انڈین پائلٹ ابھینندن کو بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ PTV

پاکستان میں بدھ کے روز پکڑے جانے والے انڈین پائلٹ ابھینندن کو جمعہ کے روز انڈین حکام کے حوالے کیا گیا۔

انڈین پائلٹ کو واہگہ بارڈر پر پاکستان میں موجود انڈین ہائی کمیشن کے حکام کی موجودگی میں انڈیا کے حوالے کیا گیا۔

پاکستانی حکام کی طرف سے سرکاری طور پر یہ کہا گیا تھا کہ انڈین پائلٹ کو جمعہ کے روز دوپہر تین بجے کے لگ بھگ انڈین حکام کے حوالے کیا جائے گا لیکن پائلٹ کو انڈیا کے حوالے کرنے میں کئی گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔

ذرائع کے مطابق انڈین پائلٹ کی حوالگی میں تاخیر پائلٹ کے میڈیکل چیک اپ کی وجہ سے ہوا جس کا کیا جانا ضروری تھا۔

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے پائلٹ ابھینندن کو خوش آمدید کہتے ہوئے لکھا کہ 'پوری قوم کو آپ کی مثالی جرت پر فخر ہے۔'

انڈیا میں مشہور شخصیات بشمول سیاسیتدانوں کے پائلٹ ابھینندن کی واپسی پر مسرت کا اظہار کر رہے ہیں اور انہیں خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔ کانگرس کے رہنما راہول گاندھی کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا 'ونگ کمانڈر ابھینندن آپ کا وقار، شعور اور بہادری پر ہمیں فخر ہے۔ واپسی پر خوش آمدید، بہت پیار'

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران امن کے پیغام کے طور پر ابھی نندن کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

واہگہ اور اٹاری بارڈر پر گہما گہمی

Image caption انڈیا میں پائلٹ ابھینندن کے استقبال کی تیاریاں عروج پر ہیں

امرتسر سے لاہور کی جانب 26 کلومیٹر کے فاصلے پر اٹاری چیک پوسٹ پر لوگوں کا ایک بڑا ہجوم انڈین ونگ کمانڈر ابھینندن کی حوالگی کو دیکھنے کے لیے جمع تھا۔ اس تقریب کو مقامی، قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل ہے۔

امرتسر بارڈر پر روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں سیاح آتے ہیں۔ عموماً آنے والے لوگوں کے علاوہ مقامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد بھی آج یہاں موجود تھی۔

یہاں جمع لوگ ڈھول کی تھاپ اور مقبول پنجابی گانوں پر بھنگڑے ڈال کر اپنےاحساسات کا اظہار کرتے رہے۔ میڈیا کو بارڈر سے ڈیڑھ کلو میٹر دور روک دیا گیا تھا

انڈین باڈر سکیورٹی فورس کی جانب سے اٹاری کے مقام پر روزانہ سرحد کی بندش کے وقت کی جانے والی پریڈ جمعے کے روز کے لیے منسوخ کر دی گئی۔

پاکستان نے بدھ کے روز انڈیا کا طیارہ مار گرایا تھا جس کے پائلٹ ابھی نندن کو پاکستانی فوج نے کشمیر کے علاقے سے حراست میں لے لیا تھا۔

واہگہ کے مقام پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ نامہ نگار موسیٰ یاوری کے مطابق یہاں آنے والے کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ حسبِ معمول واہگہ کے مقام پر پریڈ دیکھنے کے لیے آئے تھے مگر وہ پاکستان کی جانب سے انڈین پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کی واپسی میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں اور انھیں دیکھنا چاہتے ہیں۔

وِنگ کمانڈر کے ساتھ اب کیا ہوگا؟

ابھینندن کو انڈیا کے حوالے کیے جانے سے پہلے اور اس کے بعد کیا کیا ہوگا، اس بارے میں بی بی سی نے میجر جنرل راج مہتا سے بات کی۔

انھوں نے بتایا: 'سب سے پہلے انٹرنیشنل ریڈ کراس سوسائٹی ابھینندن کو اپنے ساتھ لے کر جائے گی اور ان کا مکمل معائنہ کیا جائے گا۔ اس معائنے کا مقصد یہ طے کرنا ہوگا کہ انہیں کوئی جسمانی نقصان تو نہیں ہوا۔'

'انھیں کسی طرح کے ڈرگس دیے گئے ہوں، اور جسمانی یا ذہنی اذیت دی گئی ہو تو جنیوا کنوینشن کے تحت اس کی تحقیق کرنا ذمہ داری بنتی ہے۔ اس معائنے کے دستاویزات تیار کیے جائیں گے اور انڈین فضائیہ کے حوالے کیے جائیں گے۔'

'انڈیا پہنچنے کے بعد فضائیہ کی میڈیکل ٹیم ابھینندن کا مکمل معائنے کرے گی۔ اس وقت تک اس کام کے لیے ماہرین کو نامزد بھی کر دیا گیا ہوگا۔ اس کے بعد وِنگ کمانڈر سے بات کی جائے گی۔'

'پھر انٹیلیجنس ڈیبریفِنگ ہوگی کہ ان کے ساتھ کیا ہوا، کیسے ہوا۔ پاکستان میں ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا، ان سے کیا پوچھا گیا اور کس بارے میں بات ہوئی۔ اس کے بعد حکومت کو رپورٹ پیش کی جائے گی۔ اگر انڈیا کو لگے کہ اس سب میں کچھ قابل قبول نہیں ہے تو انہیں بین الاقوامی سٹیج پر پیش کیا جائے گا۔'

ابھینندن کی حوالگی کے خلاف دائر درخواست مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پائلٹ ابھینندن کو انڈیا کے حوالے نہ کرنے کے بارے میں دائر کی گئی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس درخواست کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تمام ارکان پارلیمنٹ نے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے انڈین پائلٹ کو واپس بھیجنے سے متعلق اعلان پر اعتراض نہیں کیا تو پھر منتخب ارکان کی حب الوطنی پر کیسے شک کیا جاسکتا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے انڈین پائلٹ کو اس کے وطن واپس بھیجنے کا اعلان اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ عمران خان اپنی تقریر کرنے کے بعد اپنی نشست پر بیٹھ چکے تھے اور پھر اچانک اُنھوں نے کھڑے ہوکر بھارتی پائلٹ کو واپس بھیجنے کا اعلان کردیا۔ اُنھوں نے کہا کہ عوامی جذبات وزیر اعظم کے اس فیصلے کے ساتھ نہیں ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وزیر اعظم نے کس وقت اس بات کا اعلان کیا لیکن سب سے اہم معاملہ یہ ہے کہ وزیر اعظم کے اس اعلان کے بعد کسی بھی منتخب نمائندے نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔

اسی بارے میں