جابہ کے رہائشیوں نے کیا دیکھا: ’پہلے آواز آئی ڈھز ڈھز، پھر خاموشی چھا گئی‘

عینی شاہد تصویر کے کاپی رائٹ M.A. Jarral
Image caption ایک عینی شاہد جابہ پر گرنے والے ’پے لوڈ‘ کے ٹکڑے اٹھائے کھڑے ہیں

جابہ بالاکوٹ کے رہائشیوں نے بتایا ہے کہ جس مقام پر بم گرا ہے وہاں پر سب سے قریب گاؤں کنگڑ ہے۔

’میں نے ڈھز ڈھز کی آواز سنی، جیسے کوئی راکٹ کے ساتھ فائر کر رہا ہو۔ ایسی تین آوازیں سنیں، پھر خاموشی چھا گئی۔‘

خیبر پختونخوا کے گاؤں جابہ کے رہائشی واجد شاہ نے ان الفاظ میں منگل کی صبح ہونے والی انڈین فضائی کارروائی کا حال بتایا۔

پاکستانی فوج کے مطابق انڈیا کے جنگی طیاروں نے منگل کو علی الصبح پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستانی طیاروں کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں وہ جلد بازی میں اپنا ’پے لوڈ‘ گرا کر واپس جانے پر مجبور ہو گئے۔

ادھر انڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایک 'غیر عسکری' کارروائی میں بالاکوٹ کے علاقے میں واقع کالعدم شدت پسند تنطیم جیشِ محمد کے کیمپ کو نشانہ بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’انڈین طیارے تین منٹ تک پاکستان میں رہے‘

بالاکوٹ: انڈیا کا جیشِ محمد کے کیمپ پر حملے کا دعویٰ

یہ کون سا بالاکوٹ ہے؟

جابہ کے رہائشی محمد اعجاز نے صحافی محمد زبیر خان کو بتایا کہ ’رات کو تین بجے بہت زور کا دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دروازے، کھڑکیاں، چھتیں لرز اٹھیں۔ جس سے ہم لوگ بہت زیادہ خوفزدہ ہوگے اور پریشانی کا شکار رہے۔ اور اس کے بعد جہازوں کی آوازیں آتی رہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ دھماکہ ہمارے گھروں سے تقریبا بارہ کلو میٹر دورہوا ہے۔

اسی علاقے کے رہائشی شفیق نے بتایا کہ ’تین بجے انتہائی خوفناک دھماکہ ہوا۔ ایک نہیں بلکہ تقریباً پانچ دھماکے ہوئے اور اس سے سارا علاقہ لرز اٹھا، یہ انتہائی شدید دھماکہ تھا ہم سب لوگ اٹھ کر بیٹھ گئے تھے۔ وقتی طورپرتو پتا نہیں چلا لیکن اب پتا چلا ہے کہ کنگڑ نامی علاقے میں کچھ مکان وغیرہ گرے ہیں۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
بالاکوٹ: عینی شاہد محمد عادل نے کیا دیکھا

’پھر اس کے بعد ہمیں جہاز کی آواز آئی۔ پانچ دس منٹ بعد اس کی آواز بند ہو گئی۔ پھر اس کے بعد ہمیں اپنی طرف سے آوازیں آئیں۔ جب ہم صبح وہاں گئے جہاں بہت بڑا گڑھا پڑا ہوا تھا۔ درخت بھی تھے اور چار پانچ مکان بھی تباہ ہوئے۔ ایک بندہ بھی ہے جو زخمی ہوا ہے۔‘

اسی علاقے کے رہائشی بزرگ عبدالحنان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ان کے گھر سے تقریباً تین چار کلومیٹر دور ہوا ہے اور وہ آج صبح جائے وقوع دیکھ کر آئے ہیں۔

ان کے مطابق وہاں ایک گھر اور چند درخت تباہ ہوئے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ رات تقریباً تین بجے جب یہ واقعہ ہوا تب دھماکے کی آواز بہت دور تک سنی گئی اور ایسا محسوس ہوا کہ شاید بم یہیں گرائے گئے ہیں۔

