلی ڈاکٹر کہتا تو وہ چڑ جایا کرتی تھی۔

،تصویر کا کیپشن

نمرہ بیگ اپنے ماموں محمد ذکی خان کے ہمراہ

نمرہ اپنے ماموں کی بھی لاڈلی تھی

نمرہ بیگ کے بڑے ماموں محمد ذکی خان نے اپنی لاڈلی بھانجی کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ ’نمرہ جیسی بچی میں نے کبھی نہیں دیکھی، وہ زندگی کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرتی تھی۔‘

’ہم واقعے سے چند روز قبل پِکنک پر گئے تھے جہاں وہ بہت خوش تھی۔ وہ ہماری آنکھوں کا تارہ تھی۔‘

ان کے ماموں نے مذید بتایا کہ فائنل ائیر میں ہونے کی وجہ سے اس کو کئی ہسپتالوں سے ملازمت کی پیشکش بھی تھی۔ ان میں سے وہ کسی ایک کو قبول بھی کرنا چاہتی تھی، مگر اس کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ملازمت قبول کرنے میں جلد بازی نہ کرے بلکہ بہتر ہوگا کہ سی ایس ایس کا امتحان دے تو اس نے یہ مشورہ مان لیا اور آج کل وہ دن رات سی ایس ایس کی تیاری میں مشغول تھیں۔

ہمیں شک ہوا کہ یہ معاملہ گڑبڑ ہے

محمد ذکی خان کا کہنا تھا کہ ’ان کی اطلاعات کے مطابق واقعہ جمعے کے روز لگ بھگ نو بجے کے قریب پیش آیا۔ میں ٹیلی وژن دیکھ رہا تھا کہ ٹیلی وژن پر چلنے والی خبروں میں نمرہ کا نام پڑھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’نام پڑھنے کے باوجود میں سمجھ رہا تھا کہ نمرہ گھر ہی میں ہے اور میں نے اسے آواز لگائی تو جواب ملا کہ وہ تو یونیورسٹی اسائمنٹ پر گئی ہوئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے نمرہ کو فون ملایا تو کسی نامعلوم فرد نے کال اٹھائی اور پوچھا کہ فون والی بچی سے رشتہ کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ ماموں ہوں تو اس نے کہا کہ عباسی شہید ہسپتال پہنچ جائیں۔

’جب عباسی شہید پہنچا تو پتا چلا کہ جناح ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔‘

’جناح ہسپتال پہنچے تو موقع پر موجود ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ جب نمرہ ہسپتال پہنچی تو اس کی سانس اور نبض رکی ہوئی تھی، دل کی دھڑکن بند ہو چکی تھی۔‘

محمد ذکی خان نے بتایا کہ جناح ہسپتال میں وہ چاہ رہے تھے کہ ڈریسنگ کو کھول کر دیکھیں کہ کیا زخم ہے، کیسا زخم ہے، گولی کون سے لگی ہے، گولی اندر ہی ہے کہ نکل چکی ہے، مگر ہمیں وہاں پر کسی نے بھی ڈریسنگ کھول کر دیکھنے کی اجازت نہیں دی تھی، بلکہ ایک ڈاکٹر تین، چار گھنٹے تک ہمیں مسلسل یہ بتاتی رہیں کہ گولی لگ کر نکل چکی ہے۔

البتہ جب نمرہ کو کفن پہنایا جارہا تھا تو اس وقت عملے کی ایک خاتون سے پوچھا کہ کیا گولی لگ کر نکل چکی ہے تو انھوں نے بتایا کہ نہیں گولی تو اندر ہی ہے۔

جب ڈاکٹر اور سٹاف کی باتوں میں تضاد سامنے آیا تو ہمیں شک ہوا کہ یہ معاملہ گڑبڑ ہے۔

پولیس کا موقف

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس چیف امیر شیخ نے کہا کہ 'شاہراہِ نور جہاں پر ڈاکو لوٹ مار کر رہے تھے اور اسی اثنا میں ایک رکشہ میں سوار لڑکی وہاں سے گزر رہی تھی۔

ڈاکوؤں نے جاتے ہوئے پولیس پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پولیس کی طرف سے بھی فائرنگ کی گئی۔ ایک گولی بچی کے سر کے دائیں حصے میں لگی۔ مجھے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بچی کو ڈاکو کی پستول سے چلنے والی گولی لگی جس کے نتیجے میں اس کی ہلاکت ہوئی۔'

’ہمیں تو انصاف چاہیے‘

محمد ذکی خان نے کہا کہ ان کے پاس موقعے پر موجود ایک گواہ بھی سامنے آئے ہیں۔ وہ اپنا بیان دینے کو تیار ہیں مگر میڈیا کے سامنے نہیں آنا چاہتے۔

انھوں نے ہمیں بتایا ہے کہ ’گواہ کے بقول وہ انڈہ موڑ کے قریب کھڑے تھے۔ نمرہ جس رکشے میں سوار تھیں وہ تھوڑا آگے تھا، رکشے سے پیچھے تھوڑا فاصلے پر ڈکیت تھے اور ان سے پیچھے پولیس والے تھے۔ پولیس والے اس مقام پر تھے جہاں پر ایک نجی ہوٹل واقع ہے۔ وہاں سے پولیس والے نے فائر کیا جو کالج کی دیوار پر جا کر لگا، جس کے بعد پولیس والے آگے آئے اور انھوں نے دوسرا فائر کیا جس سے رکشے میں موجود لڑکی گر گئی، جو کہ نمرہ بیگ تھی۔‘

’دیکھیں نمرہ طالبہ تھی وہ تعلیم حاصل کرنے گئی تھی۔ جس ملک میں طالب علم پڑھنے جائیں اور گھر میں لاش واپس آئے تو اس ملک کا کیا مستقبل ہوگا؟‘

’ہمیں تو انصاف چاہیے ہر صورت میں انصاف چاہیے، سوئم کے بعد انصاف کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔‘