'باجی تم پاکستان کیوں گئیں'

تصویر کے کاپی رائٹ NARINDER NANU/AFP/Getty Images

14 فروری کے پلوامہ حملے کے بعد سترہ فروری کو جب میں لندن سے پاکستان کے لیے روانہ ہونے لگی تو دل میں کئی طرح کے وسوسے تھے ایک تو میں ایک ہندوستانی نژاد برطانوی شہری تھی اور تقریباً پہلی بار پاکستان جا رہی تھی جانے سے پہلے بچوں نے گوگل پر پاکستان کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں اچھے خاصے خوف کا اظہار کیا میرے بیٹے نے کہا ممی پاکستان ایک خطرناک ملک ہے آپ وہاں کیوں جا رہی ہو۔

دوسرے کافی دشواری کے بعد ویزہ حاصل کیا تھا سوچ رہی تھی کہ اگر حالات زیادہ بگڑے تو کہیں میں اسلام آباد میں ہی نہ پھنس جاؤں لیکن جنگ کا اندیشہ زیادہ نہیں تھا۔

Image caption ’پاکستان میں میں نے خوب دعوتیں کھائیں اور لوگوں سے ملنا جلنا رہا‘

اسلام آباد میں میرا ایک ہفتہ بخیریت گذرا لیکن 26 فروری کی صبح خبریں سنیں تو دل زور زور سے دھڑکنے لگا انڈیا کے جنگی طیاروں نے پاکستان کی خلائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستان نے جوابی کارروائی کے لیے صحیح وقت اور جگہ کا انتخاب کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی تقریر نے ہمت بندھائی جس میں انھوں نے انڈیا کو ہوش کے ناخن لینے کی صلاح کے سات ساتھ بات چیت اور تحقیقات کی پیشکش کی۔ دل چاہا کے علی ظفر کی طرح ٹوئٹ کروں 'واہ کیا تقریر تھی' لیکن اندر کے ہندوستانی نے ہاتھ روک لیا۔

اس دوران انڈیا سے میری بہن دن رات انڈین میڈیا پر جنگ و جدل کی باتیں اور مباحثے سن کر مارے خوف کے مجھے فون کرتی اور بار بار کہتی باجی تم پاکستان کیوں گئیں۔

میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ بھائی یہاں ایسا کچھ نہیں امن شانتی ہے۔ لیکن وہ بیچاری ٹی وی پر مودی جی کی تقریر سن کر دہل جاتی جو انتخابی ریلیوں میں بار با رکہہ رہے تھے ہم نے گھر میں گھس کر مارا ہے۔ لندن سے دوستوں کے ٹیکسٹ میسجز اور فون آنے لگے اور دوستوں نے احتیاط برتنے کے مشورے دیے۔

Image caption اسلام اباد

بطور انڈین نژاد میں بلا وجہ ہی احتیاط برتنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک صبح جب اپنی دوست کے ساتھ ناشتے کے لیے ایک رستوران میں بیٹھی تھی تو ساتھ کی میز پر کچھ لوگ موجود حالات پر تبصرہ کر رہے تھے ایک شخص نے کہا کہ جب تک انڈیا میں الیکشن نہیں ہو جاتے انڈیا پاکستان کے درمیان کشیدگی برقرار رہے گی۔

اس سارے ماحول میں ابھنندن کی واپسی نے ماحول سے کشیدگی کم کی اور میں نے چین کی سانس لی اس کے بعد میں نے دو کام کیے ایک تو اپنے فون پر انڈین چینل دیکھنا بند کیے اور دوسرے اپنے بچوں اور شوہر کو اسلام آباد کے خوبصورت نظاروں اورکھانوں کی ڈھیر ساری تصاویر بھیجیں۔

اور واپسی پر اپنے ساتھ ڈھیرساری خوبصورت یادیں اور تحائف ساتھ لیکر آئی۔

انڈیا میں پاکستانی شہری کا تجربہ

لندن وپس آکر ایک صاحب سے رابطہ ہوا جو ہیں تو برطانوی شہری لیکن پاکستان نژاد۔ وہ پلوامہ حملے کے بعد انڈیا کے دورے پر تھے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے کہا کہ انڈیا جانے سے پہلے پاکستان میں میرے گھر والے بھی انڈین ٹی وی چینل دیکھ کر خوفزدہ تھے اور چاہتے تھے کہ میں انڈیا نہ جاؤں لیکن کام کے سلسلے میں جانا ضروری تھا۔

انکا کہنا تھا انڈیا میں انکا تجربہ بہت اچھا رہا جنگ صرف ٹی وی چینلز کی حد تک محدود تھی۔ یہ جاننے کے بعد بھی کہ انکا تعلق پاکستان سے ہے لوگو ں کا رویہ ان کے ساتھ بہت اچھا تھا اور انکے زیادہ تر کلائنٹس غیر مسلم ہی تھے۔ انکا کہنا تھا کہ ان سے ملنے والے ہر شخص کا خیال تھا کہ جنگ نہیں ہونی چاہیے جنگ صرف تباہی لاتی ہے اور عام لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں ساتھ ہی کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ الیکشن اور مودی حکومت کے سبب ہی پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھائی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بغیر کسی خوف یا خطرے کے انڈیا میں ہر جگہ گھومے اور لوگوں سے انہیں پیار ملا۔

متعلقہ عنوانات