کرتارپور راہداری کی تعمیر ’ایک معجزہ ہے‘

گردوارہ کرتار پور

گوبند سنگھ گذشتہ 18 برس سے گرودوارہ کرتارپور صاحب میں ’گرنتھی‘ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

گرودوارے کی پہلی منزل پر قائم تزئین و آرائش سے مزین عبادت کے وسیع و عریض کمرے میں وہ اپنی روزانہ کی عبادت (گرو گرنتھ صاحب پاٹ) میں مشغول ہیں۔ عموعی طور پر یہ کمرہ سکھ عقیدت مندوں سے بھرا ہوتا ہے تاہم جب سے کرتارپور راہداری کی تعمیر کا کام شروع ہوا ہے گرودوارہ یاتریوں کے لیے بند ہے۔

عبادت سے فراغت حاصل کرتے ہی گوبند سنگھ کمرے سے باہر آتے ہیں اور کھڑکی سے باہر تکنے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کرتارپور راہداری منصوبے پر مذاکرات کا آغاز

’کرتارپور راہداری نے مثبت سیاست کی بنیاد رکھ دی‘

گرودوارہ کرتارپور:3 کلومیٹر کا فاصلہ،7 دہائیوں کی مسافت

گذشتہ چھ ماہ کے دوران پیش آنے والے واقعات سے وہ ابھی تک مرعوب ہیں۔

’تقریباً ایک برس قبل یہ جگہ بالکل الگ تھلگ تھی۔ ہمارا میڈیا سے کبھی سامنا نہ ہوا تھا اور چیزیں بہت آسان تھیں۔‘

اب درجنوں ٹرک، کرینیں، اور تعمیراتی مشینری وہاں نظر آتی ہے۔ عمارت کے اطراف زمین کو کھودا جا چکا ہے اور ایک زیرِ تعمیر سڑک پر کھدائی دیکھی جا سکتی ہے۔

گوبند سنگھ کی آنکھوں میں چمک دیکھی جا سکتی ہے جب وہ بتاتے ہیں کہ ’ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بارڈر کبھی کھلے گا، یہ ایک معجزہ ہے۔‘

کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ گذشتہ اگست میں وزیرِ اعظم عمران خان کی حلف برداری کے موقع پر پاکستان کی آرمی کے سربراہ جنرل باجوہ اور انڈین سیاست دان اور سابق کرکٹر نجوت سنگھ سدھو کا ہاتھ ملانا اور ایک دوسرے کو گلے ملنا سرحد کے اطراف بسنے والے ہزاروں سکھ عقیدت مندوں کی تقدیر بدل دے گا۔

28 نومبر 2018 کو پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کے کام کا افتتاح کیا۔

گوبند اُفق کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’جہاں ہم کھڑے ہیں سرحد وہاں سے صرف چار کلومیٹر دور واقع ہے۔‘

وضاحت کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ’آپ وہاں بڑے بڑے پتھر دیکھ سکتی ہیں یہ دریائے راوی پر تعمیر کیے جانے والے 800 میٹر طویل پل کے لیے ہیں۔ یہ پل سڑک کو سرحد سے جوڑے گا۔‘

گوبند کا دعویٰ تھا کہ اس منصوبے پر 40 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ ’آپ تعمیر کے کام میں مصروف مزدورں کو گن نہیں سکتیں، لوگ 24 گھنٹے شفٹوں میں کام کرتے۔‘

گوبند نے بتایا کہ دیوان استھان (عبادت کا کمرہ)، بارہ دری، حاضری کے لیے آئے عقیدت مندوں (جنھیں سنگت کہا جاتا ہے) کے کمرے اور لنگر خانہ بھی زیرِ تعمیر ہے۔

سکھ مذہب کے ماننے والوں کے ہاں یہ درگاہ مقدس ترین جگہوں میں سے ہے۔ اس جگہ سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری 17 برس بتائے تھے اور 16ویں صدی میں یہیں ان کی وفات ہوئی۔

گرودوارے کے مرکزی اور تاریخی سفید ڈھانچے کو بھی مرمت کیا گیا ہے اور اس کی قدیم شان و شوکت کو بحال کیا گیا ہے۔

گوبند سنگھ کہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کی حالیہ کشیدگی کے دوران انھیں اس بات کا شک بھی نہ گزرا کہ راہداری پر کام رک جائے گا۔

پریقین انداز میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کے آرمی چیف کا سکھوں سے وعدہ تھا، جیسے بھی ہو یہ (وعدہ) وفا ہو گا۔‘

انھوں نے اس بات کی بھی تردید کی کے تعمیراتی کاموں کے دوران گرو نانک سے متعلقہ کسی بھی چیز کو زِک پہنچی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ وہ تمام اشیا جو سکھوں کے لیے مقدس ہیں وہ محفوظ اور صحیح سلامت رہیں۔ چند لوگ اس منصوبے کو نقصان پہنچانے کے لیے افواہیں پھیلا رہے ہیں لیکن میں دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ان کا ورثہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔‘

گرودوارے سے انڈیا کی سرحد محض ڈھائی کلو میٹر دور ہے لیکن سکھ زائرین کو اس کو عبور کرنے اور یہاں تک آنے کی اجازت کبھی نہ تھی۔ تاہم اب زیرِ تعمیر راہداری کے ذریعے سرحد پار بسنے والے سکھ عقیدت مند گردوارہ کرتارپور صاحب باآسانی آ سکیں گے۔

انڈیا نے بھی زائرین کی آسانی کے لیے راستے کی تعمیر شروع کر رکھی ہے اور اس بارے میں تفصیلات پاکستان کو بھی مہیا کی گئی ہیں۔ انڈیا نے پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد پر یاتریوں کی آمد و رفت کے لیے گرداس پور میں واقع ڈیرہ بابا نانک کا انتخاب کیا ہے۔

نہ صرف سکھ بلکہ قریبی دیہاتوں کے مکین بھی اس پیش رفت سے بہت خوش ہیں۔

رفیق مسیح دودہا گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ گاؤں گرودوارے سے تقریباً ایک کلومیٹر دور ہے۔

’یہ ایک جنگل کی مانند ہوتی تھی اور اب اس جگہ کو دیکھیں یہ پہچانی نہیں جا رہی۔‘

رفیق سمجھتے ہیں کہ یہ منصوبہ راہداری کے اطراف بسنے والے ہزاروں افراد کو ترقی کا باعث بنے گا۔

پرامید چہرے کے ساتھ ان کا کہنا تھا کہ ’اب یہاں سڑکیں، سکول، ہسپتال اور تجارتی مراکز ہوں گے اور لوگ سال بھر یہاں آئیں گے جس سے بزنس بڑھے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ سب کچھ کرتارپور کو وی آئی پی علاقہ بنا دے گا۔‘

گرودوارے سے دریائے راوی تک سڑک کے لیے کھدائی کا کام مکمل ہو چکا ہے اور اس منصوبے کے لیے حکومتی نے ہزاروں ایکڑ زمین کا قبضہ بھی حاصل کر لیا ہے۔

تعمیراتی کاموں میں مصروف ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’بنیادیں رکھ دی گئی ہیں اور آئندہ چند ہفتوں میں نئی عمارتیں جلد ہی نظر آنے لگیں گی۔‘

تعمیراتی کام 31 اگست 2019 تک مکمل ہونے کی امکان ہے۔

اسی بارے میں