پاکستان انڈیا کشیدگی: تبدیلی کا ایک اشارہ بدھ کو ملا

تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اس دوران انڈیا کی زیادہ تر توجہ سفارتی اقدامات پر مرکوز ہے۔

صورتحال میں تبدیلی کا کچھ اشارہ بدھ کو اس وقت ملا جب انڈیا نے جاری کشیدگی کے دوران پہلی بار جیش محمد کی سرگرمیوں کے بارے کچھ دستاویزات دلی میں پاکستان کے عارضی ہائی کمشنرکو سونپی اور پاکستان سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال نے برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر سے موجودہ صورتحال پر مفصل بات بھی کی ہے۔ انہوں نے یوروپی ممالک کے بعض دیگر ہم منصبوں سے بھی رابطہ قائم کیا ہے۔

مزید پڑھیے:

فلائیٹ لیفٹینٹ نچِکیتا کیسے واپس گئے تھے؟

’ٹارچ بھی نہیں جلاسکتے تھے‘

’چائے پلائیں مگر جنگ نہ کریں‘

پاکستان اور انڈیا کی عسکری قوت کا تقابلی جائزہ

تصویر کے کاپی رائٹ MONEY SHARMA

تینوں مسلح فواج کے سربراہوں نے آج(جمعرات) صبح وزیر دفاع نرملا سیتا رمن سے ملاقات کی ہے اور انہیں صورتحال کے بارے میں بریف کیا۔ انڈیا میں زیادہ تر بحث اب اس انڈین پائلٹ پر مرکوز ہے جو پاکستان کے قبضے میں ہے۔ آج شام پانچ بجے بری فوج اور فضائیہ کی کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس ہو رہی ہے۔

اس دوران ملک میں اپوزیشن کی 21 جماعتوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر نکتہ چینی کی ہے کہ وہ موجودہ کشیدگی اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں پر سیاست کر رہے ہیں۔

بدھ کی شام ایک پروگرام میں کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعظم منمموہن سنگھ نے انڈیا اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ موجودہ کشیدگی ختم کرنے کے لیے قدم اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ دونوں ملکوں کے لیے تباہ کن ہوگی۔ منموہن سنگھ نے کہا 'ہماری اصل لڑائی غربت اور افلاس سے ہے۔ ہمیں اپنی توجہ معیشت پر مرکوز کرنی ہوگی۔ جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔'

اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے بی جے پی کے حامیوں اور لاکھوں ’بوتھ ورکرز‘ سےانتخابات کی تیاریوں کے بارے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'ملک اس وقت ایک امتحان سے گزر رہا ہے۔ اس مرحلے پر ہمیں اپنی سیکوریٹی فورسز کا حوصلہ بلند رکھنا ہے۔'

اسی بارے میں