سمجھوتہ ایکسپریس مقدمہ: راحیلہ وکیل انڈین عدالت کو کیا بتانا چاہتی ہیں؟

سمجھوتہ ٹرین تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption 18 فروری 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکے سے 68 افراد ہلاک ہوئے تھے

انڈیا میں سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کا فیصلہ موخر کرانے والی راحیلہ وکیل کے والد محمد وکیل واقعے کے بعد سے لاپتہ ہیں وہ عدالت میں ان کی گمشدگی کا سوال اٹھانا چاہتی ہیں۔

انڈیا میں پنچ کولا کی قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکے کیس کا فیصلہ پیر کو موخر کر دیا تھا، عدالت نے راحیلہ کی گواہ کے طور پر عدالت کے روبرو پیش ہونے کی عرضی ملنے کے بعد یہ فیصلہ موخر کیا۔

یہ بھی پڑھیئے

پاکستانی خاتون نے سمجھوتہ فیصلہ موخر کرا دیا

سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ، ملزم کا اقبال جرم

انڈیا اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس جب ہریانہ کے شہر پانی پت کے دیوانی گاؤں کے نزدیک پہنچی تو اس کے ایک کمپارٹمنٹ میں بم دھماکہ ہوا اور دو بوگیاں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔ اس واقعے میں 68 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی۔

اس ٹرین میں راحیلہ وکیل کے والد بھی سوار تھے جو گیارہ فروری 2007 کو انڈیا گئے تھے، راحیلہ کا تعلق حافظ آباد کے قصبے سے ہے ان کا ننھیال انڈیا میں موجود ہے۔

راحیلہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکے کی خبر ٹی وی پر دیکھی تو رشتے داروں سے رابطہ کیا انہوں نے بتایا کہ جس ٹرین میں والد سوار تھے اس کے ساتھ حادثہ ہوگیا ہے۔

’جو بھی خاندان تھے انہیں لاہور سے ویزے جاری کیے گئے اور اگلے روز روانہ ہوئی اور انیس فروری کو پانی پت پہنچی وہاں ٹرین کی بوگیاں جلی ہوئی تھیں لاشیں اور سامان جلا ہوا دیکھا۔ والد کی تلاش کی لیکن وہ نہیں ملے اور نہ ہی ان کا سامان وغیرہ ملا۔

راحیلہ وکیل دس روز والد کی تلاش کے لیے وہاں رہیں اسی دوران ان کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیے گئے، راحیلہ کے مطابق جب زندہ بچ جانے والے لوگ آئے ان میں ایک مرید کے کا رہنے والا تھا اس سے میری ملاقات ہوئی اس سے ابو کے زندہ ہونے کی تصدیق ہوئی اور پتہ چلا کہ وہ کچھ دیر ان کے ساتھ تھے۔

’اس حادثے کے بعد کچھ لوگوں کو بھارتی انٹیلیجنس والوں نے اتارا تھا اس میں میرے ابو بھی شامل تھے اسی بنیاد پر ہم نے انڈین حکومت پر مقدمہ دائر کیا کہ ہمارے والد زندہ ہے۔ بعد میں حکام نے ایک قبر کے بارے میں کہا کہ یہ شاید ان کی ہے جبکہ بعد میں ڈی این کے ذریعے معلوم ہوا کہ وہ کراچی کے کسی شہری کی ہے کورٹ نے انڈین اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ والد کا پتہ لگائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rahila Wakeel
Image caption میرے ابو کے زندہ ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے لیکن ابھی تک پتہ چلا کہ وہ کہاں ہیں: راحیلہ وکیل

راحیلہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد انڈیا کے نیوز چینل این ڈی ٹی وی نے بھی انہیں دکھایا تھا ان کے پاس بے شمار چیزیں ہیں جو بتانا اور اپنا بیان ریکارڈ کرانا چاہتی ہیں لیکن انہیں بلایا نہیں جا رہا۔

راحیلہ کے کزن رانا عزیز وکیل ہیں ان کا کہنا ہے کہ مقدمے کے کسی بھی چشم دید گواہ کو کبھی سمن ہی جاری نہیں کیا گیا، انہوں نے وزارت خارجہ سے بھی معلوم کیا ہے انہوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہیں سمن موصول نہیں ہوا انہوں نے اپنے وکیل کو کہا ہے کہ وہ عدالت میں اس نکتے کو بھی اٹھائیں کہ پاکستان سے چشم دید گواہوں کو کیوں طلب نہیں کیا گیا۔

رانا عزیز کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے تو کبھی معاونت یا مدد کے لیے رابطہ نہیں کیا۔ وہ خود ہی 2018 سے لےکر ہر حکومت اور چیف جسٹس آف پاکستان کو عرضی بھیجتے رہے ہیں جن کا صرف یہ جواب آتا ہے کہ آپ کی عرضی مل گئی اس کے بعد مزید کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ انہیں امید ہے کہ ا س بار انہیں ویزہ مل جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں