پائلٹ کی واپسی: قوانین، قیدی کے حقوق اور مشترکہ روایات

پائلٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی فوجی اس جہاز کے ملبے کے پاس موجود جو بدھ کو پاکستان نے مار گرایا اور اس کے پائلٹ کو گرفتار کر لیا

انڈیا اور پاکستان نے گذشتہ روز ایک دوسرے پر فضائی حدود کی خلاف ورزی کے نئے الزامات عائد کیے اور پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان میں داخل ہونے والے دو انڈین طیاروں کو مار گرایا ہے اور کم از کم ایک ہواباز کو حراست میں لے لیا ہے۔ لیکن یہ پہلی بار نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کا ممکنہ تبادلہ ہو گا۔ بی بی سی اردو کے سلیم احمد قاضی نے ماضی کے چند اہم واقعات کی روشنی میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ونگ کمانڈر ابھینندن کی وطن واپسی کیسے ممکن ہو پائے گی۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگی قیدیوں کی حراست اور برسوں بعد رہائی کا سب سے بڑا واقعہ سنہ 1971 کی پاکستان بھارت جنگ کے دوران پیش آیا تھا جب مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں نوے ہزار سے زیادہ پاکستانی فوجی جنگی قیدی بن گئے تھے۔

ان قیدیوں کی رہائی اور مرحلہ وار پاکستان واپسی شملہ معاہدے کے تحت عمل میں آئی تھی جس پر اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور وزیر اعظم اندرا گاندھی نے دستخط کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

کنٹرول لائن پر کشیدگی برقرار، شہریوں کی نقل مکانی جاری

’بات بگڑی تو نہ میرے ہاتھ میں رہے گی اور نہ مودی کے‘

نریندر مودی کی مسلح افواج کے سربراہوں سے ملاقات

’جنگ کی خوشی پالنا امیروں کا شوق ہے‘

اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سنہ 1999 کی کارگل کی لڑائی کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ ایک ملک کے کسی فوجی کو دوسرے ملک نے حراست میں لیا ہے۔

اگرچہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان آئے روز قیدیوں کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے لیکن یہ قیدی اکثر ایسے غیر فوجی افراد، دیہاتی اور مچھیرے ہوتے ہیں جو مویشیوں یا مچھلیوں کی تلاش میں غلطی سے دوسرے ملک کی حدود میں پہنچ جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان اور انڈیا کے مابین 1999 میں کارگل کے میدان میں جنگ ہوئی تھی

لیکن فوجیوں کا معاملہ دوسرا ہوتا ہے۔

سنہ 1999 میں کارگل کی جنگ میں پاکستان کی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کے قریب انڈین فضائیہ کے دو مِگ 29 طیارے مار گرائے تھے۔ جو دو ہواباز اس آپریشن میں شامل تھے ان میں سے پاکستان کی جانب سے ایک کو زندہ جبکہ دوسرے کی لاش کو انڈیا کے حوالے کیا گیا تھا۔

اس فضائی لڑائی میں مارے جانے والے سکواڈرن لیڈر اجے اہوجا کی لاش کی حوالگی کا معاملہ متنازعہ رہا کیونکہ انڈیا کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج نے انھیں بھی زندہ پکڑا تھا لیکن بعد میں ہلاک کر دیا۔

پاکستان کا موقف تھا کہ اگر انھیں انڈین ہوابازوں کو ہلاک کرنا ہوتا تو وہ دونوں کو کر سکتے تھے، بلکہ ان کے پاس فلائیٹ لیفٹینٹ کمبامپتی نچِکیتا کو مارنے کا جواز زیادہ تھا کیونکہ جب ان کے طیارے کو نشانہ بنایا گیا تو وہ طیارہ تباہ ہونے سے پہلے ایمرجنسی بٹن دبا کر پیرا شوٹ کے ذریعے زمین پر اتر چکے تھے اور انھوں نے موقع پر موجود پاکستانی فوجیوں پر گولیاں بھی چلائی تھیں۔

قطع نظر لاش حوالہ کرنے کے تنازعے کے، اس واقعے میں فلائیٹ لیفٹینٹ کمبامپتی نچِکیتا کی حراست اور چند دن بعد حوالگی کی خبروں کی بازگشت برسوں بعد بھی سنائی دیتی رہی، تاہم اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ جنگی قیدیوں سے متعلق بین الاقوامی قوانین کیا کہتے ہیں۔

جنیوا کنونشن کیا ہے؟

جنگی قیدیوں کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین میں سب سے معتبر دستاویز جینوا میں طے پانے والا ایک معاہدہ ہے جسے عرف عام میں ’جنیوا کنونشن‘ کہا جاتا ہے۔ اس دستاویز پر پہلی مرتبہ سنہ 1929 میں اتفاق کیا گیا تھا، تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد سنہ 1949 میں پہلے معاہدے میں خاصی تبدیلیاں کی گئیں اور اس میں جنگی قیدیوں سے سلوک کے حوالے سے کئی شقوں کا اضافہ کیا گیا۔ اس معاہدے کو تیسرا جنیوا معاہدے یا ’تھرڈ جنیوا کنونشن‘ کہا جاتا ہے۔

اب تک دنیا کے 149 فریق اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں، جن میں انڈیا اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 1949 میں جنیوا کے مقام پر جنگی قوانین اور قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے معاہدے کیا گیا تھا

جنیوا کنونشن ہر رکن ملک کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی جنگی قیدی سے تفتیش کے دوران ہر قسم کے جسمانی یا ذہنی تشدد یا کسی بھی قسم کے دباؤ سے پرہیز کرے گا، اور جس قدر جلد ممکن ہو گا، قیدی کو جنگ کے مقام سے دُور لے جائے گا۔

کنونشن کی شق نمبر49 تا 57 کا تعلق ایسے قیدیوں سے ہے جنھیں جلد اپنے ملک کے حوالے نہیں کیا جاتا۔ ایسے قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ان سے کوئی ایسا کام یا مشقت ب نہ لی جائے جو ان کے فوجی عہدے کے شایان شان نہ ہو۔

یعنی نہ صرف ان کے عہدے، عمر اور جنس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے بلکہ ان سے کوئی ایسا کام بھی نہیں کرایا جا سکتا ہے جو مضر صحت یا خطرناک ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی مسلح تصادم`

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس حوالے سے بین الاقوامی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے بتایا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کسی بھی قیدی کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے اس پر انٹرنیشنل آرمڈ کانفلکٹ (بین الاقوامی مسلح تصادم) کے قوانین کا اطلاق بھی ہوتا ہے۔

یہ ایک لیگل فریم ورک یا قانونی ڈھانچے کا نام ہے جو اس وقت عمل میں آتا ہے جب کسی مقام پر جنگ کی صورتِ حال ہو، یعنی فوج کی موجودگی بہت زیادہ ہو اور وہ علاقہ زیر قبضہ بھی ہو۔ یہ دو چیزیں مل کر اسے انٹرنیشنل آرمڈ کانفلکٹ بنا دیتی ہیں۔

اگر ایسے تنازعے یا مسلح تصادم میں کشیدگی بڑھتی ہے اور کوئی شخص گرفتار ہوتا ہے تو اس کی قانونی حیثیت ایک کمبیٹنٹ یا لڑنے والے سپاہی کی ہوتی ہے۔ گویا جو پائلٹ اس وقت پاکستان کی حراست میں ہیں انھیں کمبیٹنٹ یا جنگی قیدی کے حقوق حاصل ہوں گے اور وہ جس بھی قانونی سلوک کے مستحق ہوں گے وہ دیا جانا چاہیے۔

انسانی حقوق اور جنگی قیدی

اس سوال کے جواب میں کہ آیا ایسے معاملات میں انسانی حقوق کے کسی قانون کا اطلاق ہوتا ہے، احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ اس قسم کے معاملات میں انسانی حقوق کے عمومی قوانین کی بجائے انٹرنیشنل ہیومینیٹیرین لاء کا اطلاق ہوتا ہے، ایسے قوانین جو آپ سے انسانیت کا تقاضا کرتے ہیں۔

