پاکستانی ریاست کا جہادی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا صرف دکھاوا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسلام آباد کے مضافات میں واقع ایک مدرسے کے مرکزی دروازے پر جو نوجوان نہایت مستعدی سے کھڑا پہرہ دے رہا تھا، اس کے ہاتھ میں بہت زبردست خود کار بندوق تھی اور اس کی ایک آنکھ نہیں تھی۔

اور مدرسے کے اندر منتظمین میں سے ایک شخص نے تسلیم کیا کہ ’کہا جاتا ہے اسے جیش محمد چلا رہی ہے‘ یعنی وہ تنظیم جس نے گذشتہ ماہ پلوامہ میں ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اگرچہ مدرسے کے مولوی صاحب کا کہنا تھا کہ الزامات جھوٹ ہیں اور اصل میں یہ مدرسہ ایک عام اسلامی سکول ہے، لیکن منظر کچھ اور بتا رہا تھا۔

امام صاحب کے پیچھے دیوار پر ایک چھوٹا سا پوسٹر لگا ہوا تھا جس پر کئی قسم کی بندوقیں دکھائی گئی تھیں اور ان کے نیچے جو نعرہ درج تھا وہ اسلامی تاریخ کی ایک مشہور لڑائی کا قصیدہ پڑھ رہا تھا۔ مدرسے کے باہر کچی گلی میں ایک دیوار پر ایک اور پوسٹر بھی تھا جس میں کشمیریوں کے حق میں ایک جلوس میں جوق در جوق شرکت کی اپیل کی گئی اور تحریر کے پس منظر میں جیش محمد کا مخصوص سیاہ و سفید جھنڈا بھی تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت کالعدم، جیش محمد کے اہم ارکان زیرِ حراست

جیش محمد کے مدرسے کا کنٹرول پنجاب حکومت کے پاس

شدت پسند تنظیم ’جیش محمد‘ کیا ہے؟

پلوامہ: حملہ آور عادل ڈار کے گھر کا آنکھوں دیکھا حال

گذشتہ کچھ دنوں میں شدت پسندوں کے خلاف ’سخت کارروائیوں‘ کے سلسلے میں پاکستان میں ان ہزاروں مدرسوں اور دیگر عمارتوں کا انتظام حکومت نے اپنے ہاتھ میں لے لیا جن پر الزام ہے کہ وہ جیش محمد جیسے گروہوں سے منسلک ہیں۔

جیش محمد کے بانی مولانا مسعود اظہر کے ایک بھائی سمیت درجنوں دیگر افراد کو ’حفاظتی تحویل` میں لیا جا چکا ہے، تاہم سکیورٹی اداروں میں سے کسی نے ابھی تک اسلام آباد کے قریب والے مدرسے سے رابطہ نہیں کیا ہے۔ مسعود اظہر کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ سنہ 2016 سے سرکاری حفاظتی تحویل میں ہیں، تاہم اس دوران بھی وہ اپنے حامیوں کے لیے آڈیو پیغام جاری کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کے داخلہ امور کے وزیر مملکت شہریار آفریدی کہتے ہیں کہ ’یہ ہمارا عزم ہے کہ ہماری سرزمین کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔‘ مذکورہ وزیر نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کسی ’بیرونی دباؤ‘ پر نہیں کی جارہی بلکہ حکام نے اس کا منصوبہ پہلے ہی بنا لیا تھا۔

لیکن ماضی میں بھی جب پاکستان بین ااقوامی نظروں میں آیا، اس قسم کے گروہوں کے خلاف کئی مرتبہ کریک ڈاؤن کے اعلانات ببانگ دہل کیے جا چکے ہیں، لیکن کچھ ہی عرصہ بعد مساجد اور مدرسے پرانے مالکوں کے حوالے کر دیے گئے اور گرفتار افراد کو ’ناکافی شواہد ‘ کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ریاست کی حالیہ کارروائیوں کو بھی کچھ لوگ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ آیا واقعی پاکستان اس مرتبہ ان شدت پسند تنظیموں سے جان چھڑائے گا جن کا ہدف انڈیا رہا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انڈین حکام کہتے ہیں کہ وہ ’یہ سب کچھ پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔‘

مولانا مسعود اظہر نے جیش محمد کی بنیاد سنہ 2000 میں اس وقت رکھی تھی جب کچھ ہی عرصہ پہلے ان کے کچھ حامیوں نے ایک انڈین طیارے کو ہائی جیک کر لیا تھا جس کے نتیجے میں مسعود اظہر کو انڈیا کی ایک جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔

تجزیہ کار احمد رشید کے بقول ان ابتدائی دنوں میں جیش محمد کے جہادی ’نہایت تربیت یافتہ اور جذبے سے بھرپور‘ جنگجو تھے۔ اور چونکہ بظاہر ان کے پاکستانی ریاست کے ساتھ کوئی رابطے بھی نہیں تھے اس لیے انڈیا کے پاس ’کوئی واضح جواب‘ نہیں تھا کہ ان جہادیوں کے حملوں کو جواب کیونکر دے۔ اسی لیے پاکستان اس حوالے سے ان کی کارروائیوں سے لاتعلقی کا عنصر قائم رکھنے میں کامیاب رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جیش محمد کے علاوہ لشکر طیبہ کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ اسے بھی پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔

