جابہ: ’انڈین حملے سے ماحول کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے‘

Image caption انڈین حملے سے ایک ایکڑ سے زیادہ علاقے کو نقصان پہنچا جہاں چیٹر کے 19 درخت گر گئے

پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے ماحولیات امین اسلم کا کہنا ہے کہ جابہ میں انڈین فضائیہ کی کارروائی سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تاہم اس سے ماحولیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

حکومت پاکستان نے جمعرات کو ماحولیات کے لیے کام کرنے والے ملکی اور بین الاقوامی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو حملے کا نشانہ بننے والے علاقے کا دورہ بھی کروایا جس کا مقصد وہاں بمباری سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سے آگاہ کرنا تھا۔

انڈیا کا پاکستان کی حدود میں حملہ، مفروضے اور حقائق

’جنگ کی خوشی پالنا امیروں کا شوق ہے‘

’ایک نہیں بلکہ تقریباً پانچ دھماکے ہوئے، علاقہ لرز اٹھا‘

امین اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان پوری طرح تیار ہے کہ وہ پوری دنیا کو بتا سکے کہ مودی کی جارحیت کو پاکستان اور اس خطے کو کیا ماحولیاتی نقصانات پہنچے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان نے اعلان کررکھا ہے کہ وہ انڈین کارروائی کے بعد انڈیا کے وزیر اعظم کو ایکو ٹیررسٹ قرار دلوانے کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انڈین فضائیہ کے طیاروں نے 26 فروری کو ضلع مانسہرہ کے علاقے جابہ میں بمباری کی تھی اور کہا تھا کہ ان کا ہدف کالعدم تنظیم جیشِ محمد کا کیمپ تھا تاہم پاکستانی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انڈین بم جنگل میں گرے اور ان سے سوائے درختوں کی تباہی کے اور کوئی نقصان نہیں ہوا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمۂ جنگلات اور ماحولیات نے اب اس بارے میں ایک تجزیاتی رپورٹ تیار کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انڈین طیاروں نے جابہ کے پہاڑ پر جس علاقے میں حملہ کیا وہاں ’محفوظ جنگلات‘ ہیں جنھیں ماسر ریزور فارسٹ کہا جاتا ہے۔

Image caption جابہ کا جنگل صوبائی محکمہ جنگلات کی ملکیت ہے

رپورٹ کے مطابق ماسر ریزور فارسٹ کو سنہ 2015 میں بین الاقوامی منصوبے بلین ٹری منصوبے کا حصہ قرار دیا گیا تھا جس کا مقصد قدرتی ماحول اور جنگلات کی بحالی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حملے سے ایک ایکڑ سے زیادہ علاقے کو نقصان پہنچا جہاں چیٹر کے 19 درخت گر گئے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر درختوں کو پہچنے والے نقصان کی مالیت 27 لاکھ روپے جبکہ علاقے، چھوٹے درختوں کو پہچنے والے نقصاں کا اندازہ تین کروڑ 80 لاکھ روپے لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اب 1.2 ایکڑ رقبے پر شجر کاری ممکن نہیں رہی ہے۔

انڈیا کا جیشِ کیمپ پر حملے کا دعویٰ، پاکستان کا انکار

’مدرسے کی مبینہ تصویر انڈین کارروائی سے برسوں پہلے کی‘

’ہدف کو نشانہ بنایا، مرنے والوں کی تعداد گننا ہمارا کام نہیں‘

وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیات کے مطابق جابہ کا مذکورہ علاقہ محکمہ جنگلات کی ملکیت ہے جہاں پر ایک بڑے رقبے میں محفوظ جنگلات ہیں جن میں سنہ 2015 میں شروع کی جانے والے بلین ٹری سونامی کے دوران بڑے پیمانے پر توسیع کی گئی تھی۔

ان کے مطابق بلین ٹری منصوبہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونائیڈ نیشن انوارمنٹ پروگرام (یواین ای پی )کا حصہ ہے جس میں ہمارے ساتھ ڈبیلو ڈبیلو ایف، آئی یو سی این جیسے ادارے تعاون کرتے ہیں اور اس کی فعالیت کے گواہ ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ہم نے ان اداروں کو علاقے کا دورہ کروایا کہ وہ خود بھ اندازہ کرسکیں کہ ماحولیات کو کیا نقصاں پہنچا ہے۔

امین اسلم کے مطابق پاکستان بہت جلد یو این ای پی میں درخواست دائر کرے گا کہ اس کی جانب سے نریندر مودی کو چمپیئن آف آرتھ کا جو ایوارڈ دیا گیا ہے اسے واپس لے کر انھیں ’ماحولیاتی دہشت گرد‘ قرار دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’ساری دنیا جانتی ہے اور کسی سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جابہ، مانسہرہ، بالاکوٹ جیسے علاقے بلین سونامی ٹری میں ہمارا ٹارگٹ تھے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ جو منفی ماحولیاتی اثرات پیدا ہو رہے ہیں ان کو شجرکاری کے ساتھ روکا جائے اور بہتر ماحول بنایا جائے۔

Image caption انڈین فضائیہ کے طیاروں نے 26 فروری کو ضلع مانسہرہ کے علاقے جابہ میں بمباری کی تھی

’مودی کے اس حملے سے ثابت ہوا ہے کہ وہ بین الااقوامی ماحولیاتی دہشت گرد ہے اور ہم اس کو دہشت گرد قرار دلوا کر ہی دم لیں گے۔‘

جابہ میں ہے کیا؟

جابہ مانسہرہ کا پہاڑی سلسلہ ہمالیہ کے دامن میں واقع ہے اور سرکاری ذرائع کے مطابق یہاں تقریباً چھ سو ایکڑ کا رقبہ محکمہ جنگلات کی ملکیت ہے۔ اس علاقے میں بڑے پیمانے پر چیٹر کے جنگلات ہیں۔

مانسہرہ سے بالاکوٹ جاتے ہوئے جب جابہ پہنچتے ہیں تو سڑک کے دونوں جانب جابہ کے خوبصورت پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں واقع ان پہاڑوں کے اوپر گھنے جنگلات واقع ہیں جن کی اکثریت محکمۂ جنگلات کی ملکیت ہیں۔

انڈین حملے کا نشانہ بننے والا علاقہ گاڑی اور پیدل سفر کے بعد مرکزی مانسہرہ بالاکوٹ روڈ سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ مانسہرہ سے بالاکوٹ جاتے ہوئے جب جابہ بازار پہنچتے ہیں تو بالاکوٹ روڈ پر جابہ ایگری کلچر فارم کے سامنے دائیں طرف سے وہ علاقہ شروع ہو جاتا ہے جہاں پر حملہ ہوا تھا۔ حملے کا نشانہ بننے والا علاقہ کنگڑ کہلاتا ہے۔

کنگڑ گاؤں کے آغاز ہی میں چیٹر کے درخت شروع ہو جاتے ہیں۔ محکمہ جنگلات کے ذرائع کے مطابق ان درختوں میں سے اکثریت کی عمر تیس سے چالیس سال کے درمیاں ہو گی جبکہ اکا دکا درخت پچاس سال سے زائد کے تھے۔ جس کا واضح مطلب ہے کہ اس علاقے میں شجر کاری اسّی اور نوے کی دہائی میں کی گئی تھی۔

اسی بارے میں