کنٹرول لائن پر کشیدگی برقرار، شہریوں کی نقل مکانی جاری

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے چکوٹھی کے رہائشی انڈین گولہ باری کی وجہ سے علاقہ چھوڑ کر جا رہے ہیں

کشمیر میں دونوں ملکوں کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر حالات شدید کشیدہ ہیں اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر فائرنگ اور گولہ باری کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

تازہ اطلاعات آنے تک حکام کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے بھمبر کے مختلف سیکٹرز میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پاکستانی فوج بھی اسکا جواب دے رہی ہے.

پولیس کنڑول روم کے مطابق درہ شیر خان میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔

کشیدگی کے باعث لائن آف کنٹرول کے کئی رہائشی اپنے مکانات چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اپوزیشن رہنماؤں کو انڈین جارحیت پر بریفنگ

اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو انڈیا کی جانب سے ہونے والی جارحیت پر پارلیمنٹ ہاؤس میں ان کیمرا بریفنگ دی گئی جہاں سول اور عسکری قیادت نے صورت حال سے آگاہ کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کو عسکری حوالے سے آگاہ کیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں دی گئی بریفنگ میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ، قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بھی شامل تھے جنہوں نے اس سے قبل سکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

واضح رہے کہ صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 28 فروری کو سہ پہر 3 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption پاکستانی فوج نے زیر حراست پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کی ویڈیو بھی جاری کی ہے جبکہ انڈیا نے پاکستان سے اپنے زخمی پائلٹ کی 'نمائش' پر اعتراض کیا ہے

انڈیا کی جانب سے پائلٹ کی واپسی کا مطالبہ

ادھر انڈیا کی جانب سے ونگ کمانڈر ابھینندن کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے جن کا جہاز گذشتہ روز پاکستان نے مار گرایا تھا۔ پائلٹ کی حراست کے بعد ان کی مختلف ویڈیوز سامنے آئیں تھیں جن کے بارے میں انڈیا نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مذمت کی۔

انڈیا نے پاکستان سے اپنے اس زخمی پائلٹ کی 'نمائش' پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انڈین دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ زیرِ حراست انڈین فوجی کو کوئی نقصان نہ پہنچائے اور وہ اس کی فوری اور محفوظ واپسی کا خواہشمند ہے۔

اس سے قبل پاکستانی فوج کی جانب سے انڈین طیارے مار گرانے اور دو پائلٹس کی گرفتاری کے ابتدائی دعوے کے بعد اب کہا گیا ہے کہ صرف ایک انڈین پائلٹ ہی پاکستان کی حراست میں ہے جبکہ انڈیا نے ونگ کمانڈر ابھینندن کی فوری رہائی اور واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان نے بدھ کی صبح یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کے طیاروں نے اپنی فضائی حدود میں رہتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے پار اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور بعدازاں لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان میں داخل ہونے والے دو انڈین طیاروں کو مار گرایا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ بدھ کی صبح پاکستانی فضائیہ کی کارروائیوں کے بعد انڈین فضائیہ کے طیاروں نے ایک مرتبہ پھر ایل او سی عبور کی جس پر پاکستانی فضائیہ نے دو انڈین طیاروں کو پاکستانی فضائی حدود میں نشانہ بنایا ہے۔

اس بارے میں مزید جاننے کے لیے پڑھیے

پاکستانی حدود میں انڈین طیاروں کی تباہی: کب کیا ہوا

’بات بگڑی تو نہ میرے ہاتھ میں رہے گی اور نہ مودی کے‘

سوشل میڈیا: کیا گھمسان کا رن پڑا ہے؟

’پاکستان سرپرائز دے گا، انڈیا انتظار کرے‘

صحافی ایم اے جرال کے مطابق انڈین طیارے کو ضلع بھمبر کے گاؤں پونا میں نشانہ بنایا گیا اور یہ جگہ ایل او سی کے سماہنی سیکٹر میں آتی ہے۔

فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ تباہ ہونے والے دو انڈین طیاروں میں سے ایک پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گرا جبکہ دوسرے کا ملبہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں گرا۔

اپنی پریس کانفرنس میں ترجمان نے دو انڈین پائلٹس کو حراست میں لیے جانے کا اعلان کیا جسے بعدازاں وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے خطاب میں دہرایا۔ تاہم بدھ کی شام ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں فوجی ترجمان نے کہا کہ صرف ایک انڈین پائلٹ ہی زیرِ حراست ہے جس سے فوجی اصولوں کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے۔

Image caption انڈین طیارے کو ضلع بھمبر کے گاؤں پونا میں نشانہ بنایا گیا

پاکستانی فوج نے زیر حراست پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

ایک منٹ 20 سیکنڈ دورانیے کی اس ویڈیو میں ان سے چند سوالات کیے گئے جن کے جواب میں انھوں نے کہا ان سے پاکستان میں اچھا سلوک ہو رہا ہے اور اگر وہ اپنے ملک واپس گئے تو اپنا بیان نہیں بدلیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس یونٹ سے ہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ نہیں بتا سکتے تاہم انھوں نے یہ بتایا کہ میں شادی شدہ ہوں اور میرا تعلق جنوبی انڈیا سے ہے۔

پاکستانی ہائی کمشنر کی انڈین دفترِ خارجہ طلبی

انڈیا نے نئی دہلی میں پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر کو طلب کر کے پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے پار کارروائی پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

انڈین وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سفارتکار کو واضح طور پر بتایا گیا کہ انڈیا اپنی قومی سلامتی اور علاقائی وقار کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور فیصلہ کن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انڈیا نے پاکستان سے اپنے اس زخمی پائلٹ کی 'نمائش' پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انڈین دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ زیرِ حراست انڈین فوجی کو کوئی نقصان نہ پہنچائے اور وہ اس کی فوری اور محفوظ واپسی کا خواہشمند ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جس علاقے میں انڈین طیارے کو نشانہ بنایا گیا وہ جگہ ایل او سی کے سماہنی سیکٹر میں واقع ہے

انڈین دفترِ خارجہ کے مطابق انڈین حکام نے پاکستان کو پلوامہ حملے میں جیشِ محمد کے ملوث اور اس تنظیم کے کیمپ اور قیادت کے پاکستان میں ہونے کے بارے میں معلومات پر مبنی ڈوزیئر فراہم کر دیا ہے۔ انڈیا نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے علاقے سے جاری دہشت گردی کے خلاف فوری اور قابلِ تصدیق کارروائیاں کرے۔

غیر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا

اس سے قبل پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ بدھ کی صبح پاکستانی جنگی طیاروں کی کارروائی انڈیا کی جانب سے جاری جنگی جارحیت کا ردعمل نہیں ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان نے غیر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور جانی نقصان اور کولیٹرل ڈیمج سے بچا گیا ہے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا واحد مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق اور صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا لیکن اگر ایسا ہوا تو وہ اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اسی سلسلے میں دن کی روشنی میں کارروائی کی گئی تاکہ واضح تنبیہ کی جا سکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگر انڈیا بغیر ثبوت دیے دہشت گردوں کی نام نہاد پشت پناہی کا الزام لگا کر حملہ کر سکتا ہے تو ہم بھی حق محفوظ رکھتے ہیں کہ ان عناصر کو نشانہ بنائیں جنھپیں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے انڈیا کی آشیرباد حاصل ہے۔‘

تاہم بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اس راستے پر نہیں چلنا چاہتا اور پرامید ہے کہ انڈیا امن کو ایک موقع دے گا۔

فضائی حدود کی بندش

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے پاکستان نے اپنی فضائی حدود خصوصاً شمالی فضائی حدود کمرشل پروازوں کے لیے بند کر دی ہے جس کی وجہ سے تمام بین الاقوامی پروازیں جو پاکستان کے اوپر سے گزر کر یورپ اور مغربی ممالک کی جانب جاتی تھیں وہ اب بحیرۂ عرب کے اوپر یا چین کی جانب سے جا رہی ہیں۔

ویب سائٹ فلائٹ ریڈار پر دیکھا جا سکتا ہے پاکستان کی فضائی حدود بالکل خالی ہے خصوصاً لاہور، فیصل آباد، ملتان، سیالکوٹ، بہالپور، رحیم یار خان کی ہوائی اڈوں پر پروازوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی فوجی مظفر آباد کے قریب واقع چکوٹھی میں فوجی چوکی پر انڈین سرحد کی نقل و حرکت کا معائنہ کر رہے ہیں

سول ایوی ایشن حکام کے مطابق فضائی حدود کو حفظِ ماتقدم اور سویلین طیاروں اور مسافروں کی سہولت کے پیشِ نظر بند کیا گیا ہے۔

ایل او سی پر کشیدگی اور نقل مکانی

مقامی پولیس کے مطابق بدھ کی شام لائن آف کنٹرول کے بٹل سیکٹر میں دونوں افواج کے درمیان گولہ باری اور فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات ہیں۔

اس سے قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی انتظامیہ کے مطابق منگل کی شب کوٹلی سیکٹر میں انڈین گولہ باری سے تین خواتین اور ایک بچہ ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق ایل او سی پر راولاکوٹ، بھمبر، چکوٹھی اور کوٹلی میں بھارتی فوج نے شام سے آبادیوں پر گولہ باری کا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں نکیال سیکٹر میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والی تین خواتین اور کھوئی رٹہ سیکٹر میں ایک بچے کی ہلاکت ہوئی جبکہ اب تک 11 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے صحافی محمد زبیر کو بتایا کہ علاقے میں اس وقت غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ تمام سرکاری عملے کی چھٹیاں منسوخ ہیں جبکہ ہسپتالوں اور امدادی عملہ ہائی الرٹ پر ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مجیر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ انڈیا کا مقصد سویلین پر حملہ کر کے انھیں مارنا تھا تاکہ وہ یہ دعویٰ کریں کہ انھوں نے دہشت گردوں کے کیمپ پر حملہ کیا ہے

مشتاق منہاس کا کہنا تھا کہ کوٹلی کے مختلف مقامات پر بھارتی فوج کی جانب سے شدید گولہ باری کے علاوہ کنٹرول لائن کے دیگر علاقوں میں بھی بھارتی فوج نے فائرنگ کی ہے جس کا پاکستانی سکیورٹی فورسز نے موثر جواب دیا ہے۔

مشتاق منہاس کا کہنا تھا کہ حکومت تمام صورتحال پر نظر رکھی ہوئے ہیں اور مقامی آبادیوں کو بھی الرٹ کیا گیا ہے۔

ادھر انڈین بیان کے مطابق 'منگل کی شام پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر 12 سے 15 مقامات پر بھاری گولہ باری کی جس کے جواب میں انڈین فوج نے کارروائی کا سلسلہ شروع کیا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کو جانی نقصان کے علاوہ پانچ چوکیوں کو بھی نقصان پہنچا۔'

جموں میں بھارتی فوج کی شمالی کمان کے ترجمان کرنل دیوندر آنند کے مطابق پاکستان کی فائرنگ سے کم از کم پانچ فوجی اہلکار زخمی ہوگئے۔

انڈین فوج کا کہنا تھا کہ نوشہرہ، کشمیری بالاکوٹ، مینڈھر، منجھ کوٹ اور کرشناگھاٹی سیکٹروں میں پاکستانی فوج کی طرف گولہ باری کی گئی۔ نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق رات بھر ان سیکٹروں میں گولہ باری اور جنگی طیاروں کی پروازوں سے آبادی سہم کر رہ گئی۔

اسی بارے میں