غیر ریاستی عناصر کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں: شاہ محمود قریشی

شاہ محمود قریشی
Image caption پاکستان چاہتا ہے کہ خطے کے امن کو سیاست کی نظر نہ کیا جائے: شاہ محمود قریشی

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان غیرریاستی عناصر کو ملک اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا اور وہ شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے بی بی سی کے نامہ نگار عثمان زاہد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت کسی ملیشا یا کسی جنگجو تنظیم کو ہتھیاروں کے استعمال اور ان کے ذریعے دہشتگردی کے پھیلاؤ کی اجازت نہیں دے گی۔ ’اگر کوئی گروپ ایسا کرتا ہے تو پاکستان کی حکومت ان کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔‘

انھوں نے کہا : ’ہم غیر ریاستی عناصر کو اپنے ملک اور خطے کو اس دہانے پر کھڑا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

یہ بھی پڑھیئے

اوڑی سے پلوامہ حملے تک

کیا پلوامہ حملہ انٹیلیجنس کی ناکامی تھا؟

کیا اپوزیشن دہشت گردوں کے ساتھ ہے؟: نریندر مودی

پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان پر .انڈین پائلٹ کو رہا کرنے کے لیے نہ تو کوئی دباؤ تھا اور نہ ہی کوئی مجبوری۔

’ہم انھیں یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ ہم آپ کے دکھ میں اضافہ نہیں چاہتے، ہم آپ کے شہریوں سے بدسلوکی نہیں چاہتے، ہم تو امن چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ خطے کے امن کو سیاست کی نظر نہ کیا جائے۔

کشمیر کے علاقے پلوامہ میں دہشتگرد حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم جیش محمد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود نے کہا کہ ہر معاشرے میں شدت پسند عناصر ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا ’کیا بھارت میں ایسے عناصر نہیں ہیں، گجرات میں جو کچھ ہوا، کس نے کیا، کس کی ایما پر ہوا۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں نہیں جانا چاہتا لیکن اگر ماضی میں گئے تو پھر یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ پارلیمنٹ پر حملہ کیسے ہوا، پٹھان کوٹ اور اوڑی میں کیا ہوا، ایک لمبی داستان ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر ہمیں جیش محمد کی شدت پسندانہ کارروائیوں کے بارے میں شواہد دیے گئے تو کارروائی ہو گی۔

اسی بارے میں