لائن آف کنٹرول پر کشیدگی: کشمیر پر پہلی جنگ سے ’سرجیکل سٹرائیک ٹُو‘ تک

انڈیا کا پاکستان کے اندر سرجیکل سٹرائیک کا دعوی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے دو انڈین طیاروں کو بدھ کے روز مار گرایا ہے۔

گذشتہ روز یہ کہا گیا تھا کہ انڈیا کے جنگی طیاروں نے منگل کو علی الصبح پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور پاکستانی طیاروں کے فضا میں آنے کے بعد وہ جلد بازی میں اپنا 'پے لوڈ' گرا کر واپس چلے گئے۔

ادھر انڈیا کا کہنا ہے کہ اس نے ایک 'غیر عسکری' کارروائی میں بالاکوٹ کے علاقے میں واقع کالعدم شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کے کیمپ کو نشانہ بنایا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ سنہ 1971 کی پاکستان انڈیا جنگ کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ دونوں ممالک میں سے کوئی ایک دوسرے کی فضائی حدود کے اندر داخل ہوا ہے اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ان دو ممالک میں کشیدگی میں اتنا زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم دوسری جانب ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان امن کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں۔

سنہ 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے براہ راست تصادم اور امن کوششوں کی ایک مختصر تاریخ کچھ یوں رہی ہے:

یہ بھی پڑھیے۔

اوڑی سے پلوامہ حملے تک

’ایک نہیں بلکہ تقریباً پانچ دھماکے ہوئے، علاقہ لرز اٹھا‘

’تین جانب سے کوشش کی، سٹرائک نہیں ہوئی‘

اکتوبر1947:

پاکستان اور انڈیا کے درمیان پہلی جنگ دونوں ہمسایوں کے آزاد ممالک میں تقسیم ہونے کے محض دو ماہ بعد کشمیر کے محاذ پر ہوئی۔

اگست 1965:

دونوں ہمسایوں کے درمیان کشمیر پر ایک اور مختصر جنگ ہوئی۔

دسمبر1971:

انڈیا نے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں اپنی فوجیں بھیج دیں تاکہ حکومت کے خلاف لڑنے اور ایک آزاد ریاست بننے میں ان کی مدد کی جا سکے۔ انڈین ائیر فورس نے پاکستان کے اندر بمباری کی۔ اس جنگ کا اختتام بنگلہ دیش کے معرض وجود میں آنے پر ہوا۔

سنہ 1989:

وادی کشمیر میں انڈین حکمرانی کے خلاف مسلح مزاحمت کا آغاز ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'اعلان لاہور' کے نام سے دونوں رہنماؤں نے ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے۔

فروری 1999:

انڈیا کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے ملاقات اور ایک امن معاہدے پر دستخط کے لیے بس کے ذریعے پاکستان کے شہر لاہور پہنچے۔ یہ پہلا موقع تھا جب کوئی بھی بھارتی وزیر اعظم قیامِ پاکستان کی علامت سمجھے جانے والے مینارِ پاکستان کے سائے میں اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ ایک دوستانہ ماحول میں دکھائی دیا۔

اس دورے کے اختتام پر ’اعلان لاہور‘ کے نام سے دونوں رہنماؤں نے ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے۔ اعلان لاہور کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ دونوں ممالک حادثاتی طور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کی بھرپور کوشش کریں گے اور اس حوالے سے کسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

دونوں ممالک کی پارلیمان نے اس معاہدے کی توثیق اسی سال کر دی تھی۔

مئی 1999:

اٹل بہاری واجپائی کے دورے کے تین ماہ بعد پاکستانی فوج نے کارگل کے پہاڑوں پر بھارتی چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا جس سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا جس میں انڈیا نے فضائی اور زمینی حملے کیے، تاہم یہ مسلح تصادم کارگل تک محدود رہا۔

مئی 2001:

تقریباً اگلے دو سال تک کارگل کی لڑائی کے حوالے سے دونوں ممالک کی طرف سے دعوؤں اور جوابی دعوؤں کا سلسلہ جاری رہا، اور پھر بظاہر امن کی امید اس وقت دکھائی دی جب اس وقت کے پاکستان کے صدر اور کارگل آپریشن میں پاکستانی فوج کی جانب سے کلیدی کردار ادا کرنے والے جنرل پرویز مشرف انڈیا پہنچے۔

انھوں نے آگرہ میں وزیر اعظم واجپائی سے ملاقات کی، لیکن کسی دیرپا امن معاہدے کی امید اس وقت دم توڑ گئی جب دونوں فریقوں کے مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

اکتوبر2001:

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے صدر مقام سری نگر میں ریاستی اسمبلی کی عمارت پر ایک بڑے حملے میں 38 افراد ہلاک ہو گئے۔

13 دسمبر 2001:

دہلی میں پارلیمنٹ پر ایک مسلح حملے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے اور انڈیا نے اس حملے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا۔

فروری 2007:

پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی ریل سروس سمجھوتہ ایکسپریس پر بم حملے کے نتیجے میں 68 افراد ہلاک ہو گئے۔

26 نومبر 2008:

عسکریت پسندوں نے ممبئی کے ریلوے سٹیشن، لگثری ہوٹلوں اور یہودیوں کے ثقافتی مرکز پر حملے کیے جن میں 60 گھنٹوں کے دوران 166 افراد ہلاک ہو گئے۔ انڈیا نے ان حملوں کا ذمہ دار پاکستان سے تعلق رکھنے والے گروہ لشکر طیبہ کو قرار دیا۔

جنوری2016:

انڈیا کی ریاست پنجاب میں واقع انڈین فضائیہ کے ایک اڈّے پر چار روز تک جاری رہنے والے حملے میں سات انڈین فوجی اور چھ عسکریت پسند مارے گئے۔

18 ستمبر2016:

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اوڑی کے مقام پر ایک فوجی اڈے پر حملے میں 19 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد دونوں دونوں ممالک میں کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر شدید اضافہ ہو گیا اور انڈیا نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔

30 ستمبر 2016:

انڈیا کے مطابق اس نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں پر 'سرجیکل سٹرائیکس' کیں۔ انڈیا کے اس دعوے کو پاکستان میں آج تک کسی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا اور اسے محض انڈیا کی خام خیالی تعبیر کیا جاتا ہے۔

14 فروری 2019:

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تعینات پیرا نیم فوجی دستوں کے ایک قافلے پر حمہ ہوا جس میں 40 اہلکار ہلاک ہو گئے۔ سنہ 1989 کے بعد انڈین فورسز پر کشمیر میں ہونے والا یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔

اس حملے میں سرینگر جانے والی سیکیورٹی اہلکاروں کی بس کو خودکش مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور پاکستان میں موجود اسلامی شدت پسند گروپ جیش محمد نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ اس نے کیا، تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک تحریری بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ پلوامہ میں حملہ تشویشنا ک معاملہ ہے۔

26 فروری 2019:

انڈیا کے مطابق اس نے پاکستانی حدود میں کشمیری عسکریت پسندوں پر فضائی حملہ کر کے ایک عسکریت پسند کیمپ کو تباہ کر دیا ہے۔

27 فروری 2019:

پاکستانی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے بدھ کے روز ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے دو انڈین جنگی طیاروں کو مار گرایا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایک انڈین پائلٹ کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں