بلوچستان شدید بارش اور برفباری کی زد میں

بلوچستان تصویر کے کاپی رائٹ PDMA

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش اور برفباری کےباعث متعدد علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں رابطہ سڑکیں بند ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق ضلع قلعہ عبداللہ میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کے لئے فوج سے مدد مانگ لی گئی ہے۔

جبکہ متعلقہ صوبائی محکموں کو ہنگامی بنیادوں پر امدادی کاروائیوں کی ہدایت بھی جاری کردی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PDMA

بارش کے حالیہ سلسلے سے قلعہ عبد اللہ ٹاؤن اور گرد و نواح کے علاقے زیادہ متاثر ہوئے۔ کئی گھنٹے جاری رہنے والی بارش کی وجہ سے مختلف علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیے!

پاکستان میں معمول سے زیادہ برفباری، سردیاں طویل

بلوچستان: آواران میں بارش سے تباہی

خضدار میں سیلابی ریلے میں ڈوب کر آٹھ افراد ہلاک

قلعہ عبد اللہ کے مقامی صحافی حیات اللہ اچکزئی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ سیلابی پانی سے متعدد دکانوں اور گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

سیلابی پانی سے نوشکی اور خضدار کے بعض علاقوں کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع میں بھی لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

بارش اور شدید برفباری سے کوئٹہ، قلات، مستونگ، قلعہ سیف اللہ، پشین اور قلعہ عبد اللہ کے اضلاع کے مختلف علاقوں میں رابطہ سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PDMA

پشین کے علاقے توبہ کاکڑی کا راستہ بھی بند ہے۔ اس علاقے کے ایک مکین روزی خان کاکڑ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ توبہ کاکڑی کے راستے بند ہونے سے لوگوں کے لیے آمد و رفت مشکل ہوگئی ہے۔

انھوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ علاقے میں امدادی ٹیمیں بھیجیں تاکہ راستوں کو کھولا جاسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ راستوں کی بندش کی وجہ سے خوراک کی بھی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔

کوئٹہ ژوب، کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ جیکب آباد ہائی وے پر برفباری کی وجہ سے کئی مقامات پرٹریفک معطل رہی جبکہ ان علاقوں میں پھنسے ہوئے مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PDMA

خضدار اور قلعہ عبد اللہ میں مسلسل بارش کی وجہ سے مکانات گرنے کے باعث دو سے زائد افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے حکام کا کہنا ہے کہ رابطہ سڑکوں کو کھولنے کے علاوہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی امداد کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔

جمعہ کی شام کو صوبے کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا شروع ہونے والا سلسلہ سینیچر کو بھی جاری رہا۔

بلوچستان میں چندروز قبل بھی قلات اور کیچ ڈویژن کے پانچ اضلاع میں 8ہزار خاندان سیلاب سے متاثر ہوئے تھے۔

اسی بارے میں