انڈیا کا پاکستان کی حدود میں حملہ، مفروضے اور حقائق

Image caption عینی شاہدین کے مطابق بارودی مواد اس علاقے میں چار جگہوں پر گرا۔

26 فروری کی علی الصبح پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں لوگ جنگی طیاروں کی گھن گرج سے جاگ اٹھے۔ اگرچہ گھبراہٹ تھی لیکن لوگ پچھلے کچھ دنوں سے نصف شب کے بعد ایسی آوازیں سن رہے تھے اور اس کی وجہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان پلوامہ حملے کے بعد سے جاری کشیدگی کے پیشِ نظر پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کا گشت تھا۔

لیکن لوگوں کے ہوش اس وقت اڑے جب صبح ہونے پر یہ پتا چلا کہ ان آوازوں میں انڈیا کے جنگی طیاروں کی آوازیں بھی شامل تھیں اور وہ جاتے ہوئے کسی مقام بم بھی گرا گئے ہیں۔

پاکستان فوج کی جانب سے پہلا بیان آیا کہ انڈین فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی ہے۔

اسی بارے میں

انڈیا کا جیشِ کیمپ پر حملے کا دعویٰ، پاکستان کا انکار

’تین جانب سے کوشش کی، سٹرائک نہیں ہوئی‘

’ایک نہیں بلکہ تقریباً پانچ دھماکے ہوئے، علاقہ لرز اٹھا‘

دو گھنٹے بعد فوج کے ترجمان نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ انڈین طیارے مظفرآباد سیکٹر سے داخل ہوئے اور پاکستانی فضائیہ کی جوابی کارروائی پر بھاگتے ہوئے اپنا ’پے لوڈ‘ یا بم پھینک گئے جو بالاکوٹ کے قریب گرے۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر جیسے رد عمل کا ایک طوفان آ گیا۔ کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ لائن آف کنٹرول کی ہی نہیں بلکہ سرحد کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے کیونکہ جہاز جہاں سے پلٹے ہیں وہ علاقہ پاکستان کی حدود کے کافی اندر ہے۔

بعد ازاں فوج کے ترجمان کی پریس بریفنگ میں بھی اس بات کی تصدیق کر دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption جابہ کا مظفرآباد سے زمینی فاصلہ لگ بھگ 38 کلو میٹر ہے

حملہ ہوا کہاں؟

انڈیا کی جانب سے پاکستان میں کی گئی کارروائی ک بارے میں پہلے تو کہا گیا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے مظفرآباد کی حدود میں ہوا۔ بعد ازاں فوج نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ انڈین جہازوں نے اپنا لوڈ جہاں پھینکا، وہ قریب ہی خیبر پختونخوا کی حدود میں جابہ کے مقام پر گرا۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد خیرپختونخوا سے ملحقہ علاقہ ہے۔ مظفر آباد شہر سے سات کلومیٹر مغرب کی جانب جانے پر خیبرپختوخوا کا آغاز ہو جاتا ہے۔

مظفرآباد اور خیرپختونخوا کے درمیان مغرب کی جانب ایک پہاڑ ہے جو دیوار کا کام کرتا ہے۔ جس کی ایک طرف مظفرآباد شہر جبکہ دوسری جانب گڑھی حبیب اللہ کا قصبہ ہے۔ اس کے سامنے بٹراسی کا علاقہ شروع ہوتا ہے جہاں سے پہاڑ کی دوسری جانب جابہ ہے۔ یہ پہاڑ ہمالیہ کا حصہ ہیں۔

جابہ کا مظفرآباد سے زمینی فاصلہ لگ بھگ 38 کلو میٹر ہے۔ جبکہ ان کے درمیان دو بڑے پہاڑ حائل ہیں۔

Image caption جس جگہ بارود مواد گرا وہ ایک دیہاتی علاقے ہے اور خوش قسمتی سے زیادہ مکانات نہیں تھے تاہم ایک کچے گھر کو نقصان پہنچا

لائن آف کنٹرول سے فاصلہ

پاکستان فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انڈین طیارے وادی نیلم کی جانب سے آئے جہاں سے آنے پر پاکستانی طیاروں نے ان کا پیچھا کیا۔

لائن آف کنٹرول پر واقع ضلع نیلم مظفرآباد سے کم از کم ایک سو کلومیٹر دور واقع ہے۔

واضح رہے کہ مظفرآباد سے قریب ترین لائن آف کنڑول کا علاقہ چلیانہ ہے جو محض 40 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

یہاں یہ واضح رہے کہ حملے میں استعمال ہونے والے میراج طیارے 2300 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتے ہیں۔

علاقہ ہے کیسا؟

پاکستانی فوج کے بقول پاکستانی طیاروں کی جانب سے پیچھا کرنے پر انڈین جہازوں نے اپنا پے لوڈ گرایا جو ان کی تیز رفتار کے باعث خیرپختونخوا کے علاقے جابہ میں جا گرا۔

جابہ خیبر پختوانخوا میں بالاکوٹ شہر کے قریب واقع ہے۔ اس کے قریب ترین مقبول مقام بٹراسی کیڈٹ کالج ہے۔

یہ کیڈٹ کالج جابہ سے صرف چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

جس جگہ بارودی مواد گرا وہ ایک دیہاتی علاقہ ہے اور وہاں زیادہ مکانات نہیں تھے، تاہم دھماکوں کی شدت سے ایک کچے مکان کو نقصان پہنچا۔

پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے مکانات دور دور بنے ہوئے ہیں اور کہیں کہیں درخت ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ بارودی مواد اس علاقے میں چار جگہوں پر گرا اور جس جگہ زیادہ نقصان ہوا وہاں نسبتاً گھنے درخت موجود تھے۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ اس نے ایک 'غیر عسکری' کارروائی میں بالاکوٹ کے علاقے میں واقع کالعدم شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کے کیمپ کو نشانہ بنایا ہے۔

جہاں پے لوڈ گرا مقامی لوگوں کے مطابق وہاں سے لگ بھگ 600 میٹر کے فاصلے پر تعلیم القرآن کے نام سے ایک مدرسہ تھا جہاں بچوں کو دینی تعلیم دی جاتی تھی۔ تاہم بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل یہ مدرسہ کسی وجہ سے بند یا منتقل کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں