نواز شریف جیل میں رہنے پر بضد

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مبینہ بگڑتی صحت کے باوجود سابق وزیراعظم نواز شریف جیل سے ہسپتال نہ جانے پر بضد ہیں جبکہ ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے ان کو منانے کی کوششیں جاری ہیں۔

گذشتہ روز سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے سلسہ وار ٹویٹس کے ذریعے اپنے اسیر والد کی صحت کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا تھا۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث پسِ منظر میں چلے جانے کے بعد نواز شریف کی صحت کے حوالے سے خدشات ان ٹویٹس کے بعد ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

العزیزیہ کیس: نواز شریف کی درخواستِ ضمانت مسترد

’نواز شریف کےحوصلے بلند مگر صحت ساتھ نہیں دے رہی‘

نواز شریف کی بیماری کی نوعیت کیا ہے؟

بدھ کے روز مریم نواز نے بتایا کہ وہ نواز شریف کی والدہ کے ہمراہ کوٹ لکھپت جیل جا رہی ہیں۔ ’مجھے امید ہے کہ وہ ہسپتال جانے کے لیے مان جائیں گے۔ کیا پتہ وہ (نواز شریف کی والدہ) انھیں منانے میں کامیاب ہو جائیں کیونکہ نواز شریف نے کبھی انہیں انکار نہیں کیا۔‘

نواز شریف ہسپتال کیوں نہیں جانا چاہتے؟

ہسپتال نہ جانے کی وجہ بتاتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا ان کے والد ایک ہسپتال سے دوسرے میں دھکیلے جانے کو تیار نہیں جبکہ علاج بھی نہیں کیا جاتا.

مریم نے ایک ٹوئیٹ میں نواز شریف کے انکار کی وجہ بھی بیان کی ہے ان کے مطابق ’ان (نواز شریف) کو علاج کی سہولت اس وقت بھی نہیں دی گئی جب ان کو کافی دن ہسپتال میں رکھا گیا۔ وہ (نواز شریف) کہتے ہیں وہ عذر، فرار یا اور کسی وجہ سے ہسپتال جانا نہیں چاہتے۔‘

مریم کی ٹوئیٹس

منگل کے روز اپنی سلسہ وار ٹوئیٹس میں مریم نواز نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اور نواز شریف کے معالج ان کو کوٹ لکھپت جیل میں ملے ہیں اور اس نشست کے دوران ان کے والد کو انجائنا (سینے میں درد) کی شکایت ہوئی جس کے بعد انھوں نے 'نائٹریٹ سپرے' طلب کیا۔

یاد رہے کہ نائٹریٹ سپرے انجائنا کے درد کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مریم نواز کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد ان کے والد نے انھیں بتایا کہ گذشتہ ہفتے کے دوران ان کو اس نوعیت کے چار اٹیک ہو چکے ہیں۔

مریم نواز نے اس ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ ان کے والد نے ’اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس معاملے کو نہ وہ رپورٹ کریں گے اور نہ ہی اس کی شکایت۔‘

مریم نواز کا کہنا تھا کہ درخواست کے باوجود ان کے والد ہسپتال جانے پر رضامند نہیں ہیں۔

نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کو دل کے مرض کی سنگین شکایت ہے اور اس کے علاوہ گردوں، ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے عارضے بھی لاحق ہے۔

'حکومت نے جو میڈیکل بورڈز تشکیل دیے تھے ان کی رپورٹس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ان (نواز شریف) کو دل کا عارضہ لاحق ہے اور اب وقت کے ساتھ ان کی حالت مذید بگڑی ہے۔`

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر علاج کی مطلوبہ سہولت نہ دی گئی تو موجودہ پیچیدگی بڑھ کر 'مکمل ہارٹ اٹیک` کا باعث بن سکتی ہے اور ایسی صورتحال ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

حکومت کا موقف

دوسری جانب وزیرِ اعلٰی پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گِل نے بی بی سی کو بتایا کہ مریم نواز کے ٹویٹس کے فورا بعد وزیر اعلیٰ نے صوبائی وزارت داخلہ کو حکم صادر کیا تھا کہ اس معاملے کو دیکھیں۔

’حکومت نے انھیں آفر کی ہے وہ پنجاب کے جس سرکاری ہسپتال میں چاہیں حکومت ان کا علاج کروانے کو تیار ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی خاطر خواہ سہولیات میسر ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر اپنے ایک پیغام میں شہباز گل کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے نواز شریف کا طبعی معائنہ کیا جو کہ نارمل آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے دی جانے والی سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی آفر کو نواز شریف نے مسترد کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو ہر طرح کی طبعی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔

عدالت میں درخواست

25 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ سٹیل مل ریفرینس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے دائر کی گئی طبعی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو (جیل میں) علاج کی سہولت دی جا رہی ہے اور مجرم کو ایسی کوئی بیماری لاحق نہیں ہے جس کا علاج ملک میں ممکن نہ ہو۔

ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ تاہم پانچ مارچ کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کی جانب سے اس اپیل کی جلد سماعت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

شہباز شریف کی رائے

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور ایوانِ زیریں میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے بھی بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں نوازشریف کی صحت پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے اس امر پر تعجب کا اظہار کیا کہ (حکومتی) وزراء ای سی ایل میں نام ہونے کے باوجود بیرون ملک جاسکتے ہیں لیکن ملک کو جوہری طاقت بنانے والے کو علاج گاہ لے جانے کی اجازت نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شہباز شریف نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کا اپنے بنائے ہوئے میڈیکل بورڈوں کی رائے نہ ماننا حکومت کی بد نیتی اور اخلاقی پستی ظاہر کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں پہلے ہی کافی تاخیر ہو چکی اور اب جلد از جلد نواز شریف کو عارضہ قلب کی تمام سہولیات رکھنے والے ہسپتال منتقل کیا جائے۔

انھوں نے متنبہ کیا کہ کسی قسم کی تاخیر، غفلت اور مجرمانہ لاپرواہی کی ذمہ دار وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت ہو گی۔

اسی بارے میں