Image caption رہائشی عبدالحنان کے مطابق یہ واقعہ ان کے گھر سے تقریباً تین چار کلومیٹر دور ہوا ہے اور وہ صبح جائے وقوع دیکھ کر آئے ہیں

صحافی ایم اے جرال سے بات کرتے ہوئے جابہ کے ایک اور رہائشی محمد عادل نے بتایا کہ رات تین بجے کے قریب انھیں ایک ’خوفناک آواز‘ آئی۔

’ہمیں لگا کہ آسمان گرج رہا ہے یا زلزلہ آ رہا ہے۔ پھر اس کے پانچ دس منٹ بعد ہمیں پتا چلا کہ دھماکہ ہوا ہے۔‘

عادل کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کا خاندان رات بھر سو نہیں پائے۔ ان کے مطابق ’ادھر ہمارے سید ہیں، سید نوران شاہ وہ بھی زخمی ہوئے ہیں اور ان کے گھر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔‘

Image caption جابہ گاؤں کے اطراف بلند پہاڑی چوٹیاں ہیں جبکہ اس سے پہلے مانسہرہ کا مشہور گاؤں عطر شیشہ واقع ہے

پاکستان کا مؤقف

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں بتایا کہ انڈین طیارے لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مظفرآباد سیکٹر میں تین سے صرف چار میل اندر آئے۔

میجر جنرل آصف غفور کے مطابق چونکہ انڈین طیاروں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا تو انھوں نے اپنا گولہ بارود گرا دیا جو ایک کھلے علاقے میں گرا۔

فوجی ترجمان کے مطابق یہ گولہ بارود کسی عمارت پر گرا اور نہ اس سے کوئی جانی نقصان ہوا ہے۔

انڈیا کا مؤقف

ادھر دہلی میں انڈین سیکریٹری خارجہ وجے گوکھلے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن میں منگل کی صبح انڈیا نے بالاکوٹ میں واقع جیشِ محمد کے سب سے بڑے کیمپ پر حملہ کیا ہے۔

ان کے مطابق یہ حملہ گھنے جنگل میں واقع پہاڑ کی چوٹی پر واقع ایک کیمپ پر کیا گیا جو شہری آبادی سے کافی دور تھا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس آپریشن میں بڑی تعداد میں جیشِ محمد کے 'دہشت گرد'، تربیت دینے والے، سینیئر کمانڈرز اور جہادیوں کے گروہ جو فدائی حملوں کے لیے تیار کیے جا رہے تھے ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google Maps
Image caption جابہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں واقع ایک گاؤں ہے

جابہ کہاں ہے؟

نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق جابہ ضلع مانسہرہ میں ایک گاؤں کا نام ہے جو بالاکوٹ روڈ پر واقع ہے، تاہم یہ گاؤں مظفر آباد تھانے کی حدود میں آتا ہے۔

مانسہرہ کے مرکزی بازار سے بالاکوٹ کی جانب جائیں تو یہاں سے کئی دیہاتوں کی جانب چھوٹی چھوٹی سڑکیں نکلتی ہیں۔ انہی میں سے ایک جابہ کو بھی جاتی ہے۔ جابہ سے پہلے پولیس کی ایک چیک پوسٹ بھی آتی ہے۔

اس گاؤں کی ایک وجہ شہرت قریب واقع بٹراسی کیڈٹ کالج بھی ہے۔ یہ یہاں کے دیگر علاقوں کی نسبت کم گنجان آباد ہے۔ گاؤں کے اطراف بلند پہاڑی چوٹیاں ہیں جبکہ اس سے پہلے مانسہرہ کا مشہور گاؤں عطر شیشہ واقع ہے۔

ان بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر آبادی نہیں ہے۔ اس علاقے کو ’ٹنہ‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں گھنے جنگلات ہیں اور چوٹیوں تک پہنچنے کے لیے دشوار گزار راستے ہیں۔

یہی وہ پہاڑی چوٹیاں ہیں جن کے بارے میں انڈیا دعوی کرتا ہے کہ یہاں ’جیشِ محمد‘ کے تربیتی کیمپ ہیں۔

اسی بارے میں