پاکستان انڈیا کشیدگی: ورکنگ باؤنڈری کے قریبی دیہات کے باسی مسلسل خوف کا شکار

سیالکوٹ
Image caption مسرت بی بی اپنے گھر کی چھت پر کھڑی قبرستان کی طرف دیکھتی ڈوپٹے سے آنکھیں پونچھتی ہیں

پاکستان اور انڈیا کو تقسیم کرنے والی ورکنگ باؤنڈری کے قریب واقع گاؤں کندن پور کی مسرت بی بی کے دو ہی بیٹے تھے۔ دونوں کاروبار کرتے تھے اور کچھ عرصہ قبل ان کی شادیاں ہوئی تھیں۔

24 سالہ قمر سجاد اور ان کے 22 سالہ بھائی وقاص علی دستانے بنا کر سیالکوٹ شہر جا کر بیچتے تھے۔ ان کے والد ملک مقصود نے مویشی پال رکھے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

جہاں بچے گولہ بارود سے کھیلتے ہیں

’جنگ کی خوشی پالنا امیروں کا شوق ہے‘

’چائے پلائیں مگر جنگ نہ کریں‘

کیا پاکستان انڈیا کے خلاف F 16 طیارے استعمال کر سکتا ہے؟

سنہ 2015 میں اگست کی ایک رات نے اس خاندان کے افراد کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالات کشیدہ تھے اور صوبہ پنجاب میں ورکنگ باؤنڈری پر دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان تناؤ پایا جاتا تھا۔

سیالکوٹ کے اس گاؤں کُندن پور کے لوگوں نے دن بھر سرحد پر گولیوں کی تڑتڑاہٹ سنی۔ کشیدگی کے دنوں میں ایسا ہونا یہاں کے باسیوں کے لیے معمول کی بات تھی۔ مگر پھر دو کلو میٹر دور سرحد کے اس پار سے مارٹر گولے برسنا شروع ہوئے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستان اور انڈیا کے درمیان محض جھڑپیں کئی زندگیاں تباہ کر دیتی ہیں

ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ لوگ چھپنے کے لیے بھاگے۔ سرحد کے قریب واقع اپنے گھر میں بیٹھے وقاص علی نے اپنے چھوٹے بیٹے وقار علی کو سنبھالا اور ایک کمرے میں پناہ لینے کے لیے دوڑے ہی تھے کہ ان کے صحن میں گولہ آ گرا۔

ان کی والدہ مسرت بی بی اس دن کو یاد کرتے ہوئے اپنی سسکیاں نہیں روک پاتیں۔ 'بڑا (بیٹا) پہلے گیا پھر چھوٹا اپنے بیٹے کو اٹھا کر بھاگا ہی تو اتنے میں اوپر سے وہ (مارٹر کا گولہ) آ گرا۔'

'وہ گرا ہے اور۔۔۔پھر گھر کا گھر تباہ ہو گیا بس۔ ہم کیا کر سکتے ہیں۔'

مسرت کے دو منزلہ پکے مکان کے عین سامنے سڑک کے پار قبرستان ہے۔ اس کے آغاز ہی میں پائے جانے والی تین پکی قبریں ان کے دونوں بیٹوں اور پوتے کی ہیں۔ ان قبروں پر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔

اپنے گھر کی چھت پر کھڑی نیچے قبرستان کی طرف دیکھ دیکھ کر مسرت اپنی نم آنکھیں پونچھتی رہتی ہیں۔

Image caption مارٹر حملے میں مسرت بی بی کے دونوں بیٹے اور ایک پوتا مارے گئے

'ہماری زندگی کا کیا ہے، کل مر جائیں، پرسوں مر جائیں'

قبرستان کے عقب اور پہلو میں دور تک لہلہاتے گندم کے کھیت ہیں۔ ان کے پار مٹی کا کئی فٹ اونچا بند ہے جس کے ساتھ ساتھ سفیدے کے درخت لکیر کی صورت میں دونوں جانب تا حدِ نگاہ چلتے آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔

بند کے اس پار ایک کلو میٹر دور پاکستان اور انڈیا کی سرحد کی نشاندہی کرتی باڑ ہے۔ دونوں طرف فوجیں مورچے سنبھالے ہیں تاہم تاحال یہاں کشیدگی کا کوئی بڑا واقعہ سامنے نہیں آیا۔