’یعنی پائلٹ کے معاملے کو آپ انٹرنیشنل ہومینیٹیرین لاء اور کانفلکٹ لاء کے پیرائے میں دیکھیں گے۔‘

اس قانونی ڈھانچے کا اطلاق نہ صرف کشمیر کے محاذ پر پکڑے جانے والے فوجیوں پر ہوتا ہے بلکہ کشمیری عسکریت پسندوں کی قانونی حیثیت بھی ایک کمبیٹنٹ یا سپاہی کی ہو جاتی ہے اور ان پر بھی بین الاقوامی قوانین کے عمومی اصولوں کا اطلاق ہوتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ایسے لوگ جو مقبوضہ علاقے میں رہ رہے ہیں اور اپنے حق خود ارادیت کے لیے لڑ رہے ہوں، انھیں بھی طاقت کے استعمال کا حق ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کارگل کی لڑائی میں پاکستانی فوج کی حراست میں لیے جانے والے فلائیٹ لیفٹینٹ کمبامپتی نچِکیتا

فلائیٹ لیفٹینٹ نچِکیتاکی حوالگی

کارگل کی لڑائی میں پاکستانی فوج کی حراست میں لیے جانے والے فلائیٹ لیفٹینٹ کمبامپتی نچِکیتا کی انڈیا کو حوالگی کے سلسلے میں بی بی سی ہندی کے نامہ نگار ونیت کھرے نے گوپلسوامی پارتھا سارتھی سے بات کی جو اُس وقت پاکستان میں انڈیا کے سفیر تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کمبامپتی نچِکیتا کی حوالگی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔

ان کے بقول اس وقت کے پاکستان کے وزیر اعظم نے انھیں کہا تھا کہ وہ انڈین پائلٹ کو سب کے سامنے مسٹر پارتھاسارتھی کے حوالے کریں گے۔

واقعے کے تفصیل بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے انھیں جناح ہال میں آنے کا کہا تھا، لیکن انھوں نے وہاں آنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک انڈین پائلٹ کو ذرائع ابلاغ کے سامنے ان کے حوالے کیا جائے۔ اس کے بعد یہ طے پایا کہ پاکستانی حکام کمبامپتی نچِکیتا کو اسلام آباد میں انڈیا کے سفارتخانے میں مسٹر پارتھاسارتھی کے حوالے کریں گے۔

یہ تنازع اس وقت ختم ہوا جب تین جون سنہ 1999 کو کمبامپتی نچِکیتا کو انٹرنیشنل ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا، جنھوں نے انھیں بحفاظت انڈین سفارتکاروں کے سپرد کر دیا۔

انڈیا واپسی کے بعد فلائیٹ لیفٹینٹ کمبامپتی نچِکیتا نے انڈین فضائیہ میں اپنی ملازمت جاری رکھی اور آج کل گروپ کیپٹن کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس دوران انھیں فوجی اعزاز سے بھی نوازا گیا۔

فلائیٹ لیفٹینٹ کمبامپتی نچِکیتاکی یادیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فلائیٹ لیفٹینٹ کمبامپتی نچِکیتا کو 27 مئی 1999 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سکردو کے قریب سے حراست میں لیا گیا تھا۔

انڈیا واپس پہنچنے پر جب سے ان سے پوچھا گیا کہ حراست کے دوران ان سے کیا سلوک کیا گیا تو انھوں نے کوئی تبصرہ کیے بغیر صرف اتنا کہا تھا کہ وہ کسی طرح واپس کشمیر پہنچ کر اپنا مشن جاری رکھنا چاہتے تھے۔

تاہم کئی برس بعد انھوں نے حراست کے دوران کے واقعات کی تفصیل انڈیا کے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتائی۔

