نواز شریف کی العزیزیہ ریفرینس میں طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست مسترد

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف اس وقت لاہور کے جناح ہسپتال میں زیر علاج ہیں

اسلام آباد ہائی کورٹ العزیزیہ سٹیل مل ریفرینس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے محض ایک ہی سطر کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے طبی بنیادوں پر دی جانے والی ضمانت کی درخواست مسترد کی۔

بعدازاں عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایسے مخصوص حالات ثابت نہیں ہوئے جس کی وجہ سے مجرم نواز شریف کو ضمانت دی جا سکے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو علاج کی سہولت دی جا رہی ہے اور مجرم کو ایسی کوئی بیماری لاحق نہیں ہے جس کا علاج ملک میں ممکن نہ ہو۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سات برس قید، فلیگ شپ میں بری

’بتائیں نواز شریف کو کیوں ضمانت دیں‘

’نواز شریف کےحوصلے بلند مگر صحت ساتھ نہیں دے رہی‘

’ابھی نواز شریف کی اینجیو گرافی کا فیصلہ نہیں ہوا‘

اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ عدالت عظمی کے حالیہ فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے نواز شریف کو ضمانت پر رہائی نہیں دی جا سکتی۔ ان مقدمات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن اور میاں نذیر اختر کے مقدمات قابل ذکر ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایک مقدمے کے فیصلے میں لکھا ہے کہ اگر کسی مجرم کو جیل میں یا ہستپال میں طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہوں تو ایسے شحص کو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صوبہ پنجاب کے محکمۂ داخلہ کے ذمہ داران اور دیگر متعلقہ حکام نے عدالت کو بتایا ہے کہ میاں نواز شریف کو ہسپتال میں تمام ممکنہ طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجرم نواز شریف کے لیے ایسے غیر معمولی حالات نہیں کہ اُنھیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔

خیال رہے کہ العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں احتساب عدالت کی طرف سے نواز شریف کو ملنے والی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت نو اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

نامہ نگار کے مطابق مسلم لیگ ن کی جانب سے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اس سلسلے میں قانونی راستہ اپنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

فیصلے کے بعد عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا انھیں عدالتی فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے لیکن ان کی جماعت نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کا احترام کیا ہے اور وہ اس فیصلے کا بھی احترام کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اُمید تھی کہ عدالتِ عالیہ نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور کر لے گی لیکن ایسا نہیں ہوا، لہٰذا اب دیگر قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست مسترد ہونے کے بعد اب اس فیصلے کے خلاف ملک کی عدالتِ عظمیٰ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔

فیصلے کے موقع پر مریم نواز نے ٹوئٹر پر پیغام میں ایک شعر کے ذریعے اپنے جذبات کو بیان کیا اور کہا کہ دعا کرتی رہنی چاہیے۔ اس سے قبل اتوار کو ہسپتال میں نواز شریف سے ملاقات کے موقع پر انھوں نے امید ظاہر کی تھی کہ عدالت ان کے والد کی درخواست منظور کر لے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دلائل سننے کے بعد 20 فروری کو اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ احتساب عدالت نے 24 دسمبر کو العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو سات سال قید اور تقریباً پونے چار ارب روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

اس کے علاوہ انھیں دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

عدالت نے میاں نواز شریف کی درخواست پر انھیں اڈیالہ جیل کی بجائے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

Image caption فیصلہ آنے کے بعد مسلم لیگ ن کے کارکن عدالت کے باہر نعرے بازی کرتے رہے

ضمانت کی درخواست پر گذشتہ سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل واجہ حارث نے کہا تھا کہ نواز شریف کی تمام طبی رپورٹس سے واضح ہے کہ انھیں انتہائی نگہداشت میں رکھنے کی ضروت ہے۔

’نواز شریف کے دل کی حالت تسلی بخش نہیں ہے‘

نواز شریف کی طبیعت ناساز، جیل سے پیغام جاری

’جیل تو جانا ہے دعا کرو پیروں پر چل کر جائیں‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف کی بیماری ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس پر چھپن چھپائی کا کھیل نہیں ہونا چاہیے۔

نواز شریف اس وقت لاہور کے جناح ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ان کی صحت کے بارے میں تشکیل دیے جانے والے میڈیکل بورڈ نے اپنی سفارشات محکمۂ داخلہ کو بجھوا دی ہیں جس میں سابق وزیراعظم کی انجیو گرافی کروانے کی تجویز دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہی نواز شریف کی اپیل پر ایون فیلڈ ریفرینس میں انھیں دی جانے والی سزا کی معطلی کا فیصلہ دیا تھا جس کے خلاف سپریم کورٹ میں نیب کی جانب سے کی جانے والی اپیل مسترد کر دی گئی تھی۔

تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں نواز شریف کو ضمانت ملنے پر سپریم کورٹ نے اس نکتے پر تنقید کی تھی کہ عدالت کو ضمانت کی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے مقدمے کے محرکات پر نہیں جانا چاہیے۔

اسی بارے میں