پائلٹ کی رہائی اور انڈیا کا ایف-16 گرانے کا دعویٰ: ’الیکشن کے لیے انڈیا کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا‘

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں کہا کہ ’انڈیا نے پلوامہ کے بارے میں ڈویزئیر بھیجا ہے مگر اس سے پہلے انھوں نے حملہ کر دیا‘

انڈین حکام نے پاکستان کی جانب سے پائلٹ کی رہائی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔

گذشتہ روز پاکستان کے وزیراعظم نے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں انڈیا کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کو کل یعنی جمعے کو رہا کرنے کا اعلان کیا۔

لیکن انڈین فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کی صبح پاکستان کی جانب سے انڈین عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کے بعد ہونے والی لڑائی میں ایک پاکستانی ایف 16 طیارہ بھی گرایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا، پاکستان 2001 میں جنگ کے دہانے سے کیسے واپس آئے؟

دو ہمسائیوں کے درمیان امن کی بڑھتی خواہش

پاکستان، انڈیا کشیدگی: پس پردہ سفارتی کاوشیں

’مودی سے بات کرنے کی کوشش کی‘

وزیراعظم عمران خان نے ایوان کو بتایا کہ 'آج انڈیا نے پلوامہ کے بارے میں ڈویزئیر بھیجا ہے مگر اس سے پہلے انھوں نے حملہ کیا۔ '

ان کا کہنا تھا کہ ہم تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہمیں حملے کا پتہ چلا مگر چونکہ ہمیں علم نہیں تھا کہ کتنا نقصان ہوا ہے تو ذمہ دار ریاست کا ثبوت دیتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا کہ انتظار کیا جائے اگرچہ ہمیں پتا تھا کہ عوام کا دباؤ ہو گا۔ ہماری کوشش ہے کہ جاری کشیدگی کو کم کیا جائے۔ ان کو سمجھنا چاہیے کہ کیا ظلم کے ذریعے وہ کشمیر کو قابو میں رکھ لیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ '20 سال پہلے کشمیری لیڈر علیحدگی نہیں چاہتے تھے مگر اب کشمیری آزادی کے علاوہ کچھ اور نہیں چاہتے۔ ان کو سوچنا چاہیے کہ کیوں ایک 19 سال کے نوجوان کو موت کا خوف ختم ہوا۔ انڈیا میں کشمیر کے معاملے پر بات چیت کی ضرورت ہے۔ کیا آپ ہمیشہ پاکستان پر انگلیاں اٹھائیں گے؟ جس طرح کے ہتھکنڈے موجودہ حکومت استعمال کر رہی ہے، الیکشن کے لیے انڈیا کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس خطے میں امن ہو۔ جنگ نہ پاکستان کو فائدہ دیتی ہے نہ انڈیا کو۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ونگ کمانڈر ابھینندن کو آج رہا کیا جانا ہے

انھوں نے بتایا کہ 'میں نے کل بھی مودی سے بات کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اس عمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ میں انڈیا کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ مزید کوئی کارروائی نہ کریں کیونکہ ایسی صورت میں ہم بھی کارروائی پر مجبور ہوں گے۔'

پاکستان میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں آخر کار فریقین کو صلح کرنا پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر بھارتی الزامات مودی کے انتخابی ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ کل پاکستان فضائیہ کے شاہینوں نے 1965 کی جنگ کی یاد تازہ کر دی۔ ہماری مسلح افواج عوام کے تحسین کے حقدار ہیں۔

Image caption پاکستان کے چند شہروں میں جنگ کے بجائے امن کا پیغام دینے کے لیے ریلیاں بھی نکالی گئیں

انھوں نے یہ بھی کہا کہ انڈیا کشمیریوں کا خون پانی کی طرح بہا رہا ہے۔ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے محکمہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر کی جانب سے دی گئی اپ ڈیٹ کے مطابق انڈین فائرنگ سے چار عام شہری ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

گذشتہ 48 گھنٹوں میں انڈین فوجیوں نے ایل او سی پر کوٹلی، کھوئی رتا اور تتا پانی سیکٹرز میں فائرنگ کی جس کا پاکستانی فوج نے مؤثر جواب دیا ہے۔

پاکستان اور انڈیا میں جاری کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان چلنے والی ریل سروس، سمجھوتہ ایکسپریس، معطل کر دی گئی ہے جس کے وجہ سے درجنوں مسافر شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کی جانب سے غلط معلومات دی گئیں: انڈین حکام

’ہم نے بھی ایک پاکستانی ایف 16 طیارہ مار گرایا‘

جمعرات کی شام انڈین ایئر وائس مارشل کپور نے پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ یہ طیارہ ایل او سی کے پار پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حدود میں گرا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے پائلٹس کی تعداد اور طیاروں کے حوالے سے ابتدا میں غلط معلومات دی گئیں۔

انڈین ایئر وائس مارشل کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کھلے علاقے میں نہیں بلکہ انڈیا کی ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ فارمیشن کمپاؤنڈ میں ہتھیار پھینکے گئے تاہم وہ کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا سکے۔

سمجھوتہ ایکسپریس کی سروس معطل

سمجھوتہ ایکسپریس نے آج صبح آٹھ بجے لاہور سے انڈیا کے لیے روانہ ہونا تھا تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

لاہور ریلوے سٹیشن میں واقع گرین لائن سروس کے ویٹنگ روم میں لگ بھگ 45 انڈیا جانے والے مسافر موجود ہیں اور ان میں بچے بھی شامل ہیں۔

ان مسافروں کو پاکستان ریلوے کی جانب سے صرف بیٹھنے کی سہولت دی گئی ہے اور کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں ہے۔ ان مسافروں میں سے کچھ کے پاس ٹکٹس ہیں جبکہ کچھ نے ابھی ٹکٹ خریدنے تھے۔

Image caption ان مسافروں کا کہنا ہے کہ ہمیں ملک واپس جانے دیا جائے اگر ٹرین نہیں جا سکتی تو ہمیں پیدل ہی جانے دیں

مسافروں کو بتایا گیا ہے کہ حکام کے درمیان اس حوالے سے بات چیت جاری ہے، تاہم انھیں حتمی طور پر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ ٹرین کب چلے گی۔

خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے انڈین پائلٹ کو چھوڑنے کے اعلان سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھیں پاکستان اور انڈیا کی جانب سے 'پرکشش اور معقول خبریں' مل رہی ہیں۔

اسی بارے میں