مگر مسرت بی بی خوفزدہ ہیں۔ وہ سنہ 2015 کی وہ رات نہیں بھلا پاتیں جب مارٹر حملے میں ان کے دونوں بیٹے اور ایک پوتا مارے گئے۔ چھوٹے بیٹے کی اہلیہ بھی شدید زخمی ہوئیں جو ایک سال زخموں سے لڑنے کے بعد چل بسیں۔

مسرت بی بی کے ایک بیٹے کی بیوہ اور دونوں بیٹوں کے دو دو بچے اب ان کی کفالت میں ہیں۔ وہ خود بوڑھی ہو چکی ہیں۔ ان کے خاوند ملک مقصود کچھ عرصہ قبل اپنا ہاتھ زخمی کر بیٹھے تھے، اب کام کاج نہیں کر سکتے۔ دونوں کو بچوں کے مستقبل کی فکر ہے۔

'کوئی آسرا نہیں۔ کوئی کمانے والا نہیں۔۔۔بس اللہ ہی پر آسرا ہے۔۔۔ہماری زندگی کا کیا ہے، کل مر جائیں، پرسوں مر جائیں۔ اس گھر کا وارث کون ہے؟'

اکیلی مسرت بی بی ہی نہیں۔

70 سالہ منیر احمد بھلی کو یہی پریشانی اپنی دو جوان بیٹیوں کے حوالے سے لاحق ہے۔ ان کا گھر گاؤں کی مرکزی گلی میں مسرت بی بی کے گھر سے چند فرلانگ پر واقع ہے۔

Image caption منیر احمد بھلی

سنہ 2015 کی بمباری میں گاؤں کے سات افراد مارے گئے تھے۔ انھی میں منیر احمد بھلی کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔ وہ خود زخمی ہو کر کئی روز بےہوش رہے تھے۔

'گلی میں کھڑا تھا جب گولہ میرے پاس آ کر گرا۔ میری بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی میری طرف دوڑی تو اتنے میں دوسرا گولہ اس کے پاس گرا۔'

ہوش آنے پر منیر احمد کو معلوم ہوا کہ ان کی اہلیہ ہلاک جبکہ بچے زخمی ہو گئے تھے۔ زخمیوں میں ان کی دو جواں سال بیٹیاں شامل تھیں۔ منیر احمد نے بتایا کہ اس وقت ان کی شادیاں تیار تھیں۔

مارٹر گولے سے نکلنے والے شرلوں نے ان کی ٹانگوں کو اس قدر زخمی کر دیا تھا کہ چار برس بعد بھی وہ صحیح طرح چل نہیں پاتیں۔ 'ان میں ایک تو ابھی بھی بیساکھی کا سہارا لیتی ہے۔ یہ شکر ہے کہ دونوں کم از کم کچھ چل پھر لیتی ہیں، کوئی کام وغیرہ نہیں کر پاتیں۔'

منیر احمد بھلی کی دو ایکڑ زمین ہے۔ اسے اور کاروبار کو ان کے بیٹے دیکھتے ہیں۔ وہ خود گھر ہی کے ایک حصے میں چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔

'جب تک میں زندہ ہوں مجھ سے جو ہو پایا ان (بیٹیوں) کے لیے کروں گا۔ مگر میرے بعد ان کا کیا بنے گا۔ بہتر تو یہی ہوتا ہے کہ بیٹیاں اپنے گھر کی ہو جائیں۔'

Image caption گھر کی دیواروں پر مارٹر گولوں سے نکلنے والے شرلوں کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں

گولہ باری کب ہوتی ہے؟

وہ سامنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 'اس طرف ان (انڈیا) کی چوکی ہے۔ پہلے تو صرف چھوٹی (بندوق کی) گولی چلتی تھی۔ اس سے ہمیں زیادہ خطرہ نہیں تھا۔ مگر اب گولے گرتے ہیں، ان سے ہم کہاں چھپیں۔'

منیر احمد بھلی نے بتایا کہ سنہ 2015 کے بعد سے ایسا شروع ہوا۔ اُس برس سو سے زائد گولے کندن پور پر گرے تھے۔ اس کے بعد جب بھی کشیدگی ہوئی، گولہ باری کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

'ابھی حال ہی میں دو تین ماہ پہلے بھی گولہ باری ہوئی۔ گولہ باری کا کوئی وقت نہیں، کبھی بھی شروع کر دیتے ہیں۔ زیادہ تر رات کے وقت یا صبح صبح ہوتی ہے۔'

