مسعود اظہر کون ہیں؟

مولانا مسعود اظہر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

رواں برس پانچ فروری کو یوم کشمیر کے موقعے پر ہمیشہ کی طرح جب مذہبی جماعتوں نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جلوس نکالے تھے تو اس میں کالعدم جیشِ محمد بھی پیش پیش تھی۔

یہ سال کا وہ دن ہوتا ہے جب جیش سڑکوں پر اپنی موجودگی کا کھل کر اظہار کرتی ہے۔ اس دن جیش محمد کی جانب سے کراچی میں منعقدہ جلسے میں مسعود اظہر کا آڈیو پیغام بھی سنایا گیا تھا۔ جس میں انھوں نے شرکا کو جہاد کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا ’ہمت سے لگے رہیں اور ایک ایک کر کے کٹنے کی بجائے سارے ایک ساتھ باہر نکلیں تو انڈیا تو ایک مہینے کی مار نہیں ہے۔‘

کراچی اور مسعود اظہر کا گہرا تعلق رہا ہے۔ انھوں نے جہاد کی دنیا میں قدم رکھنے سے قبل یہاں کے مدرسہ بنوری ٹاؤن میں تعلیم حاصل کی۔ جیش محمد کا قیام بھی یہیں عمل میں لایا گیا تھا اور جب ان کی رہائی کے لیے انڈین طیارہ اغوا کیا گیا تو اغوا کاروں میں بھی اسی شہر کے نوجوان شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیے

جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت کالعدم، جیش محمد کے اہم ارکان زیرِ حراست

انڈین میڈیا پر مسعود اظہر کی موت کی خبریں

’پاکستان غیر ریاستی عناصر کے خلاف ایکشن کا ارادہ رکھتا ہے‘

مذہبی گھرانے میں پیدائش

مسعود اظہر نے سنہ 1968 میں پاکستان کے شہر بہاولپور میں ایک مذہبی گھرانے میں جنم لیا۔ ان کے والد طب اور حکمت سے تعلق رکھتے تھے جبکہ ان کے نانا محمد حسین چغتائی تحریک ختم نبوت میں سرگرم تھے اور سنہ 1992 تک مجلس احرار عالمی کے امیر رہے۔

مولانا مسعود نے بہاولپور میں بنیادی تعلیم حاصل کی۔ ساتویں جماعت کے لیے ان کے چچا انھیں رحیم یار خان لے گئے۔ سنہ 1980 میں انھیں کراچی میں جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی بھیج دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ جامعہ بنوریہ کے استاد سعید الرحمان، مسعود کے والد کے دوست تھے۔

استاد سے جہادی

مدرسہ جامعہ بنوریہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد مسعود اظہر کو وہاں استاد مقرر کر دیا گیا جہاں وہ صرف و نحو کی بنیادی کتب کے علاوہ غیر ملکی طلبا کو پڑھاتے تھے۔ عربی میں دسترس ہونے کی وجہ سے انھیں یہ ذمہ داری دی گئی تھی۔

رسائل جہد میں مولانا طاہر حمید لکھتے ہیں کہ سنہ 1988 میں مولانا مفتی احمد الرحمان افغانستان کے دورے پر گئے تھے۔ جہاں ان کی جلال الدین حقانی سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے طلبہ کو جہاد کی تربیت دلوانے کی خواہش کا اظہار کیا جس پر جلال حقانی نے مولانا فضل الرحمان خلیل کو کراچی بھیجا کہ وہ طلبہ کو جہاد کی دعوت دیں۔

مولانا طاہر حمید جامعہ بنوریہ میں مولانا مسعود کے ساتھ زیر تعلیم رہے وہ مزید تحریر کرتے ہیں کہ سنہ 1988 کی سالانہ تعطیلات میں مدرسہ بنوری ٹاؤن کے کافی طلبہ تربیت کے لیے افغانستان گئے اور جہاد میں شرکت کی۔ سنہ 1989 میں مسعود اظہر بھی کچھ دیگر رفقا کے ساتھ مجاہدین کے حالات دیکھنے تین روز کے لیے افغانستان گئے لیکن پھر وہاں انھوں نے 40 روزہ تربیت مکمل کی اور مستقل جہاد میں رہنے کا عزم کیا۔

بھارتی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کو تفتیش کے دوران دیے گئے ایک بیان میں مولانا مسعود اظہر نے بتایا تھا کہ حرکت المجاہدین میں شمولیت کے بعد انھیں عسکری تربیت کے لیے افغانستان بھیج دیا گیا، تاہم کمزور جسامت کی وجہ سے وہ 40 روزہ لازمی کورس مکمل نہ کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صحافت کی طرف رخ

افغانستان سے واپسی کے بعد مسعود اظہر کی سوچ خیال اور زندگی میں تبدیلی آئی اور وہ کراچی کے علاوہ حیدرآباد، سکھر، کھپرو، نواب شاہ سمیت دیگر علاقوں میں جہاد کی دعوت دینے نکل جاتے تھے۔

اپنے نقطۂ نظر کو بیان کرنے اور جہاد کی تشہیر کے لیے انھوں نے صحافت کا سہارا لیا۔ سنہ 1990 میں جنوری میں ماہنامہ ’صدائے مجاہد‘ کا پہلا شمارہ جاری ہوا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ حرکت المجاہدین کے زیر اثر تھا۔

مسعود اظہر نے 30 سے زیادہ کتابیں تحریر کی ہیں جو جہاد اسلامی، تاریخ اور جہادی تربیت و انتظام کاری کے بارے میں ہیں۔ انھوں نے افغانستان جہاد کی اہمیت پر اپنی ایک کتاب میں لکھا کہ افغانستان میں اچانک جہاد شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے قدیم اسلامی تحریکیں منظم ہو گئیں اور مزید نئی طاقتور تنظیمیں وجود میں آ گئیں۔

انڈیا میں گرفتاری اور رہائی

مسعود اظہر عالمی جہاد کے قائل ہیں۔ انھوں نے انڈیا، بنگلہ دیش، سعودی عرب اور زیمبیا کے علاوہ برطانیہ کے بھی دورے کیے۔ ایسے ہی دورے کے دوران انھیں سنہ 1994 میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گرفتار کر لیا گیا۔

پاکستان میں ہفت روزہ جریدے ’تکبیر‘ کے مدیر صلاح الدین اور سینیئر صحافی مجیب شامی نے اس وقت ان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انھیں صحافی قرار دیا۔

سی بی آئی کو دیے گئے بیان میں مولانا مسعود نے بتایا تھا کہ انھیں انڈیا اس لیے بھیجا گیا تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لے سکیں اس مقصد کے لیے پہلے بنگلہ دیش گئے اور وہاں سے پرتگالی پاسپورٹ پر دہلی پہنچے تھے۔

مسعود اظہر کا نام عالمی افق پر اس وقت ابھرا جب کشمیر میں سنہ 1995 میں چھ غیر ملکیوں کو اغوا کر لیا گیا۔ اغوا کار گروپ نے اپنا نام الفاران بتایا اور مسعود کی رہائی کا مطالبہ کیا جسے انڈین حکومت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد عام رائے یہی ہے کہ پانچ سیاحوں کو قتل کر دیا گیا جبکہ ایک فرار ہونے میں کامیاب رہا۔

اس کے بعد 24 دسمبر 1999 کو کھٹمنڈو سے دلی جانے والے انڈین ایئر لائن کے طیارے کو اغوا کر لیا گیا، اس طیارے کو قندھار میں اتارا گیا جہاں طالبان کی حکومت تھی۔

ہائی جیکروں نے طیارے میں سوار 155 مسافروں کی رہائی کے بدلے مولانا مسعود اظہر کی رہائی کا مطالبہ کیا اور طویل مذاکرات کے بعد مولانا مسعود اظہر کے ساتھ عمر سعید شیخ اور کشمیری رہنما مشتاق زرگر کو رہائی مل گئی۔

رہائی کے بعد تینوں رہنماؤں نے اطلاعات کے مطابق اسامہ بن لادن اور ملا عمر سے ملاقات بھی کی تھی۔ عمر شیخ کو بعد میں کراچی میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور وہ قید میں ہیں۔

جیش محمد کا قیام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا میں گرفتاری سے قبل مولانا مسعود حرکت المجاہدین میں شامل تھے۔ انھوں نے رہائی کے بعد کراچی میں جیش محمد کے قیام کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں انھیں جامعہ بنوریہ ٹاؤن سمیت مختلف مدارس کے علما کی حمایت حاصل رہی۔

صحافی سبوخ سید کے مطابق کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ اعظم طارق بھی جیش کے قیام میں مولانا مسعود کے ساتھ ساتھ تھے جس کی وجہ سے حرکت المجاہدین کے امیر مولانا فضل الرحمان خلیل اور ان کے درمیان اختلاف پیدا ہو گئے۔

جیش محمد نے حرکت المجاہدین کے کئی کیمپوں اور دفاتر پر قبضہ کر لیا اس قبضے میں سپاہ صحابہ بھی شریک کار تھی اس کے علاوہ مولانا مسعود کو لال مسجد اسلام آباد کی بھی مکمل حمایت حاصل رہی۔

جیش محمد کے مدرسے کا کنٹرول پنجاب حکومت کے پاس

’مسعود اظہر کے خلاف قرارداد انڈیا کا سیاسی حربہ‘

’چین نے مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کرنے کا راستہ روک دیا‘

کشمیر میں کارروایئوں میں شدت

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں بادامی باغ کے قریب فوجی ہیڈ کوارٹر پر 19 اپریل سنہ 2000 میں کار خودکش بم حملہ کیا گیا۔ تحریکِ کشمیر کی تاریخ میں یہ پہلا خودکش حملہ تھا۔

انڈین حکام نے اس کا ذمہ دار جیش محمد کو قرار دیا۔ اگلے سال اکتوبر میں جموں و کشمیر اسمبلی اور دسمبر سنہ 2001 میں دہلی میں انڈین پارلیمان پر حملہ کیا گیا اور ان کارروائیوں میں جیشِ محمد کا نام سامنے آیا۔

اس کے بعد کئی برس تک جیش محمد پر کوئی الزام نہیں آیا تاہم سنہ 2016 میں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کے بعد اس تنظیم کا نام دوبارہ سامنے آیا۔ اس کے بعد انڈیا نے سنہ 2016 میں مزار شریف میں انڈین قونصل خانے اور اڑی پر فوج کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر حملے کا ذمہ دار بھی جیش محمد کو قرار دیا۔

اور اب تین سال بعد پلوامہ میں خودکش حملے کے بعد دوبارہ جیشِ محمد اور مسعود اظہر کا نام سامنے آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مقامی اور بین الاقوامی دباؤ

انڈین پارلیمان پر حملے کے بعد امریکہ نے جیش محمد کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ایف ٹی او کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔ انڈیا کی کوشش رہی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے جیش محمد اور مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے تاہم چین اس کوشش کو ویٹو کرتا رہا ہے۔

سنہ 2002 میں سابق صدر پرویز مشرف نے جیش محمد پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن بعد میں یہ تنظیم الفرقان کے نام سے سرگرم رہی اور اس نے الرحمت ٹرسٹ کے نام سے فلاحی تنظیم بھی بنائی۔

حکومت اور جیش میں تعلقات میں کشیدگی کے بعد پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے میں جیش محمد کا نام بھی سامنے آیا۔ ایف آئی اے کے مطابق اسے جیش محمد کے سات ملزمان مطلوب ہیں جو پرویز مشرف پر حملے کے علاوہ پولیس ٹریننگ سکول اور پی اے ایف بس پر حملوں اور دہشت گردی کے دیگر واقعات میں ملوث ہیں۔

پورا گھرانہ جہادی

جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید احمد اور متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کی طرح مولانا مسعود اظہر کا آبائی تعلق کشمیر سے نہیں لیکن ان دونوں جہادی فکر کے رہنماؤں کے برعکس ان کا خاندان عملی طور پر جہاد سے جڑا ہے۔

انڈین حکام نے انڈین ایئر لائن کے اغوا کا مقدمہ مسعود اظہر کے چھوٹے بھائی عبدالرؤف اصغر اور قریبی رشتے دار یوسف اظہر اور دیگر کے خلاف دائر کیا تھا۔

صحافی سبوخ سید کے مطابق مولانا مسعود اظہر کے چار بھائی ہیں۔ ان میں سب سے بڑے مولانا ابراہیم، ان سے چھوٹے مفتی عبدالرؤف اصغر، تیسرے نمبر پر خود مولانا مسعود اظہر ہیں، ان کے بعد طلحہ السیف ہیں اور سب سے چھوٹے بھائی حماد اظہر ہیں۔

گذشتہ سال اکتوبر میں انڈیا کے زیر اہتمام کشمیر میں انڈین فوج کے ساتھ جھڑپ میں ایک نوجوان مارا گیا تھا۔ انڈین حکام نے اس کا نام محمد عثمان ظاہر کیا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ مولانا مسعود کے بڑے بھائی ابراہیم کے فرزند تھے۔ اس سے قبل طلحہ رشید نامی نوجوان کو ہلاک کیا گیا جس کو بھی مولانا مسعود کا قریبی رشتے دار بتایا گیا تاہم خاندان نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

انڈیا مسعود اظہر اور ان کے بھائی عبدالرؤف اصغر کی حوالگی کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور پلوامہ واقعے کے بعد یہ مطالبہ دوبارہ دہرایا گیا ہے تاہم وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی ٹی وی سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسعود اظہر اتنے بیمار ہیں کہ بستر سے اٹھ بھی نہیں سکتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں