انڈین کارروائی کے بعد پاکستانی ٹوئٹر پر #SayNoToWar کا ٹرینڈ

ٹوئٹر تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

منگل کے روز انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد جہاں دنیا بھر سے پاکستان اور انڈیا کو تحمل کا مظاہرے کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے وہی پاکستانی ٹوئٹر صارفین بھی SayNoToWar# کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے دکھائی دیے۔ جو گذشتہ روز نہ صرف پاکستان بلکہ انڈیا میں بھی صفِ اول کا ٹرینڈ رہا۔

اس ٹرینڈ کا آغاز پاکستانی ٹوئٹر صارفین کی جانب سے کیا گیا تھا اور پاکستان میں منگل کی رات سے یہ ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے۔ گو پہلے دن سرحد پار سے بھی چند ایک ٹوئٹر صارفین نے اس میں اپنا حصہ ڈالا لیکن گزشتہ روز پاکستان کی جانب سے کی گئی فضائی کارروائی اور انڈین پائلٹ کے پکڑے جانے کے بعد، انڈیا میں بھی یہ ٹرینڈ، ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہا۔

عام پاکستانی ٹوئٹر صارفین سے لے کر مشہور کھلاڑی اور اداکار و گلوکار بھی جنگ سے انکار کی حمایت کرتے دکھائی دیے۔

پاکستانی کرکٹر وسیم اکرم نے اپنے بھاری دل کے ساتھ انڈیا سے اپیل کی کہ پاکستان آپ کا دشمن نہیں ہے۔ انہوں نے تو انڈیا کو یہ تک کہہ دیا کہ آپ کا دشمن ہمارا دشمن ہے۔'اور کتنا خون بہنا چاہیے جس کے بعد ہمیں سمجھ آئے گی کہ ہم دونوں ایک ہی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس دہشت گردی کو شکشت دینے کی لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہو گا۔'

لوجیکل پاکستانی نامی ٹوئٹر ہینڈل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے کہا کہ یہی وقت ہے کہ ہم اس پاگل پن کو ختم کردیں ورنہ نتائج ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں گے۔ انہوں نے جنگ کے حمایتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر اس بات کو سمجھے کہ ہم اور ہماری آنے والی نسلوں پر جنگ کے کیا اثرات ہوں گے، جنگ کی باتیں کرنا آسان ہے۔

اسی ٹرینڈ پر پاکستانی گلوکارہ حدیقہ کیانی نے اپنے 20 سالہ ہاکستانی کرئیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے انڈیا سے کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہیں میں کسی کے پے رول پر ہوں لیکن مجھے معلوم ہے کہ اس دنیا میں کس چیز سے فرق پڑتا ہے اور وہ امن اور سمجھداری ہے۔ کوئی بھی انسانی زندگی اس قابل نہیں کہ اسے ضائع کردیا جائے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان نے فضائی حدود کمرشل پروازوں کے لیے بند کر دی

انڈیا کو جواب، پاکستان کے آپشنز کیا ہیں؟

انڈیا کا پاکستان کی حدود میں حملہ، مفروضے اور حقائق

اسی ٹرینڈ پر پاکستانی ٹوئٹر صارف عدنان نے دو تصاویر شئیر کی ہیں جو ان کہ مطابق انڈیا اور پاکستان کی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’یہ انڈیا اور پاکستان ہیں اور ان کی ترجیح ہے جنگ۔‘

نیاز بین نامی ایک ٹوئٹر صارف کہتے ہیں ’صرف ہلاک ہوجانے والوں نے ہی جنگ کا انجام دیکھا ہے۔‘

انسٹاگرام پر علی حسن نامی ایک صارف نے انڈیا اور پاکستان سے دو تابوتوں پر لپٹی خواتین کی تصاویر شئیر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی بات کو دہرایا کہ ’جنگ شروع کرنا تو انسانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن اسے ختم کرنا نہیں۔‘

ایک اور انسٹا گرام صارف نے دو بچوں کی تصاویر پوسٹ کی ہیں جنہوں نے پھٹے ہوئے اور بوسیدہ کپڑے پہن رکھے ہیں اور ہاتھوں میں انڈیا اور پاکستان کی جھنڈیاں اٹھا رکھی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ’جنگ کے لیے خوشی کا اظہار کرنے والوں سے زیادہ بدصورت کوئی چیز نہیں۔ میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن کی دعا کرتا ہوں۔' ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کے آپ کا میرے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

تاہم انڈین سائیڈ پر جہاں کچھ لوگ تو پاکستانیوں کی طرح جنگ کے مخالفت کرتے نظر آئے، وہیں زیادہ تر انڈین فضائی حملوں پر خوشی مناتے نظر آئے

ساگریکا گھوش نے ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں لکھا ہے ’امن کی طرف جاتا کوئی راستہ نہیں ہے، امن ہے راستہ ہے‘

وہیں پر انڈین اداکاروں، کھلاڑیوں اور صحافیوں سے لے کر عام جنتا تک سبھی انڈین حملوں پر خوشی مناتے دکھائی دیے۔

اداکار اجے دیوگن پاکستان پر ہوئے حملوں پر انڈین فضائیہ کو سیلوٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہترین کے ساتھ الجھنے کا انجام وہی ہوگا جو باقیوں کا ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں انڈین وزیرِاعظم نریندرا مودی کو ٹیگ بھی کیا ہے۔

انڈین کرکٹ ٹیم کے سابقہ کپتان سچن ٹنڈولکر بھی انڈین ایئر فورس کو سیلوٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہماری اچھائی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔‘

انڈین صحافی برکھا دت نے بھی آئی اے ایف کو ان حملوں پر مبارکباد دیتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا۔ دنیا بھر سے صحافیوں اور عام ٹوئٹر صارفین نے برکھا دت کی اس ٹویٹ پر ان کو خوب آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر شدید تنقید کی۔

سیئٹل میں مقیم پرطانوی اخبار دی انذیپینڈنٹ سے وابستہ اینڈریو بُن کومب نے برکھا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آپکی کی بہت عزت کرتا ہوں۔ انڈین فوجیوں پر ہوئے ظلم سے آگاہ ہوں۔ لیکن ایک بااثر، آزاد ذہن والی صحافی کا کسی ملٹری ایکشن کی حمایت کرنا کیا عقلندی ہے؟‘

بدھ کی صبح پاکستان کے اس دعویٰ کے بعد کہ اس کی فضائیہ نے ایل او سی کے پار اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور پاکستان میں داخل ہونے والے دو انڈین طیارے مار گرائے ہیں، بہت سے پاکستانی بھی انڈین ہمسائیوں کی طرح پاکستانی فوج کی تعریف اور حمایت کرتے دکھائی دیے۔

ندا کرمانی جنگ کے حمایتی پاکستانیوں کو مخاطب ہوتے ہوئے کہتی ہیں کہ آپ ان لوگوں سے مختلف نہیں جن پرکل تنقید کر رہے تھے۔ بارڈر کے دونوں طرف جنگی جنون رکھنے والے لوگ ایک جیسے نفرت کرنے والے ہیں۔

اسی بارے میں