جعلی اکاؤنٹس کیس: زرداری اور فریال تالپور کے خلاف مقدمہ راولپنڈی منتقل، ضمانت منسوخ

آصف علی زرداری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سابق صدر آصف علی زرداری نے صحافیوں سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی منتقلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا

پاکستان کے شہر کراچی کی بینکنگ عدالت نے ملک کے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور حسین لوائی کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا مقدمہ راولپنڈی کی عدالت میں منتقل کردیا ہے۔

بینکنگ کورٹ کے جج طارق حسین کھوسو نے اپنے حکم میں متعلقہ مقدمے میں آصف علی زرداری، فریال تالپور، اومنی گروپ، کے سربراہ انور مجید کے تین بیٹوں ذوالقرنین، علی مجید، نمر مجید ، دی بلوچ کمپنی کے شہزاد جتوئی، شیر محمد مغیری، بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض کے داماد زین ملک سمیت 13 ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں بھی منسوخ کردی ہیں۔

عدالت نے مقدمے کے تمام ریکاڈ کو راولپنڈی کی عدالت میں منتقل کرنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیے۔

’منی لانڈرنگ‘:زرداری ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوں گے

جعلی اکاونٹس کیس: زرداری کی درخواستیں مسترد

آصف زرداری نے ایف آئی اے سے وقت مانگ لیا

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی تحقیقات ایف آئی اے سے قومی احتساب بیورو اسلام آباد کو منتقل کردی ہے، جس کے بعد چیئرمین نے قانونی اختیار استعمال کرکے متعلقہ مقدمہ اسلام آباد میں چلانے کا فیصلہ کیا ہے لہٰذا تمام ریکارڈ راولپنڈی کی عدالت منتقل کیا جائے۔

آصف علی زرداری، فریال تالپور، انور مجید اور دیگر ملزمان کے وکلا نے مقدمے کی منتقلی کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ نے مقدمہ نیب کے حوالے کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ مقدمے کی نئے سرے سے تحقیقات کا حکم دیا ہے، نیب فیصلے کی غلط تشریح کر رہا ہے۔

عدالت نے دونوں فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو جمعہ کو سنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بینکنگ کورٹ کے جج طارق حسین کھوسو نے اپنے حکم میں متعلقہ مقدمے میں ملزمان کی قبل از گرفتاری کی درخواستیں منسوخ کردیں

فیصلے کے موقعے پر آصف علی زرداری اور ہمشیرہ فریال تالپور پیش نہیں ہوئے جبکہ انور مجید کے تینوں بیٹوں سمیت دیگر ملزمان موجود تھے ،جو فیصلہ سنتے ہی ہائی کورٹ کے احاطے میں پہنچ گئے جبکہ آصف علی زرداری فیصلہ سنائے جانے کے بعد پہنچے۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے صحافیوں سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی منتقلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس پر مزید رائے ان کے وکلا دیں گے۔

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے جن سے مشکوک منتقلیاں کی گئیں۔

ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ان مشکوک منتقلیوں سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ عبداللہ لوطہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور، اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید، ان کے بیٹے، بحریہ ٹاؤن کا مالک ملک ریاض کے داماد ملک زین شامل ہیں۔

اسی بارے میں