وہ سامنے گلی میں کھیلتے بچوں کے پہلو میں واقع گھر کی بیرونی دیوار کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں مارٹر گولوں سے نکلنے والے شرلوں کے نشانات واضح دیکھے جا سکتے ہیں۔

Image caption ایک شرلہ محمد ریاض کے بازو میں اب بھی پیوست ہے

'گولے کا کوئی پتہ نہیں چلتا'

اس چھوٹے سے گاؤں میں تقریباً سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ ایک نوجوان محمد ریاض نے بتایا کہ 'جب سے گولہ باری شروع ہوئی ہے چند لوگ اب کشیدگی کے دنوں میں گھر چھوڑ کر قریبی قصبے ڈالووالی میں رشتہ داروں کی طرف چلے جاتے ہیں۔'

اس کا احساس ڈالووالی سے باہر نکل کر جموں روڈ سے کندن پور میں داخل ہوتے ہی ہوتا ہے۔ یہاں سڑک کے کنارے شاندار مکان کھڑے ہیں مگر شاید خالی ہیں۔ مگر مرکزی گلی سے دائیں بائیں اور سرحد کے قریب واقع حصے کی طرف بڑھیں تو زندگی کے آثار زیادہ ملتے ہیں۔

محمد ریاض کے مطابق 'گولے کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔ اس کے شرلے تو دروازوں کے آر پار ہو جاتے ہیں۔ مگر ہم گھر چھوڑ کر تو نہیں جا سکتے۔' حال ہی میں وہ خود بھی ایک گولے کی زد میں آیے تھے۔ ایک شرلہ ان کے بازو میں اب بھی پیوست ہے۔

ملک مقصود اور مسرت بی بی کے گھر کی دیوار بھی شرلوں اور گولیوں کی ان چوٹوں سے بھری ہے۔ وہ کہتی ہیں حکومت بھی کچھ نہیں بتاتی،

'ہم کہاں جائیں، کیا کریں'

حال ہی میں ایک گولہ ان کے اس نئے گھر سے چند فٹ دور سڑک کنارے گرا تھا جبکہ ایک گولہ سامنے واقع قبرستان کی جنازہ گاہ کی چھت پھاڑتا ہوا عمارت میں گھس گیا تھا۔

پاس کھیلتے اپنے پوتے اور پوتیوں کی طرف دیکھتی مسرت بی بی کہتی ہیں 'ہم نے ان بچوں کے مستقبل کی خاطر اپنا پرانا گھر چھوڑ کر فوج سے جو امداد ملی تھی اس سے یہ گھر بنایا تھا۔ مگر ہم یہاں بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔'

'دشمن اب بھی حملے کر رہا ہے۔ پتہ نہیں ہم سے کیا چاہتا ہے۔ کریں تو حکومت کے ساتھ کریں جو ان کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں، ہم کیا مقابلہ کر سکتے ہیں۔'

ان کے شوہر ملک مقصود نے بتایا کہ تین چار روز قبل وہ گاؤں چھوڑ گئے تھے۔ 'فوج نے اعلان کیا تھا کہ آپ گاؤں خالی کر دیں۔ مگر دو تین دن رہ کر پھر آ گئے ہیں۔ کہاں جائیں گے۔'

ملک مقصود کے مطابق امن کے دنوں میں کھیتی باڑی کے لیے لوگ سرحد پر لگی باڑ تک چلے جاتے ہیں۔ ' کچھ نہیں ہوتا۔ (پاکستان انڈیا کے درمیان) حالات خراب ہوں تو اس طرف نہیں جا سکتے۔ خطرہ ہوتا ہے اور پھر وہاں فوجیں بھی آ جاتی ہیں۔'

دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی زیادہ بڑھے تو یہاں کے لوگوں کی فصلیں اور ان سے منسلک کاروبار بھی متاثر ہوتا ہے۔

کندن پور اور ورکنگ باؤنڈری پر واقع اس جیسے دیگر دیہات کے باسی بھی مسلسل خوف کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انھیں نہیں معلوم کہ کب پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی کشیدگی مسرت بی بی، ان کے گھر کے افراد اور منیر احمد بھلی کی طرح ان کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دے۔

اسی بارے میں