بالاکوٹ: نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس کی اہمیت کیا ہے؟

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ iSPR
Image caption این سی اے کا چئیرمین کا عہدہ وزیر اعظم کے پاس ہوتا ہے اور وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر خزانہ، اور وزیر برائے دفاعی پروڈکشن بھی اس کے رکن ہوتے ہیں

منگل کی صبح انڈیا کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے اور مبینہ طور پر کالعدم شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کے ٹھکانے کو نشانہ بنانے پر پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بدھ کو نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسی روز شام میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیر اعظم نے این سی اے کی میٹنگ بلائی ہے اور مجھے امید ہے کہ آپ لوگوں کو علم ہے کہ وہ کیا ہے اور اس کا کیا کام ہے۔‘

لیکن یہ ادارہ کیا ہے، اس میں کون لوگ شامل ہیں اور اس کی اتنی کیا اہمیت ہے کہ سخت کشیدگی کی حالات میں وزیر اعظم نے اس کا اجلاس طلب کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کو جواب، پاکستان کے آپشنز کیا ہیں؟

’پاکستان سرپرائز دے گا، انڈیا انتظار کرے‘

’انڈین طیارے تین منٹ تک پاکستان میں رہے‘

نیشنل کمانڈ اتھارٹی ادارہ کیا ہے؟

نیشنل کمانڈ اتھارٹی یعنی این سی اے کا مقصد پاکستان کی بری، فضائی اور بحری افواج کی مشترکہ حکمت عملی اور اس کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے لیکن اس کا اہم ترین مقصد پاکستان کے جوہری اسلحے کی نگہبانی اور اسے استعمال کرنے کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلوں کے لیے ہے۔

این سی اے کا قیام سنہ 2000 میں سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کیا گیا تھا اور اس میں سویلین اور عسکری قیادت دونوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔

این سی اے کا چئیرمین کا عہدہ وزیر اعظم کے پاس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر خزانہ، اور وزیر برائے دفاعی پروڈکشن بھی اس کے رکن ہوتے ہیں۔

عسکری نمائندگی کرنے والوں میں جوائنٹ چیف آف سٹاف کے علاوہ تینوں افواج کے سربراہ اور پاکستانی جوہری ہتھیاروں کی رکھوالی کرنے والے مخصوص ادارے سٹریٹیجک پلان ڈیویژن (ایس پی ڈی) کے ڈائریکٹر بھی شامل ہوتے۔ این سی اے کے سیکریٹری کا عہدہ بھی انھی کے پاس ہوتا ہے۔

آخری دفعہ این سی اے کا اجلاس دسمبر 2017 میں ہوا تھا۔ بدھ کو ہونے والا اجلاس 24واں موقع ہوگا جب اس اتھارٹی کے نمائندہ اکھٹے ہوں گے۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب عمران خان این سی اے کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

این سی اے کے اجلاس میں پاکستانی جوہری اسلحہ، جوہری تنصیبات، اس کے استعمال اور نگہبانی کے حوالے سے فیصلے لیے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی فیصلہ لیا جاتا ہے کہ جوہری حملے کی صورت میں پاکستان کے پاس جواب دینے کے لیے کیا آپشنز ہیں اور جوہری اور کیمیائی حملے سے بچاؤ کے لیے کیا کرنا ہوگا۔

بالاکوٹ پر انڈین جارحیت کے بعد این سی اے کا اجلاس طلب کرنا کافی اہمیت کا حامل ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان انڈیا کو جواب دینے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا سکتا ہے۔

مبصرین کیا کہہ رہے ہیں؟

اسی حوالے سے کئی مبصرین نے ٹوئٹر پر اظہار خیال کیا ہے اور کہا کہ اس اجلاس میں لیے جانے والے فیصلے انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے۔

سٹین فورڈ یونیورسٹی سے منسلک محقق اسفندیار میر نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری تنازع سے بہت پریشان ہیں اور انڈین کاروائی سے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

'اور پریس کانفرنس میں این سی اے اجلاس طلب کرنے کا اعلان کرنا؟ یہ بہت ناقابل یقین بات ہے لیکن پاکستان اس تنازع میں اپنے جوہری ہتھیاروں کو لا رہا ہے۔'

صحافی ماروی سرمد نے بھی اپنی ٹویٹ میں کہا کہ 'لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کافی معمول کی بات ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں این سی اے یا این ایس سی کا اجلاس طلب کرنا بہت غیر معمولی ہے۔ گذشتہ دس سال ہمیں یہی بتاتے ہیں۔'

دفاعی تجزیہ کار انکیت پانڈا نے بھی ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ پریس کانفرنس میں این سی اے کا اجلاس طلب کرنے کے بارے میں بات کرنے کا کیا مطلب ہے۔ 'یہ پاکستان اور انڈیا کی عوام کو پیغام پہنچا رہا ہے کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور عام حالات میں ایسا کہا جائے تو اس سے واشنگٹن میں خطرے کی گھنٹی بج جاتی۔'

موقر جریدے دا اکانومسٹ کے مدیر برائے امور دفاع ششانک جوشی نے بھی ٹویٹ میں کہا کہ 'یہ پاکستان کی جانب سے بڑا سخت مگر بے ڈھب اشارہ ہے کہ وہ جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے لیکن بہت ممکن ہے کہ اس کی وجہ ہو کہ انڈیا مستقبل میں اور کوئی حملے نہ کرے۔'

دوسری جانب ششانک جوشی کی ٹویٹ کے جواب میں پاکستانی دفاعی امور کی ماہر، رابیعہ اختر نے کہا کہ این سی اے میٹنگ کا طلب کرنا بالکل درست فیصلہ ہے۔

'این سی اے کا مقصد ہے کہ پاکستان اپنے تمام وسائل کے استعمال کو جانچ سکے۔ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور پاکستان کے پاس جواب دینے کا پورا حق ہے۔'

اسی بارے میں