اس گفتگو میں گروپ کیپٹن کمبامپتی نچِکیتا نے بتایا کہ پاکستانی فوج کے جن جوانوں نے انھیں حراست میں لیا وہ ان پر تشدد کرنا چاہتے تھے کیونکہ 'ان کی نظر میں، میں وہ دشمن تھا جو کچھ دیر پہلے فضا سے ان پر گولیاں برسا رہا تھا، لیکن خوش قسمتی سے جو افسر وہاں پہنچا وہ سمجھ دار نظر آتا تھا۔‘

’اس نے صورت حال کو بھانپ لیا اور اسے سمجھ آ گئی کہ اب میں ایک قیدی ہوں اور میرے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جو کسی قیدی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس افسر نے جوانوں کو کنٹرول کیا، جو کہ ایک بڑی بات تھی کیونکہ جوان بہت غصے میں تھے۔'

یہ پاکستانی افسر ائیر کموڈور (ریٹائرڈ) قیصر طفیل تھے جو کارگل جنگ کے دوران پاکستانی فضائیہ کے ڈائریکٹر آپریشنز تھے۔

گروپ کیپٹن کمبامپتی نچِکیتا کے بقول قیصر طفیل انھیں جوانوں کے نرغے سے چھڑا کر اپنے کمرے میں لے گئے جہاں وہ ان سے پوچھتے رہے کہ تمیں کیا پسند ہے، کیا ناپسند ہے۔

قیصر طفیل نے انھیں اپنے والد کے عارضۂ قلب کا بتایا اور اپنی بہن کی شادی کا بھی۔ دونوں کے درمیان یہ گپ شپ ان کے لیے خصوصی طور پر منگائے گئے بغیر گوشت والے سنیکس اور چائے پر ہوئی۔

اسی حوالے سے ایک معروف انڈین اخبار سے بات کرتے ہوئے ائیر کموڈور (ریٹائرڈ) قیصر طفیل نے بتایا تھا کہ ’میرے اور نچِکیتا کے درمیان اتنی ہی دوستانہ گفتگو ہو رہی تھی جو دو فوجی افسران کے درمیان ہوتی ہے۔‘

’ہم چائے بسکٹ کے ساتھ ساتھ ہوابازی کے متعلق ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔۔۔ میرے ذمہ صرف یہ کام تھا کہ میں ان سے پوچھوں کہ وہ کس مشن پر تھے اور انھیں کن حالات میں اپنے جہاز سے کودنا پڑا۔‘

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ائیر کموڈور (ریٹائرڈ) قیصر طفیل کا کہنا تھا کہ ’یہ جان کر مجھے اتنی حیرت ہوئی کہ ہمارے درمیان کتنی زیادہ چیزیں مشترک ہیں۔ میں نے نچِکیتا سے پوچھا کہ وہ اس مشن پر آنے سے پہلے کیا کر رہے تھے، تو انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی بہن کی شادی کے انتظامات کے لیے چھٹی پر تھے۔ یہاں (پاکستان) میں بھی بھائیوں سے اپنی بہن کی شادی پر یہی توقع کی جاتی ہے۔‘

کیا ابھینندن وطن واپس لوٹ پائیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Pid
Image caption انڈین پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن

پاکستانی فوج نے زیر حراست پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ یو ٹیوب پر دستیاب ایک منٹ 20 سیکنڈ دورانیے کی اس ویڈیو میں ان سے چند سوالات کیے گئے جن کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ان سے پاکستان میں اچھا سلوک ہو رہا ہے اور اگر وہ اپنے ملک واپس گئے تو اپنا بیان نہیں بدلیں گے۔

گروپ کیپٹن کمبامپتی نچِکیتا کی طرح ونگ کمانڈر ابھینندن نے بھی یہ گفتگو چائے پیتے ہوئے کی اور پاکستانی فوج کی چائے کی تعریف بھی کی ہے، تاہم یہ آنے والے دنوں میں ہی معلوم ہوگا کہ چائے کے باغات کے لیے مشہور جنوبی انڈیا سے تعلق رکھنے والے ونگ کمانڈر ابھینندن کی چائے سے رغبت انڈیا پاکستان کی حالیہ کشیدگی کی نذر تو نہیں ہو جائے گی۔

اسی بارے میں