کوہستان ویڈیو سکینڈل: افضل کوہستانی کے ’روپوش‘ بھائی منظر عام پر، عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان میں غیرت کے نام پر پانچ لڑکیوں کے قتل کا مقدمہ دائر کروانے والے افضل کوہستانی جنھیں گذشتہ شب ایبٹ آباد میں قتل کر دیا گیا تھا کے بھائیوں نے پولیس کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد تھانہ کینٹ ایبٹ آباد کے سامنے دھرنا ختم کر دیا ہے۔

افضل کوہستانی کے بھائی بن یاسر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس حکام نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ کیس میں انصاف ہوگا اور ہمارے گرفتار بھانجے کو تفتیش کے بعد چھوڑ دیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس اس وقت پولیس کی بات پر یقین کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں ہے کیونکہ ہم نے اپنے بھائی کی میت کی تدفین بھی کرنی ہے اور اس میں مزید تاخیر سے میت کی بے حرمتی ہو گئی۔

بن یاسر کے مطابق ہمیں انصاف چاہیے، اسی کوشش میں افضل کوہستانی مارا گیا ہمارے چار بھائی قتل ہو چکے ہیں اب انصاف کے لیے جدوجہد کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

افضل کوہستانی کی میت کو پولیس کی حفاظت میں ہسپتال سے الائی بٹ گرام منقتل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

کوہستان ویڈیو: کیا اب انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے؟

کوہستان: خواتین کے لیے موبائل فون موت کی علامت

’غیرت‘ کے نام پر قتل اور میڈیا

’کوہستان قتل کیس میں فورنزک طریقہ کار استعمال کریں‘

پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ افضل کوہستانی کے بھائیوں کو جو شک و شکوک تھے وہ دور کر لیے گے ہیں اور ان کے مقدمے کی تفتیش صاف شفاف انداز میں ہو گئی۔

پولیس کے مطابق فی الحال جاری تفتیش میں حراست میں لیا گیا نوجوان ہی ملزم ہے۔

قبل ازیں کوہستان ویڈیو سکینڈل میں نظر آنے والے بن یاسر جو گذشتہ کئی سالوں سے اپنی جان کو لاحق خطرات کے باعث روپوش تھے، اپنے بھائی کے قتل کے بعد منظرِ عام پر آئے تھے۔

اپنے بھائی کے قتل کے حوالے سے جاری پولیس تفشیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے اس معاملے پر عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

بن یاسر جمعرات کی صبح ایبٹ آباد پہنچے جہاں انھوں نے اپنے حمایتوں کے ہمراہ تھانہ کینٹ آباد کے سامنے دھرنا دے دیا تھا۔

اس واقعہ کے عینی شاہد محمد رحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو رات ساڑھے آٹھ بجے شاہراہ قراقرم پر واقع انتہائی مصروف مقام گامی اڈے پر تین افراد نے کلاشنکوف سے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہلاک ہو گیا۔

ایبٹ آباد تھانہ کینٹ پولیس نے موقع سے کچھ لوگوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تاہم اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں افضل کوہستانی کا ایک قریبی رشتہ دار بھی شامل ہے جو کہ واقعہ کے وقت ان کے ساتھ موجود تھا۔

واضح رہے کہ افضل کوہستانی نے صوبہ خیبرپختونخوا کی پولیس کو اپنی جان کو لاحق خطرات کے حوالے سے باقاعدہ درخواستیں دی رکھی تھیں۔

بی بی سی کو اپنے انٹرویو میں افضل کوہستانی نے کہا تھا کہ انصاف کے تقاضے اس وقت پورے ہوں گے جب قاتلوں کو سزا ملے گئی اور اس کے بعد آئندہ کوئی بھی کوہستان میں غیرت کے نام پر قتل نہیں کرے گا۔ اس وقت مجھے اور میرے اہل خانہ کو جان کا خطرہ ہے، ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ انٹرویو اس وقت کیا گیا تھا جب سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ لڑکیاں قتل ہو چکی ہیں اور ان کا مقدمہ درج کیا جائے۔

بی بی سی کو اپنے انٹرویو میں افضل کوہستانی نے کہا تھا کہ انصاف کے تقاضے اس وقت پورے ہوں گے جب قاتلوں کو سزا ملے گئی اور اس کے بعد آئندہ کوئی بھی کوہستان میں غیرت کے نام پر قتل نہیں کرے گا۔ اس وقت مجھے اور میرے اہل خانہ کو جان کا خطرہ ہے، ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ انٹرویو اس وقت کیا گیا تھا جب سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ لڑکیاں قتل ہو چکی ہیں اور ان کا مقدمہ درج کیا جائے۔

بھائی کے مطالبات اور پولیس کا دعوی

اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تھانہ کینٹ آباد کے سامنے موجود بن یاسر نے دعوی کیا کہ افضل کوہستانی کے قتل میں ان کے بھانجے فیاض الرحمن جو کہ افضل کوہستانی کے ساتھ ہی رہتے تھے کو بے گناہ پھنسایا جا رہا ہے۔

ان کا دعوی تھا کہ ان کے بھانجے کو پولیس حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی حالت انتہائی ’تکلیف دہ‘ ہے۔ ’پولیس اس پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ افضل کوہستانی کو قتل کرنے کا اقرار کر لے۔‘

بن یاسر کا کہنا تھا کہ درحقیقت انھیں شک ہے کہ تھانہ کینٹ ایبٹ آباد کے ایس ایچ او عبدالغفور اس سارے معاملے میں کچھ نہ کچھ ملوث ہیں کیونکہ جب سنہ 2012 میں افضل کوہستانی وڈیو سکینڈل منظرِ عام پر لائے تھے تو اس وقت عبدالغفور ہی کوہستان میں تعنیات تھے۔

’اس وقت انھوں نے جھوٹی رپورٹیں دی تھیں کہ لڑکیاں قتل نہیں ہوئی ہیں جبکہ بعد میں سپریم کورٹ میں ثابت ہوا کہ لڑکیاں قتل ہوچکی ہیں۔‘

بن یاسر کا کہنا تھا کہ ان کے مقتول بھائی نے ہر فورم پر تحفظ مانگا۔ ’وہ عدالتوں، پولیس افسران، اور میڈیا کے زریعے سے تحفظ مانگتا رہا مگر اس کی شنوائی نہیں ہوئی۔ اب اس کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا ہے اور ایک بے گناہ کو پھنسا کر معاملہ دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

بن یاسر کا کہنا تھا کوھستان وڈیو اسکینڈل کے بعد سے اب تک نو لوگ قتل ہو چکے ہیں۔

’ہم اس وقت تک افضل کوہستانی کی نعش کو وصول نہیں کریں گے جب تک ہمارے بے گناہ بھانجے کو رہا نہیں کیا جاتا، افضل کوہستانی کے قتل کا مقدمہ ہماری مدعیت میں درج درج نہیں کیا جاتا اور ہمیں واضح طور پر تحفظ فراہم کرنے کا اعلان نہیں ہوتا ہے۔‘

انھوں نے اپنے بھائی کے قتل کی جوڈیشنل انکوائری کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

دوسری جانب ڈسڑکٹ پولیس آفیسر ایبٹ آباد عباس مجید مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کی حراست میں موجود ملزم کے ہاتھ میں پستول تھا اور موقع کے گواہوں نے بھی یہ بتایا ہے کہ گرفتار ملزم فائرنگ کر رہا تھا۔

افضل کوہستانی قتل سے پہلے کس کس سے ملے

مقامی صحافی زبیر ایوب نے بی بی سی کو بتایا ’اپنے قتل والے دن افضل کوہستانی صحافیوں کے پاس آئے اور بتایا کہ انھیں دھمکیاں مل رہی ہیں کہ سپریم کورٹ میں غیرت کے نام پر پانچ لڑکیوں کا قتل ثابت ہونے پر مذکورہ قبائل نے انھیں قتل کرنے کے لیے باقاعدہ سکواڈ ترتیب دیے ہیں اور یہ سب اطلاعات میں پولیس تک پہنچاتا رہتا ہوں مگر کوئی بھی شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ ‘

پشاور سے انسانی حقوق کے کارکن قمر نسیم نے بی بی سی کو بتایا ’ افضل کوہستانی کوہستان کے انتہائی کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا خاندان کوہستان میں ایک بڑا زمیندار گھرانہ سمجھا جاتا تھا مگر جب سے افضل کوہستانی نے کوہستان وڈیو سکینڈل پر بات کی ہے انھیں کوہستان میں ان کے آبائی علاقے پالس سے بے دخل کر دیا گیا جس کے بعد یہ خاندان پیسے پیسے کو ترس گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ افضل کوہستانی کو قتل کے مقدمے میں بھی پھنسایا گیا تھا جس میں ایک سال سے زائد عرصہ قید کے بعد عدالت نے انھیں بری کر دیا تھا جس کے بعد ان کے معاشی حالات انتہائی خراب ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی چھوٹی موٹی ملازمت تلاش کر رہے تھے جس سے وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

قمر نسیم کے بقول ’واقعہ سے دو دن قبل مجھے افضل کوہستانی نے فون کیا اور کہا کہ مجھے ملازمت چاہیے جس پر میں نے کہا کہ کچھ صبر کرو آپ کے لیے کوئی اچھی ملازمت دیکھتا ہوں تو انھوں نے کہا کہ اچھی بری کی بات نہیں ہے مجھے کوئی بھی ملازمت چاہیے میں برتن اور کپڑے دھونے کا کام بھی کر سکتا ہوں، کچھ بھی کر سکتا ہوں، بے شک تنخواہ 10، 12 ہزار ہی کیوں نہ ہو کیونکہ میں کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتا۔‘

انسانی حقوق کے کارکن کا کہنا تھا کہ افضل کوہستانی کو جس طرح قتل کیا گیا یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اس پر سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں، پولیس اور حکومت کو سوچنا ہو گا کہ یہ کس طرح اور کیوں ہوا۔؟

قمر نسیم کے بقول افضل کوہستانی کی زندگی میں کبھی کسی نے ان کا ساتھ نہیں دیا یہاں تک کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی آگے نہیں بڑھیں۔ وہ اپنی زندگی میں چیختے رہے، چلاتے رہے، کبھی کھبار کوئی فوٹو سیشن کے لیے ان کا ساتھ دیتا اور پھر انھیں تنہا چھوڑ دیا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب سوال یہ ہے کہ اس قتل کا ذمہ دار کون ہے؟ کس نے یہ قتل کیا اور کیوں یہ قتل ہوا؟ اس کا جواب کون دے گا؟

افضل کوہستانی کا ساتھ دینے والی انسانی حقوق کی کارکن فرزانہ باری کا کہنا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا انتہائی مشکل لمحہ ہے۔

’ایک مشکل لمحہ وہ تھا جب کوہستانی وڈیو سکینڈل میں صاف نظر آنے کے باوجود بھی سپریم کورٹ نے کیس خارج کر دیا تھا اور پھر صرف یہ ثابت کرنے کے لیے کہ لڑکیاں واقعی قتل ہوئیں، افضل کوہستانی کو چھ سال جدوجہد کرنی پڑی تاہم اب افضل کوہستانی قتل ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ اس پر بات کروں مگر انصاف کے لیے ہر ممکنہ جدوجہد کروں گئی چاہیے کوئی بھی نتیجہ کیوں نہ نکلے۔

افضل کوہستانی کون تھے؟

افضل کوہستانی کا تعلق کوہستان کے ضلع پالس سے تھا۔ سنہ 2012 سے قبل افضل کوہستانی مانسہرہ کے ایک وکیل کے ساتھ کلرک کی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور ساتھ میں وکالت کی تعلیم بھی حاصل کر رہے تھے۔ سنہ 2012 میں کوہستان وڈیو سکینڈل منظر عام پر لانے کے بعد ان کے لیے ملازمت اور تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ کوہستان وڈیو سکینڈل منظر عام پر لانے کے بعد ان کے دو بھائیوں کو ان کے آبائی علاقے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

افضل کوہستانی نے ان کی باقاعدہ دعوے داری کی تھی جسے ڈسرکٹ اینڈ سیشن جج داسو کوہستان نے پھانسی کی سزا سنائی تھی مگر سپریم کورٹ نے ان کو بری کر دیا تھا۔ اس کے بعد افضل کوہستانی اپنے خاندان سمیت صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع بٹگرام کے علاقے الائی میں مقیم تھے۔

افضل کوہستانی نے دو شادیاں کر رکھی تھیں اور ان کے پانچ بچے تھے جبکہ وہ اپنے دو بھائیوں کے 13 بچوں کے کفیل تھے۔

مقامی صحافی نعمان شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ افضل کوہستانی نے باقاعدہ واٹس ایپ گروپ بنا رکھا تھا جہاں وہ اس قتل کے مقدمے کی تفصیلات بتاتے رہتے تھے اور اس گروپ میں انھوں نے بدھ کو آخری مرتبہ بتایا تھا کہ پشاور کوئی کورٹ ایبٹ آباد بینچ میں نامزد ملزماں کی درخواست ضمانت پر پشاور ہائی کورٹ نے سماعت آٹھ مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔

کوہستان میں غیرت کے نام پر قتل

مقامی صحافی محمد اشفاق نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 2012 میں کوہستان میں ایک وڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں بظاہر اس وڈیو میں شادی کی ایک تقریب میں چار لڑکیاں تالیاں بجا رہی تھیں اور دو لڑکے روایتی رقص کررہے تھے۔ اس وڈیو میں نظر آنے والے دو لڑکے افضل کوہستانی کے چھوٹے بھائی تھے جس پر افضل کوہستانی کو اندازہ ہو گیا تھا کہ کوہستان کی مقامی روایات کے مطابق ان چھ لوگوں کی سزا صرف قتل ہی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’افضل کوہستانی ان چھ لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اس کیس کو میڈیا میں لے آئے۔ انھوں نے پہلے اپیل کی کہ ان چھ افراد کی جان بچائی جائے مگر بعد میں جب لڑکیاں قتل ہوئیں تو وہ اپنے دو چھوٹے بھائیوں کو کوہستان سے فرار کروا کر محفوظ مقام پر لے گئے۔ انھوں نے اکثر مجھے کہا تھا کہ میں لڑکیاں تو نہ بچا سکا مگر ان کے قتل میں ملوث افراد کو انجام تک ضرور پہنچاوں گا۔ افضل کوہستانی نے کئی مرتبہ کہا تھا کہ کوہستان میں آج تک کبھی بھی کسی نے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف احتجاج نہیں کیا، مجھے پتا ہے کہ مجھے اس کی سزا ضرور ملے گئی اور پھر ایسا ہی ہوا۔‘

انسانی حقوق کے کارکن ظفر اقبال ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کوہستان وڈیو سکینڈل پہلا واقعہ ہے جس میں غیرت کے نام پر قتل پر کسی نے آواز بلند کی تھی۔

’یہ کوئی چھپا ہوا راز نہیں ہے کہ کوہستان میں غیرت کے نام پر قتل کرنے سے پہلے جرگے ہوتے ہیں اور ان میں جب فیصلہ ہوتا ہے تو کوئی بھی اس پر بات نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ باپ کے سامنے بیٹا قتل ہوتا ہے اور وہ خاموشی اختیار کرتا ہے۔ افضل کوہستانی پہلا شخص تھا جس نے یہ جرات کی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کوہستان میں غیرت کے نام پر قتل کے اعداد وشمار دینا تو ممکن نہیں مگر وہاں پر یہ عام بات ہے اور غیرت کے نام پر قتل کر کے لوگ خود کو بڑا اور خاص سمجھتے ہیں۔

بی بی سی نے ڈسڑکٹ پولیس افیسر ایبٹ آباد سے ان کا موقف کے لیے رابطہ قائم کیا مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

کوہستان ویڈیو سکینڈل کیا ہے؟

خیال رہے کہ سنہ 2012 میں ضلع کوہستان کے علاقے پالس میں شادی کی ایک تقریب کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں چار لڑکیوں کی تالیوں کی تھاپ پر دو لڑکے روایتی رقص کر رہے تھے۔

ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ویڈیو میں رقص کرنے والے بن یاسر اور گل نذر کے بھائی افضل کوہستانی نے دعویٰ کیا تھا کہ وڈیو میں نظر آنے والی لڑکیاں بازغہ، سیرین جان، بیگم جان، آمنہ اور ان کی کم عمر مددگار شاہین کو ذبح کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔

افضل کوہستانی کے اس دعوے کے بعد انسانی حقوق کارکنوں نے احتجاج کیا تھا جس پر اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس افتخار چوہدری نے از خود نوٹس لیتے ہوئے عدالتی کمیشن قائم کیا تھا۔

اس کمیشن کی رپورٹ میں لڑکیوں کو زندہ قرار دیا گیا تھا مگر انسانی حقوق کی کارکن اور کمیشن کی ممبر فرزانہ باری نے اس رپورٹ سے اختلاف کرتے ہوئے واقعہ کی مکمل انکوائری کرنے کی درخواست عدالت میں دائر کی تھی۔جس کے بعد سپریم کورٹ نے پہلے خاتون جوڈیشل افسر منیرہ عباسی کی سربراہی اور بعد ازاں سنہ 2016 میں اس وقت کے ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج داسو، کوہستان محمد شعیب کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا۔

محمد شعیب کی سربراہی میں قائم ہونے والے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لڑکیوں کے زندہ ہونے کے حوالے سے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے فارنزک تحقیقات کی تجویز دی تھی جس پر سرپم کورٹ آف پاکستان کے دو رکنی بینچ جس کی سربراہی ریٹائر ہو جانے والے جج جسٹس اعجاز افضل کر رہے تھے نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ وہ جوڈیشل آفیسر محمد شعیب کی پیش کردہ رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات مکمل کر کے عدالت میں رپورٹ پیش کرے۔

جسٹس اعجاز افضل کے ریٹائر ہونے کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس سال کے ابتدائی دنوں مقدمے کی سماعت کی تھی جس میں خیبر پختونخوا پولیس نے تسلیم کیا کہ تین لڑکیاں قتل ہو چکی ہیں اور رپورٹ پیش کی تھی کہ لواحقین نے بیان حلفی دیا ہے کہ دو لڑکیاں زندہ ہیں اور ان کو جلد پیش کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں