شدت پسند تنظیمیں’قومی دھارے‘ میں: ماہرین کی رائے

کالعدم تنظیم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تجزیہ کاروں اور ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایسی جماعتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا مطلب بنیادی طور پر سیاسی مواقع فراہم کرنا ہے۔

بدھ کو پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے جہاں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی پر بات کی وہیں انھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے عسکریت پسند عناصر کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی کو مسترد کیا۔

قومی اسمبلی میں کی گئی اپنی جذباتی تقریر میں انھوں نے سوال اٹھایا کہ 'یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک منتخب وزیراعظم کو پھانسی پر چڑھایا جا سکتا ہے لیکن کالعدم تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی؟'

ان کا کہنا تھا کہ جب سنہ 2014 میں پشاور کے اے پی ایس حملے کے بعد اس پارلیمان نے متفقہ طور پر نفرت انگیز تقاریر اور انتہا پسندی کے خلاف لڑنے اور اس کا خاتمہ کرنے کا اصولی موقف اپنایا تھا تو ریاست ان شدت پسند عناصر کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا خیال کہاں سے لے آئی؟

یہ بھی پڑھیے۔

ملک بھر میں کالعدم جماعتوں پر کریک ڈاؤن جاری

جیشِ محمد کے حماد اظہر اور مفتی عبدالرؤف کون ہیں؟

شدت پسند تنظیم ’جیش محمد‘ کیا ہے؟

نیشنل ایکشن پلان سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے پوچھا کہ سیاسی حکومت اب تک اس پر پوری طرح عملدرآمد نہیں کر پائی، اس کی وجوہات کیا ہیں۔

شدت پسندوں کو قومی دھارے میں لانے سے کیا مراد ہے؟

شدت پسند تنظیموں کو قومی دھارے میں لانے سے مراد ان کو غیرمسلح کرنا، عدم تشدد کی طرف مائل کرنا، ان تنظیموں کی سیاسی تربیت کرنا، ان کو معاشی و اقتصادی مواقع فراہم کرنا، اور ان تنظیموں سے منسلک افراد کو ووکیشنل تربیت کے ذریعے ہنر دینے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں برابری کے سطح پر مقام دلوانا ہوتا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں اور ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایسی جماعتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا مطلب بنیادی طور پر سیاسی مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ یہ شدت پسندی کو ترک کر دیں۔ مگر قومی دھارے میں شامل کرنے کے دیگر عوامل پر ریاست نے سنجیدگی سے اب تک کام نہیں کیا ہے۔

قومی دھارے میں لانے کا تصور کب اور کہاں سے آیا؟

انسداد دہشت گردی کے پروفیسر ڈاکٹر خرم اقبال اس بارے میں کہتے ہیں کہ اس ضمن میں ہمیں سب سے پہلے یہ سجمھنا ہوگا کہ پاکستان میں موجود شدت پسند تنظیموں کو قومی دھارے میں کسی کی طرف سے لایا گیا یا یہ خود آئیں ہیں۔

اگر ہم کالعدم جماعت الدعوۃ کی بات کریں تو اس پر دو رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ ان کو قومی دھارے میں پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ لائی ہے اور دوسری رائے یہ ہے کہ سنہ 2001 کے بعد ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی حالات ایسے بن گئے تھے جنھوں نے اس جماعت کو مجبور کیا کہ عسکریت پسندی کا راستہ ترک کر کے سیاسی قومی دھارے میں شامل ہو جائے۔ یہ اس کالعدم جماعت کے لیے بقا کی ایک حکمت عملی بھی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈاکٹر خرم اقبال نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ریاست کو شدت پسندوں کو قومی دھارے میں لانے میں کامیابی نہیں ملی۔

سیاسی و دفاعی تجزیہ کار امتیاز گل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلح عسکریت پسند جماعتیں جو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر یا افغانستان میں اپنی کارروائیاں کرتی رہیں ہیں ان کو قومی دھارے میں لانے کا تصور سنہ 2008 میں پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے آیا تھا، جس کا مقصد ان کو غیر مسلح کرنا اور شدت پسندی کو ختم کرنا تھا۔

امتیاز گل کا کہنا تھا کہ ان جماعتوں کو قومی دھارے میں لانے کے تصور کے پیچھے یہ خیال تھا کہ اگر ریاست نے بڑی تعداد میں موجود ان افراد کو نظر انداز کردیا تو معاشرے میں مزید بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔

سنہ 2016 میں ایک مرتبہ پھر ان جماعتوں کو قومی دھارے میں لانے پر زور دیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں ان عسکریت پسند تنظیموں کو ایسی جگہ دی جائے جس سے وہ اپنے شدت پسند رویے کو ترک کر دیں اور معتدل بھی بن جائیں۔ اور اس کا تیسرا مقصد ان کو سماجی سطح پر بہتر انداز سے قبولیت دلانے کا بھی تھا۔

قومی دھارے میں کیسے لایا جائے؟

ڈاکٹر خرم اقبال کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں کسی بھی شدت پسند تنظیم کو قومی دھارے میں شامل کرنا ہے تو یہ صرف اس تنظیم کی سیاسی جماعت رجسٹر کروانے سے نہیں ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی شدت پسند جماعت کو قومی دھارے میں لانا ایک مکمل عمل ہے۔ اس کی کچھ شرائط ہیں جیسے کہ اس تنظیم کو پہلے جمہوریت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ عدم تشدد کو اپنانا ہوگا اور یہ سب اس تنظیم میں اندرونی اتفاق رائے کے ساتھ ساتھ قومی اور بین الاقوامی حمایت کے ساتھ ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کالعدم جماعت، جماعت الدعوۃ جیسی تنظیم کو قومی دھارے میں لانا تھا تو اس پر سب سے پہلے پارلیمان میں قومی اتفاق رائے پیدا کرتے۔ دوسرا ان ممالک کو اعتماد میں لیتے جو اس سے متاثر ہوئے جن میں انڈیا اور امریکا شامل ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار امتیاز گل کا کہنا ہے کہ کسی بھی شدت پسند تنظیم کو قومی دھارے میں لانے کے بہت سے طریقے ہیں۔ جیسا کہ برطانیہ میں آئرش ریپبلیکن آرمی کے سیاسی فرنٹ 'شن فین' کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ان کو قومی دھارے میں لایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مشرف زیدی کہتے ہیں کہ پاکستانی ریاست کی اہلیت پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

انھوں نے تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان کے اپنے مختلف حالات ہیں لیکن شن فین کی طرز پر یہاں پر بھی ایسا کام کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں ان شدت پسند تنظیوں سے منسلک افراد کو نہ تو قتل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی جیلوں میں ڈالا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند تنظیموں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے سیاسی و عسکری قیادت میں اتفاق رائے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان افراد کو انفرادی سطح پر ووکیشنل ٹریننگ کے ذریعے کوئی ہنر دینا، سیاسی تربیت کرنا، روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جامع منصوبہ لانا ہوگا۔

کیا پاکستانی ریاست کامیاب رہی؟

ڈاکٹر خرم اقبال نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ریاست کو شدت پسندوں کو قومی دھارے میں لانے میں کامیابی نہیں ملی۔ اس کی بنیادی وجہ غلط طریقہ کار اپنانا ہے۔ اگر دنیا میں عسکریت پسندی کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو کئی شدت پسند تنظیوں کو قومی دھارے میں لایا گیا۔ کہیں ان جماعتوں کی جانب سے مسلح تحریک کی فتح یابی کے بعد سیاسی و سماجی سطح پر قومی دھارے میں شمولیت اختیار کی گئی تو کہیں ایسی تنظیوں کو ان کی ریاستوں نے قومی دھارے میں قبول کیا جن میں 'ائرش ریپبلیکن آرمی' اور انڈین پنجاب میں 'خالصہ تحریک' اور افغانستان میں 'حزب اسلامی' کی مثالیں موجود ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار مشرف زیدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ریاست کی اہلیت پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

عسکریت پسندوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے جو ریاستی صلاحیت درکار ہوتی ہے بدقسمتی سے پاکستان کے پاس وہ جدید ریاستی صلاحیت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ریاست میں حکمت عملی کا فقدان ہے اور وہ جلدبازی میں فیصلے کرتی ہے۔ اسی لیے گزشتہ انتخابات میں ایک جماعت کو سیاسی طور پر قومی دھارے میں لانے کی جو کوشش کی گئی وہ بری طرح سے ناکام ہوئی۔

جبکہ امتیاز گل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں شدت پسندی کا تعلق مذہبی خیالات کے ساتھ ہوتا ہے جس میں چند عناصر طاقت کے ذریعے اپنے خیالات دوسروں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اور پاکستان میں اب تک کوئی قومی دھارے میں شامل نہیں ہوا۔

انھوں نے بھی حالیہ انتخابات میں تحریک لبیک کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کو ناکام قرار دیا۔

اسی بارے میں