پھر امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد جب بین الاقوامی برادری کی توجہ جہادی تنظیموں پر مرکوز ہوئی تو پاکستان نے اِن دونوں تنظیموں پر پابندی لگا دی، تاہم دونوں تنظیموں کی قیادت کو کسی جرم کا مرتکب نہ قرار دیا گیا اور دونوں نئے ناموں سے کام کرنے لگیں۔ لشکرِ طیبہ نے اپنا نام جماعت الدعوہ رکھ لیا، تاہم وہ کہتے ہیں ہم ایک الگ تنظیم ہیں۔

اس کے بعد سنہ 2007 میں آخر کار پاکستانی ریاست اور جہادی گروہوں کے درمیان مشکل تعلقات اس وقت بالکل ٹوٹ گئے جب شدت پسندوں کے حمایتی اسلام آباد میں سکیورٹی فورسز کے سامنے کھڑے ہو گئے۔

جہاں تک اظہر مسعود کا تعلق ہے تو وہ سنہ 1990 کے عشرے میں افغانستان اور کشمیر میں ایک بااثر شدت پسند کے طور پر سامنے آئے۔

اس کے بعد جہادی گروہوں نے خود کو پاکستان کے ’مخالف ‘ اور’حامی‘ گرہوں میں تقسم کر لیا۔ ان میں سے پاکستان مخالف گروہوں نے سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا جس کے دوران انہوں نے ہزاروں لوگوں کو ہلاک کیا، جبکہ ’پاکستان حامی` گروہ نے اپنی توجہ افعانستان میں امریکی فوجوں اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین فوج کے خلاف لڑنے پر مرکوز کر دی۔

اس تقسیم کے بعد جماعت الدعوہ اور جیش محمد کے رہنما پاکستانی ریاست کے ساتھ رہے، تاہم ان دونوں کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے انھیں چھوڑ کر ریاست مخالف گروہوں میں چلے گئے، خاص طور پر جیش محمد کے جنگجو۔

پاکستانی فوج کے خالف کارروائیاں کرنے والے پاکستانی طالبان کے ایک سینیئر کمانڈر نے بی بی سی کو بتایا کہ جیش محمد کے کئی ارکان ان کے ساتھ شامل ہو کر حکومت کے خلاف ’جہاد‘ کرنے لگے۔ اگرچہ ان میں سے بہت سے ایسے تھے جنھوں نے بعد میں ریاست کے خلاف لڑنا چھوڑ دیا، تاہم سینیئر کمانڈر کا کہنا ہے کہ جیش محمد کے کئی سابق شدت پسند طالبان کے ساتھ رہے یا القاعدہ جیسے گروہوں میں چلے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جہاں تک ریاست مخالف گروہوں کا تعلق ہے، پاکستانی سکیورٹی فورسز ان کی کمر توڑنے میں غیرمعمولی حد تک کامیاب رہی ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی ایک تحقیق کے مطابق سنہ 2013 میں پاکستان میں دہشتگردوں نے دو ہزار پانچ سو حملے کیے جبکہ سنہ 2018 میں ان کی تعداد کم ہو کر 595 ر ہ گئی۔

لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ جیش محمد یا جماعت الدعوہ جیسے ریاست کے حامی گروہوں کا کیا کیا جائے جنھوں نے مبینہ طور پر انڈیا پر حملے جاری رکھے۔

کہا جاتا ہے کہ جیش محمد نے سنہ 2016 میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں دو بڑے حملے کیے جبکہ انڈین حکام کا الزام ہے کہ سنہ 2008 میں ممبئی میں ہونے والے حملوں کے پیچھے لشکرِ طیبہ کے بانی حافظ سعید کا ہی ہاتھ تھا۔ حافظ سعید اس الزام سے انکار کرتے ہییں۔

اس وقت یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ حملہ آوروں کو پاکستانی خفیہ ادارے کی حمایت حاصل تھی۔ اگرچہ خفیہ اداکارہ بھی اس سے الزام سے انکار کرتا ہے، تاہم جو لوگ ان حملوں میں مبینہ طور پر موث تھے ان کے خلاف قانونی کارروائی مشکوک حد تک سست رہی ہے۔

لیکن لگتا ہے کہ اب ان شدت پسند گروہوں کی کارروائیاں وزیر اعظم عمران خان کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں کیونکہ وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے خواہشمند ہیں۔ اور شاید عمران خان کے لیے اس سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ان تنظیموں کے خلاف زیادہ موثر کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کی ’گرے لسٹ‘ شامل کیا جا چکا ہے۔

یہ چیلنچ اپنی جگہ لیکن پاکستانی حکام کو خدشہ ہے کہ جیش محمد اور جماعت الدعوہ پر براہ راست ہاتھ ڈالنے سے ملک میں جوابی پُرتشدد کارروائیوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو سکتا ہے۔

اسی لیے گذشتہ برس پاکستانی فوج کے اعلیٰ افسران اور تـجزیہ کاروں نے شدت پسند گروہوں سے منسلک کچھ تنظمیوں کو ’مرکزی دھارے‘ میں لانے کا خیال پیش کیا تھا۔

اس کے کچھ ہی عرصے بعد اور عام انتخابات سے پہلے جماعت الدعوہ (اور لشکر طیببہ) کے بانی حافظ سعید نے ایک نئی سیاسی جماعت بنا لی تھی۔ اگرچہ یہ جماعت ایک بھی نشست نہیں جیت پائی تھی، لیکن اس کے باوجود شاید حکومت کے لیے جیش محمد کے مقابلے میں ان سے معاملہ کرنا آسان ہو۔

گذشتہ کئی برسوں میں حافظ سعید ایمبولینس سروس سے لیس مراکز اور بنیادہ صحت کے مراکز پر مشتمل خیراتی اداروں کا ایک بڑا جال بچھانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ان میں سے اکثر کا نظام حکومت اب اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے، لیکن تجزیہ کار عامر رانا کہتے ہیں کہ حکام کو حافظ سعید کے حامیوں کی طرف سے مزاحمت یا ’جوابی کارروائی کا خدشہ بہت کم ہے۔‘ جماعت الدعوہ بھی کہہ چکی ہے کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عامر رانا کہتے ہیں کہ جماعت الدعوہ کے برعکس، پاکستانی حکام کو خدشہ ہے کہ جیش محمد کی طرف سے پرتشدد کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔ اس سے قبل بھی جب سنہ 2002 میں جیش محمد پر پابندی لگائی گئی تھی تو اس سے الگ ہو جانے والے ایک گروہ نے جنرل پرویز مشرف کو ہلاک کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔

بی بی سی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستانی فوج کے سربراہ اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات میں عسکری قیادت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ شدت پسندوں سے نمٹا جائے گا۔ تاہم عسکری حکام نے سیاستدانوں کو خبردار بھی کیا کہ یہ گروہ اتنے زیادہ ہیں کہ سب کو طاقت کے زور پر ختم نہیں کیا سکتا، اس لیے کچھ کو مرکزی دھارے میں لانا بہتر ہو گا۔

حکومت سے ابتدائی طور پر جو تجاویز سامنے آئی ہیں ان میں انسدادِ شدت پسندی کے مراکز کا قیام، ان لوگوں کے لیے روزگار فراہم کرنے کے علاوہ یہ عجیب و غریب تجویز بھی شامل ہے کہ سابق شدت پسند کو ’نیم فوجی‘ طاقت کے طور پر استعمال کیا جائے۔

ایک سینئیر پاکستانی سیاستدان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان میں یہ خیال تقویت پکڑ رہا ہے کہ ایسے افراد کو کشمیر میں استعمال کرنا الٹا نقصاندہ ہے کیونکہ اس سے دنیا کی نظر ’انسانی حقوق کی اس پامالی‘ سے ہٹ جائے گی جو انڈیا کشمیر میں کر رہا ہے۔ رہنما کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترجیح یہی ہو گی کہ جہاں تک ممکن ہے شدت پسندوں کے خلاف طاقت نہ استعمال کی جائے۔

شدت پسندوں سے منسلک مدرسوں اور مسجد کو حکومتی کنٹرول میں لینے سے حکومت کچھ اچھی شہہ سرخیوں میں تو آ سکتی ہے، لیکن اصل بات یہی ہے کہ حکومت آئندہ کرتی کیا ہے۔

کیا واقعی کوئی قانونی کارروائی کی جائے گی؟ کیا گروہوں کو واقعی سرحد پار کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک لیا جائے گا؟ کیا ’مرکزی دھارے‘ میں شامل کرنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ جہادی آہستہ آہستہ تشدد کی راہ چھوڑ دیں؟ یا یہ اقدامات ان گروہوں کو محض ایک قانونی شکل دینے کا طریقہ ہیں؟

میں اسلام آباد کے ہی نواح میں ایک ایسے مدرسے میں بھی گیا جسے حکومت نے گذشتہ برس جماعت الدعوہ سے لیکر اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔

یہاں عملے کے لوگ وہی ہیں اور انھوں نے مجھے بتایا کہ صرف ایک تبدیلی آئی ہے اور وہ یہ کہ اب مقامی سرکاری حکام باقاعدگی سے مدرسے کا معائنہ کرتے ہیں اور ان کا خرچ عطیات کی بجائے حکومت امداد سے چلتا ہے۔

لیکن اس مدرسے کے گیٹ پر کھڑے سکیورٹی گارڈ نے شلوار قمیص والی جو وردی پہنی ہوئی تھی اس پر جو نام کندہ تھا وہ سرکاری طور پر کالعدم تنظیم کا ہی تھا یعنی ’’جماعت الدعوہ‘‘

اسی بارے میں