غداری کیس : سپریم کورٹ کا پرویز مشرف کا بیان سکائپ پر ریکارڈ کرنے کا حکم

پرویز مشرف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں ملزم پرویزمشرف کا بیان ویڈیولنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت میں زیر سماعت اس مقدمے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے میں ہونے والی تاخیر اور ملزم کی وطن واپسی کےلیے حکومتی اقدامات سے متعلق اٹارنی جنرل سے رپورٹ بھی طلب کی ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پرویزمشرف سنگین غداری کیس میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نےنئی خصوصی عدالت کی تشکیل کے باوجود ٹرائل نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو درخواست گزار توفیق آصف نے ملزم پرویزمشرف کے بیرون ملک ہونے کا بتایا۔ جس پر بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ حکومت ملزم پرویزمشرف کو وطن واپس لانے کےلیے کیا کررہی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں وزارت داخلہ سے معلومات حاصل کرنے کے بعد عدالت کو آگاہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

’عدالت کا لاڈلہ بچہ اور وقت کا ضیاع‘

مشرف کی شرط: ’تمام کیسز میں ضمانت دی جائے‘

مشرف صاحب نہ کریں۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ تاثردیا گیا کہ عدالتی حکم پر ملزم پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالا گیا تھا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے واضح کیا کہ اس وقت کی حکومت نے سابق فوجی صدر کا نام ای سی ایل سے نکالا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ ملزم پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالنا اور ملزم کو وطن واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ کا قلمدان وزیر اعظم عمران خان کے پاس ہے اور مقامی میڈیا میں ان سے منصوب ایک بیان بھی شائع ہوا تھا جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ پرویز مشرف کو وطن واپس لانا اور ان کے خلاف مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانا ان کی ترجیحات میں نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر خصوصی عدالت میں پرویز مشرف بیان ریکارڈ کرانے نہیں آتے تو سمجھ لیں کہ وہ انکاری ہیں۔

بنچ کے سربراہ نے سوال اُٹھایا کہ کیا ملزم کے ہاتھوں حکومت یرغمال ہوسکتی ہے اور کیا ملزم جان بوجھ کرنہ آئے توعدالت بے بس ہوجاتی ہے؟

عدالت کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں تمام ملزمان برابر ہیں۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ملزم پرویز مشرف اگر وطن واپس نہیں آتے تو ان کا بیان سکائپ پر ریکارڈ کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کے رجسٹرارکو سابق فوجی صدر کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے میں تاخیرکی رپورٹ 15روزمیں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ اٹارنی جنرل کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کےساتھ ساتھ ملزم پرویزمشرف کی وطن واپسی کےلیے حکومتی اقدامات پررپورٹ بھی طلب کی ہے۔

عدالت نے وفاق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست کی آئندہ سماعت 25 مارچ تک ملتوی کردی ہے۔

واضح رہے کہ سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے سنہ2013 کے انتخابات جیتنے کے بعد سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ درج کروایا تھا۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف یہ مقدمہ3 نومبر سنہ2007 میں ملک میں آئین کو معطل کرکے ایمرجنسی لگانے پر درج کیا گیا تھا۔

سابق فوجی صدر کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے چار سربراہان تبدیل ہوچکے ہیں لیکن یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچا۔

ملزم پرویز مشرف صرف ایک مرتبہ ہی خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہوئے ہیں جب ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اس کے بعد سابق فوجی آج تک عدالت پیش نہیں ہوئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں