لائن آف کنٹرول پر کشیدگی: پاکستان نے فضائی حدود کمرشل پروازوں کے لیے بند کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ Flight Radar
Image caption پاکستان کی خالی فضائی حدود جس میں کمرشل پروازیں بالکل موجود نہیں ہیں۔

پاکستان نے اپنی فضائی حدود کمرشل پروازوں کے لیے بند کر دی ہیں جس کے بعد اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک کمرشل پروازیں نہیں اڑ سکیں گی۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی پاکستان نے ایک سرکاری نوٹیم (نوٹیفیکیشن ٹو ایئر مین) جاری کیا ہے جس کی رو سے فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں۔

اس کے بعد تمام بین الاقوامی پروازیں جو پاکستان کے اوپر سے گزر کر یورپ اور مغربی ممالک کی جانب جاتی تھیں وہ اب بحیرۂ عرب کے اوپر یا چین کی جانب سے جا رہی ہیں اور شمالی سرحد سے بچ کر پرواز کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کا دو انڈین جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ

بالاکوٹ میں انڈین طیارے پاکستانی طیاروں سے کیسے بچے؟

تصویر کے کاپی رائٹ CAA
Image caption پاکستان سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹیفیکیشن ٹو ایئرمین۔

ویب سائٹ فلائٹ ریڈار پر دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود بدھ کی دوپہر سے بالکل خالی ہیں، خصوصاً لاہور، فیصل آباد، ملتان، سیالکوٹ، بہاولپور، رحیم یار خان کے ہوائی اڈوں پر پروازوں کی آمدورفت بالکل نہیں ہے۔

اب سے کچھ دیر قبل اومان ایئر کی ایک پرواز جو لاہور اترنی تھی اسے کراچی اتارا گیا جبکہ سعودی عربین ایئرلائنز کے ایک پرواز ملتان کے ہوائی اڈے پر اترنے کی بجائے کراچی بھجوا دی گئی۔ جو چند بین الاقوامی پروازیں پاکستان کے اوپر سے گزر رہی تھیں وہ اب سرحد پار کر چکی ہیں جبکہ باقی واپس جا چکی ہیں۔ ان میں سے فلائی دبئی کی دہلی سے دبئی کی پرواز کافی دیر سرحد پر انتظار کرنے کے بعد اجازت ملنے پر پاکستان کے اوپر سے گزری۔

سنگاپور ایئرلائن کا ایئربس اے تھی ایٹی جو پاکستان کی فضائی حدود کے پاس اکر گزرنے کے لیے کوشش کرنے کے بعد واپس مڑ کر دبئی اترا ہے تاکہ ایندھن حاصل کر سکے۔ اسی طرح کے ایل اے اور ایئر فرانس کی پروازیں بخارسٹ میں اتر کر ایندھن حاصل کر رہی ہیں۔

اب سے کچھ دیر قبل پشاور سے راس الخیمہ کی پرواز روانہ ہوئی ہے جو فضائی حدود میں واحد کمرشل پرواز ہے۔

سول ایوی ایشن حکام کے مطابق فضائی حدود کو حفظِ ماتقدم اور سویلین طیاروں اور مسافروں کی سہولت کے پیشِ نظر بند کیا گیا ہے۔

دوسری جانب انڈیا سے مشرق وسطیٰ اور دوسری جانب جانے والے طیارے سرحد سے ہٹ کر گزر رہے ہیں جبکہ لیہے، جموں، سرینگر اور پٹھان کوٹ کی فضائی حدود کمرشل پروازوں کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے کئی کمرشل پروازیں رکی ہوئی ہیں یا واپس جارہی ہیں۔

اسی بارے میں