طالبان مذاکراتی ٹیم میں کون کیا ہے؟

افغان طالبان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان کے ایک بانی رہنما ملا عبدالغنی برادر کی قطر میں مذاکرات کے نئے دور سے پہلے ملاقات ہوئی ہے۔ یہ ان دونوں کی پہلی ملاقات تھی۔

افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا پانچواں دور خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہورہا ہے۔

افغان طالبان کی طرف سے گذشتہ دنوں جاری کردہ ایک اعلامیہ میں امریکہ سے بات چیت کے لیے 14 رکنی مذاکراتی ٹیم کا اعلان کیا گیا تھا جن میں اکثریت کا تعلق قطر کے سیاسی دفتر سے بتایا گیا ہے۔ اس اعلامیہ میں قطر دفتر کی سربراہی ملا عبد الغنی برادر کی سپرد کی گئی تھی۔

طالبان کے مذاکراتی ٹیم میں کون کون شامل ہے؟

شیر محمد عباس ستانگزئی

شیر محمد عباس ستانگزئی کا تعلق افغانستان کے صوبے لوگر سے بتایا جاتا ہے۔ وہ طالبان مذاکراتی ٹیم کے سب سے زیادہ اہم نمائندے سمجھے جاتے ہیں۔

ستانگزئی نے کالج تک تعلیم افغانستان سے حاصل کی تاہم ستر کی دہائی میں وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے سکالرشپ پر انڈیا گئے جہاں سے انھوں نے ملٹری سکول سے ڈگری حاصل کی۔

افغانستان میں جب روس کے خلاف جہاد شروع ہوا تو وہ پاکستان آگئے اور یہاں کئی سال تک مقیم رہے۔ عباس ستانگزئی سابق افغان صدر برہان الدین کی جماعت جمعیت اسلامی کا حصہ بھی رہے تاہم بعد میں وہ عبد الرب رسول سیاف کی جماعت اتحاد اسلامی میں شامل ہوئے۔

تاہم جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو انھوں نے طالبان تحریک میں شمولیت اختیار کرلی اور حکومت میں ڈپٹی وزیر خارجہ سمیت اہم عہدوں پر فائز رہے۔

عباس ستانگزئی فوجی امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک عرصے سے طالبان کے سیاسی امور کے نگران بھی رہے ہیں۔

ان کے بارے میں یہ بات کی جاتی ہے کہ وہ کئی زبانوں کو جانتے ہیں لیکن انگریزی زبان پر انہیں خاص دسترس حاصل ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ماضی میں مختلف افغان جماعتوں کی ضرورت رہے ہیں۔

مولوی ضیاء الرحمان مدنی

ان کا تعلق افغانستان کے صوبے تخار سے ہے۔ وہ تاجک قبیلے سے بتائے جاتے ہیں۔ مولوی ضیاء الرحمان مدنی طالبان حکومت میں تخار صوبے کے گورنر رہ چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو افغانستان کے شمالی علاقوں میں طالبان کے کئی اہم کمانڈر پھنس گئے تھے جنہیں نکالنے میں مولوی ٰضیاء الرحمان نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ افغانستان کے شمالی علاقوں میں ایک اہم سیاسی شخصیت کے طورپر جانے جاتے رہے ہیں۔

مولوی عبد الاسلام حنفی

ان کا تعلق جوزجان صوبے کے ازبک قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ وہ ابتداء ہی سے طالبان تحریک کا حصہ رہے ہیں۔ تاہم عام طورپر وہ طالبان میں ایک عالم دین کے حیثیت سے مشہور ہیں۔ انھوں نے مختلف دینی مدرسوں سے تعلیم حاصل کی۔ وہ کراچی میں بھی ایک دینی مدرسے سے تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ مولوی عبد الاسلام حنفی کچھ عرصہ تک کابل یونویرسٹی میں استاد کی حیثیت سے بھی پڑھاتے رہے ہیں۔ وہ طالبان حکومت میں محکمہ تعلیم کے نائب وزیر کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔

شیخ شہاب الدین دلاور

ان کا تعلق لوگر صوبے سے بتایا جاتا ہے۔ وہ خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے دینی مدرسے دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل ہیں۔ شیخ شہاب الدین بیشتر اوقات پشاور میں درس و تدریس کے شعبے سے منسلک رہے ہیں اور اس دوران وہ پشاور میں ایک دینی مدرسہ بھی چلاتے رہے ہیں۔ تاہم نوے کے عشرے میں جب افغانستان میں طالبان کا ظہور ہوا تو یہ ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ بعد میں وہ طالبان حکومت میں پاکستان اور سعودی عرب میں سفیر کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔ وہ افغان قونصلیٹ پشاور میں کونسل جنرل کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے ہیں۔

ملا عبد الطیف منصور

ان کا تعلق افغانستان کے صوبے پکتیا سے ہے۔ وہ افغان جہاد کے مشہور کمانڈر مولوی نصر اللہ منصور کے بھتیجے بتائے جاتے ہیں۔ وہ طالبان حکومت میں لوگر صوبے کے گورنر اور طالبان سیاسی کمیشن کے اہم رکن رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے!

’طالبان کے بانی رکن ملا برادر مذاکرات کے لیے قطر پہنچ گئے‘

’افغان طالبان کے وفد کو پاکستان جانے سے روک دیا گیا`

امن مذاکرات: طالبان نے اسلام آباد کا دورہ کیوں منسوخ کیا؟

ملا عبدالمنان عمری

ان کا تعلق افغانستان کے صوبے اورزگان سے ہے۔ وہ طالبان تحریک کے سربراہ ملا محمد عمر کے بھائی ہیں۔ انھیں طالبان کے سابق سربراہ ملا اختر منصور کے دور میں کچھ ذمہ داریاں سونپ دی گئی تھیں۔ تاہم بیشتر اوقات وہ منظر سے غائب رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

مولوی امیر خان متقی

ان کا تعلق افغان صوبے پکتیکا سے ہے۔ وہ افغان جہاد کے دوران مولوی محمد بنی محمدی کی جماعت کا حصہ رہے تاہم جب طالبان تحریک ظہور پزیر ہوئی تو یہ اس میں شامل ہوگئے۔ امیر خان متقی طالبان حکومت میں اطلاعات کے وزیر کے اہم عہدے پر فائز رہے۔ موجودہ حالات میں بھی وہ طالبان کے محکمہ اطلاعات کے سربراہ سمجھے جاتے ہیں اور طالبان کے تمام ترجمان ان کے ماتحت ہیں۔ وہ طالبان کے مختلف کمیشنوں کی سربراہی کرتے رہے ہیں جبکہ ان پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی طرف سے سفری پابندیاں بھی عائد ہیں۔

ملا محمد فاضل مظلوم

ان کا تعلق افغانستان کے صوبے اورزگان سے بتایا جاتا ہے۔ وہ طالبان حکومت میں ملٹری کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہے۔ ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ طالبان کے دور میں ان کی طرف سے ہزارہ اور شعیہ برادریوں پر لاتعداد مظالم ڈھائے گئے اور ان کو ناحق قتل کیا گیا۔ وہ امریکی جیل گوانتانامو میں بھی قید رہ چکے ہیں۔ تاہم 2018 میں جب طالبان کی طرف سے یرغمال بنائے جانے والے امریکی شہری بوئی برگودال کو رہا کیا گیا تو اس کے بدلے میں گوانتانامو میں قید پانچ طالبان قیدیوں کی بھی رہائی عمل میں لائی گئی جن میں محمد فاضل مظلوم بھی شامل تھے۔

ملا خیراللہ خیرخواہ

ان کا تعلق افغان صوبے قندھار سے ہے۔ وہ افغان جہاد کے دوران مولوی یونس خالص کی جماعت حزب اسلامی کا حصہ رہے ہیں۔ وہ طالبان حکومت میں ہرات صوبے کے گورنر کے عہدے پر فائز رہے جبکہ امریکہ کی طرف سے گرفتاری کے بعد گوانتانامو جیل میں قید کردیئے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مولوی مطیع الحق

ان کا تعلق افغان صوبے ننگرہار سے ہے۔ وہ افغان جہاد کے نامور کمانڈر مولوی یونس خالص کے صاحبزادے ہیں۔ وہ اور ان کے بھائی تورہ بورہ محاذ کے نام سے ایک عسکری تنظیم چلاتے رہے ہیں۔

انس حقانی

وہ طالبان کے قطر سیاسی دفتر اور مذاکراتی ٹیم کے واحد رکن ہیں جو اس وقت افغانستان میں پابند سلاسل ہیں۔ انس حقانی مشہور جہادی کمانڈر مولوی جلال الدین حقانی کے صاحبزادے اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ تقریباً چار سال قبل امریکہ نے انس حقانی کو خلیجی ملک بحرین سے حراست میں لیا تھا اور بعد میں انھیں افغان حکومت کے حوالے کر دیا تھا۔ وہ بدستور افغانستان کے خفیہ اداروں کی حراست میں ہیں۔

ملا نوراللہ نوری

اطلاعات کے مطابق ملا نوراللہ نوری کا تعلق افغانستان کے صوبے زابل سے ہے۔ وہ امریکی جیل گوانتانامو میں قید رہ چکے ہیں اور ان کا افغانستان کے مشرقی صوبوں میں خاصا اثر رسوخ رہا ہے۔ انھوں نے جلال الدین حقانی گروپ کو طالبان تحریک کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ملا عبد الحق وثیق

ان کا تعلق غزنی صوبے سے ہے۔ وہ طالبان حکومت میں انٹیلی جنس چیف کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں