یہ بالاکوٹ کون سا ہے؟

ٹویٹ تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@OfficialDGISPR

انڈیا کی جانب سے پاکستان پر کیے جانے والے مبینہ فضائی حملے کے بعد حسبِ معمول دونوں ممالک کے درمیان سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی اور کئی صارفین نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر انڈین طیارے واقعی خیبر پختونخوا کے شہر بالاکوٹ یا اس کے نزدیک پہنچ گئے تھے تو یہ ایک سنگین اقدام ہے۔ یاد رہے کہ اب تک یہ لڑائی صرف سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا تک ہی محدود تھی۔

صحافی اور تجزیہ کار مشرف زیدی نے لکھا کہ ’بالاکوٹ آزاد کشمیر میں نہیں ہے‘ اور یہ کہ اس دفعہ انڈیا نے صرف لائن آف کنٹرول ہی نہیں عبور کی، بلکہ انھوں نے پاکستان پر باقاعدہ حملہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@MosharrafZaidi

صحافی اور کالم نگار عاصمہ شیرازی نے بھی میجر جنرل آصف غفور سے سوال کیا کہ انڈین طیارے اگر پاکستان کی فضائی حدود میں اتنی دور تک آگئے تھے تو ’میرا سوال یہ ہے کہ ہم نے انھیں جانے کیوں دیا؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@asmashirazi

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی یہ کارروائی ایک سٹریٹیجک غلطی ہے اور اس سے صرف دونوں ہمسایوں کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں اضافہ ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@sherryrehman

دوسری جانب انڈین سوشل میڈیا پر بھی اس مسئلے پر گرما گرم بحث ہوتی رہی۔

صحافی برکھا دت نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے حملے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے پہلے 1999 میں وزیرِاعظم واجپائی نے فضائی حملے کی اجازت نہیں دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@BDUTT

پی ایچ ڈی سکالر مانیکا نے صورتِحال پر اپنا تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بالاکوٹ حملے پر جوابی فوجی کارروائی نہیں کر سکتا کیونکہ اُس کی معاشی صورتِحال اس بات کی اجازت نہیں دیتی ہے اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر آنے کے بعد اس پر دہشتگردوں کے کیمپوں کا خاتمہ کرنے کے لیے کافی دباؤ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@TrulyMonica

کشمیری صارف علی نے اس معاملے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے سے صرف اور صرف درخت اور بیل بوٹے ہی تباہ ہوئے ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@Gaamuk

کون سا بالاکوٹ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@OfficialDGISPR

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی پہلی ٹویٹ میں مبینہ حملے کی جگہ ’بالاکوٹ کے قریب‘ بتائی تھی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی شروع ہوگئی کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کون سے بالاکوٹ کا ذکر کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google Maps
Image caption خیبر پختونخوا کے شہر بالاکوٹ کے علاوہ بالاکوٹ نامی ایک گاؤں لائن آف کنٹرول پر بھی واقع ہے

اس بحث میں دونوں طرف سے کئی صحافی اور حکومتی اہلکار بھی شامل ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@BDUTT

صحافی برکھا دت اور ادتیا راج کول نے اس معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ مبینہ حملہ لائن آف کنٹرول پر واقع گاؤں کے قریب نہیں ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@AdityaRajKaul

تاہم انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’اگر تو یہ حملہ خیبرپختونخوا کے شہر بالاکوٹ کے قریب ہوا ہے تو یہ ایک بڑا واقعہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@omarabdullah

لیکن سابق فوجی اہلکار وجاہت اللہ صافی نے اسرار کیا کہ یہ حملہ پونچھ سیکٹر کے گاؤں میں ہی ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@sufi_wajahat

تاہم میجر جنرل آصف غفور نے کچھ دیر بعد ایک اور ٹویٹ بھی کی جس میں انھوں نے مزید تفصیلات دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@OfficialDGISPR

کئی لوگوں نے اس سے یہ مراد لی کہ میجر جنرل آصف غفور اپنی پہلی ٹویٹ میں خیبرپختونخوا میں واقع بالاکوٹ شہر کی ہی بات کر رہے تھے، جو کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے قریب ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں