چلغوزے کی ہوشربا قیمت کی وجہ کیا ہے؟

چلغوزے

ایک وقت تھا جب پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چلغوزے اتنی بڑی مقدار میں دستیاب ہوتے تھے کہ عام ریڑھیوں پر اس کے ڈھیر لگے نظر آتے تھے لیکن اب تو یہ دکانوں میں بھی کھلے پڑے نظر نہیں آتے، جبکہ مہنگے اتنے کہ کوئی غریب اس کو خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔

آخر یہ متوسط اور غریب طبقات سے روٹھ کیوں گیا؟ شاید اس کی بہت ساری وجوہات ہوں گی لیکن اس کی تجارت سے وابستہ افراد دو باتوں پر متفق ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ چلغوزے زیادہ تر باہر ایکسپورٹ ہو رہے ہیں جبکہ دوسری اس کی پیداوار کا خشک سالی سے متاثر ہونا ہے۔

ایران اور افغانستان سے سرحد لگنے کے باعث کوئٹہ کی خشک فروٹ مارکیٹ کا شمار پاکستان کی سب سے بڑی مارکیٹوں میں ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سردیوں کی خاص سوغات

جنگلات کی کٹائی سے کیا نقصان ہوتا ہے؟

’دادا ابو کیا آپ کے دادا قبضہ گیر تھے‘

اس مارکیٹ میں واقع دبئی ڈرائی فروٹ کے مالک اور 20 سال سے خشک فروٹ کے کاروبار سے وابستہ حاجی روزی خان اچکزئی نے اس کی سب سے بڑی وجہ ایکسپورٹ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ زیادہ تر چین جاتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں یہ نہیں معلوم کہ یہ چین کیوں زیادہ جا رہا ہے آیا وہ اس کو کھاتے ہیں یا کوئی دوائی وغیرہ بناتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ چلغوزے کے درخت بلوچستان کے ضلع ژوب کے پہاڑوں میں ہوتے ہیں جبکہ ژوب کا یہ پہاڑی سلسلہ آگے افغانستان تک جاتا ہے۔ اس لیے اس پار افغانستان میں بھی اس کے درخت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان وجوہات کے باعث گذشتہ چند سالوں کے دوران اس کی قیمت 1،200 روپے سے بڑھ کر 6،000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم بغیر پالش شدہ یا اس سے کم کوالٹی چلغوزہ فی کلو 3،500 سے 4،000 روپے میں بھی ملتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مہنگائی کے باعث اب بہت کم ایسے لوگ رہ گئے ہیں جو ایک کلو چلغوزہ خریدتے ہوں بلکہ اب ان کی دکان میں چلغوزہ خریدنے والوں میں سے زیادہ تر ایک چھٹانک تو کوئی آدھا پاؤ خریدتا ہے۔

خشک فروٹ مارکیٹ میں واقع ایک بڑی دکان النصیب ڈرائی فروٹ میں مردان سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری افسر محمد عامر خان موجود تھے۔

انھوں نے خشک فروٹ کی خریداری کرتے ہوئے ایک کلو چلغوزہ بھی خریدا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے سارے خشک فروٹس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن چلغوزے کی خریداری تو اب لوگوں کے بس سے باہر ہو گئی ہے۔

اس دکان کے مالک عبد المجید نے بتایا کہ سنہ 1996 میں ایک کلو چلغوزہ 120 روپے میں دستیاب ہوتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 1998 تک چلغوزے سڑکوں پر ریڑھیوں میں فروخت ہوتے تھے۔

عبد المجید کے مطابق سنہ 2001 کے بعد اس کی قیمت میں اچانک اضافہ ہوا اور اس کے فی کلو قیمت 1،000 روپے سے بھی زیادہ ہو گئی۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت چلغوزے کے جو بڑے تاجر تھے وہ یہ کہا کرتے تھے کہ افغانستان میں تورا بورا کے پہاڑی علاقے میں امریکیوں یا دیگر ممالک نے جو بمباری کی اس کے باعث چلغوزے کے درخت جل گئے۔

عبد المجید کا کہنا تھا کہ جہاں اس کی ایک وجہ یہ بتائی جا رہی ہے وہاں خشک سالی سے بھی اس پر اثر پڑا ہے۔

’سنہ 2001 کی دہائی کے وسط کے بعد بظاہر اس کی پیداوار 30 فیصد رہ گئی۔ اب اس 30 فیصد کا ایک بڑا حصہ چین جا رہا ہے۔ جس طرح پشتون گوشت کو زیادہ پسند کرتے ہیں، اسی طرح چینیوں کے کھانے پینے میں جو سب سے پسندیدہ اور مرغوب اشیا ہوتی ہیں ان میں چلغوزہ شامل ہے۔‘

عبد المجید نے بتایا کہ چین جانے کے ساتھ ساتھ یہ عرب ممالک بھی جا رہا ہے جس سے اس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عرب ممالک میں چھلکے کے ساتھ نہیں بلکہ صرف اس کا مغز جاتا ہے۔ جب اس کا چھلکا اتار دیا جاتا ہے تو اس کی قیمت اور بڑھ جاتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ عرب کھڈی کباب کے ساتھ جو چاول پکاتے ہیں وہ اس میں چلغوزہ ملا کر کھاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سنہ 1990 کی دہائی کے وسط تک 200 روپے فی کلو بکنے والے چلغوزے کی قیمت اب 6،000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں