جیشِ محمد کے حماد اظہر اور مفتی عبدالرؤف انڈیا کو مطلوب کیوں؟

جیش محمد کے رہنما تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف حالیہ کارروائی کے نتیجے میں جن 44 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں جیشِ محمد کے اہم رہنما حماد اظہر اور مفتی عبدالرؤف بھی شامل ہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی کا کہنا تھا کہ ان دونوں افراد کے نام انڈیا کی طرف سے پاکستان کو پلوامہ حملے کے بارے میں بھیجے گئے ڈوزیئر میں شامل ہیں۔

خیال رہے کہ جیشِ محمد نے ہی پلوامہ میں انڈیا کے نیم فوجی اہلکاروں کی بس پر خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس حملے میں 40 سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

حماد اظہر اور مفتی عبدالرؤف کون ہیں؟

کالعدم تنظیموں پر تحقیق کرنے والے سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا کا کہنا ہے کہ حماد اظہر اور مفتی عبدالرؤف کالعدم جماعت جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے بھائی ہیں۔

ان کے مطابق یہ دونوں کالعدم جماعت جیش محمد کے سرکردہ اور متحرک رہنما ہیں۔ ان دونوں کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور سے ہے۔

مذہبی اور عسکری تنظیموں پر کام کرنے والے صحافی سبوخ سید نے بی بی سی کو بتایا کہ کالعدم جماعت جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے چار بھائی ہیں۔

ان کے مطابق ان میں سب سے بڑے مولانا ابراہیم، ان سے چھوٹے مفتی عبدالرؤف اصغر، تیسرے نمبر پر خود مولانا مسعود اظہر ہیں، ان کے بعد طلحہ السیف ہیں اور سب سے چھوٹے بھائی حماد اظہر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جیش محمد کے مدرسے کا کنٹرول پنجاب حکومت کے پاس

شدت پسند تنظیم ’جیش محمد‘ کیا ہے؟

انڈین میڈیا پر مسعود اظہر کی موت کی خبریں

ان کا کہنا تھا کہ مفتی عبدالرؤف اور حماد اظہر زیادہ منظر عام پر نہیں رہے لیکن جب مولانا مسعود اظہر نظربند تھے اور پابندیوں کا شکار تھے تو ان دونوں نے کالعدم جماعت کو متحرک رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ کالعدم جماعت کے مالی معاملات زیادہ تر حماد اظہر دیکھتے ہیں جبکہ تنظیمی معاملات مفتی عبدالرؤف اصغر چلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی یا مظفرآباد میں کالعدم جیش محمد کے جلسوں میں ان دونوں بھائیوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مولانا مسعود اظہر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور میں مقیم ہیں

انڈیا نے ان کے نام کیوں دیے؟

عامر رانا کا کہنا ہے کہ انڈیا نے ڈوزیئر میں ان کے نام اس لیے دیے کیونکہ انڈین میڈیا پر آنے والی خبروں اور سکیورٹی ایجنسیز کی معلومات کے مطابق انڈیا یہ سمجھتا ہے کہ بالاکوٹ کا کیمپ جسے گذشتہ ہفتے انڈین ایئر فورس کے طیاروں نے ہدف بنانے کا دعویٰ کیا ہے اس کے سرکردہ رہنماؤں میں یہ دونوں شامل ہیں اور پلوامہ حملے کے ذمہ دار ہیں۔

لیکن انڈیا کا یہ الزام کس حد تک درست ہے اس کا فیصلہ تو ڈوزیئر پر پاکستان کے سرکاری جواب کے بعد ہی ہوگا۔ عامر رانا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے ابھی تک اس ڈوزیئر میں فراہم کی گئی اطلاعات کو مستند قرار نہیں دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انڈیا متعدد بار کالعدم تنظیم جیش محمد کے کردار پر سوال اٹھاتا رہا ہے مگر حماد اظہر کا نام پہلی مرتبہ کسی دہشت گردی کی کارروائی میں سامنے آیا ہے جبکہ مفتی عبدالرؤف کا نام پلوامہ حملے سے پہلے اڑی حملے میں بھی سامنے آچکا ہے۔

انڈین حکومت اور انڈین میڈیا مسعود اظہر اور ان کے خاندان کا نام متعدد بار لیتی رہی ہے۔ اس معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔

صحافی سبوخ سید کا کہنا ہے کہ حماد اظہر اور مفتی عبدالرؤف کے نام جیش محمد کے انتظامی امور کے حوالے سے میڈیا میں آتا رہا ہے تاہم کبھی کسی دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہونے پر میڈیا پر کھل کر ان کا نام نہیں لیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ دونوں بھائی کالعدم جماعت جیش محمد کے تنظیمی حلقوں میں یہ مقبول ہیں۔

اسی بارے میں