پاکستان میں صوبائی اسمبلی کے عہدیداران کو کتنی تنخواہ ملتی ہے؟

پنجاب اسمبلی

گذشتہ بدھ کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کی قانون ساز اسمبلی میں ایک بل پیش کیا گیا جس میں وزیر اعلیٰ سمیت صوبائی وزرا اور اسمبلی کے ممبران کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی تجویز دی گئی تھی۔

یہ بل اسمبلی سے پاس کر دیا گیا اور اس پر گورنر کے دستخط کے بعد عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

لیکن بل کی منظوری کے ساتھ ہی حکومت کے اس اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور حتیٰ کے وزیر اعظم عمران خان خود بھی اس کے خلاف ٹوئٹر پر بول اٹھے۔

یہ بھی پڑھیے

نہ چھٹی، نہ تنخواہ، اور دنیا کی سب سے مشکل نوکری

نومنتخب کانگریس خاتون گھر کا کرایہ ادا کرنے کے قابل نہیں

مردوں کے برابر تنخواہ: ’خواتین کو مزید 217 سال لگیں گے‘

میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے شروع میں یہ کہہ کر اس بل کی حمایت کا عندیہ دیا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو مڈل کلاس طبقہ سیاست میں نہیں آئے گا۔

لیکن وزیر اعظم کے ٹوئٹر پیغام کے بعد وہ بھی اپنے موقف سے دستبردار ہو گئے۔

کس کو کتنی تنخواہ ملتی ہے؟

یقیناً ملک کے لیے قانون سازی ایک پیچیدہ اور محنت طلب کام ہے لیکن اس کے عوض پاکستانی سیاست دانوں کو کیا معاوضہ ملتا ہے۔

قومی اسمبلی، سینیٹ سمیت ہر صوبائی اسمبلی کے اس حوالے سے اپنے قوانین ہیں جنھیں 'سیلریز، الاؤنسز اینڈ پرولیجز ایکٹ' کہتے ہیں اور یہ سب ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں۔

پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور عہدیدارن کی تنخواہیں اور کچھ مراعات درج زیل ہیں۔

بلوچستان اسمبلی

بلوچستان اسمبلی کے الاؤنس، سیلریز ایڈ پریولیجز ایکٹ 1975 میں 2014 کی ترمیم کے بعد وزیر اعلی بلوچستان کی تنخواہ تمام وزرا اعلیٰ میں سب سے زیادہ پانچ لاکھ 50 ہزار روپے ہے۔ جبکہ صوبائی وزرا کی تنخواہ پانچ لاکھ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BALOCHISTAN ASSEMBLY

وزیر اعلیٰ کو سرکاری گھر دیا جاتا ہے جس کے تمام اخراجات سرکاری خزانہ برداشت کرتا ہے اور اگر وزیر اعلیٰ اپنے گھر میں رہتے ہیں تو باقی وزرا اعلیٰ کے مقابلے میں انھیں سب سے کم رقم 50 ہزار روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں۔ تمام وزرا کے بجلی اور گیس کے بل حکومت ادا کرتی ہے۔

وزرا کو دو سرکاری گاڑیاں دی جاتی ہیں جن میں سے ایک کے استعمال کی کوئی حد نہیں لیکن دوسری گاڑی کو ماہانہ 250 لیٹر کا ایندھن دیا جاتا ہے۔

بلوچستان کے ایکٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ اپنے ذاتی استعمال کے لیے مرسڈیز بینز 280 ایس ای ایل یا اس کے برابر کا ماڈل بیرون ملک سے درآمد کرتے ہیں تو انھیں اس پر کوئی کسٹم ڈیوٹی یا سیلز ٹیکس نہیں دینا پڑے گا۔

بلوچستان اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہیں وزیر اعلیٰ اور وزرا کے برابر ہیں۔ سپیکر کو پانچ لاکھ 50 ہزار جبکہ ڈپٹی سپیکر کو پانچ لاکھ روپے دیے جاتے ہیں۔ انھیں سرکاری گھر دیا جاتا ہے لیکن اگر وہ اپنے گھر میں رہیں تو انھیں ماہانہ 50 ہزار روپے دیے جاتے ہیں جبکہ دونوں کو ایک ایک سرکاری گاڑی دی جاتی ہے۔

2015 میں کی گئی ترمیم کے بعد ارکان صوبائی اسمبلی کی ماہانہ تنخواہ تین لاکھ روپے ہے جبکہ چار ہزار روپے کا ڈیلی الاؤنس بھی دیا جاتا ہے اور سرکاری امور کے لیے سفر کا خرچہ بھی حکومت پورا کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اضافی پانچ لاکھ روپے سالانہ کا خرچہ بھی حکومت برداشت کرتی ہے۔

خیبر پختونخواہ اسمبلی

خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ کو ماہانہ دو لاکھ روپے کی تنخواہ ملتی ہے جبکہ دیگر وزرا کو ایک لاکھ 80 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تمام وزیروں کو سرکاری گاڑی دی جاتی ہے۔ وزرا سرکاری گھر کا بھی حق رکھتے ہیں اور اگر وہ اپنے گھر میں رہنا پسند کریں تو انھیں ماہانہ 70 ہزار روپے دیے جاتے ہیں اسکے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کے بل کے پیسے بھی سرکار سے وصول کر سکتے ہیں۔

سپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ 50 ہزار ہے، انھیں سرکاری گھر دیا جاتا ہے اور اگر وہ اپنی رہائش میں رہنا چاہیں تو انھیں 70 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ جبکہ ڈپٹی سپیکر کو ایک لاکھ 45 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے اور سرکاری گھر نہ ملنے کی صورت میں 55 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔

سپیکر اور ڈپٹی سپیکر دونوں کو دو سرکاری گاڑیاں دی جاتی ہیں اور ان کا تمام خرچہ حکومت اٹھاتی ہے۔

ممبر صوبائی اسمبلی کو 80 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے اور اس کے ساتھ 150 روپے ڈیلی الاؤنس اور 640 روپے کا سفری الاؤنس دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ سفر کے لیے اضافی ایک لاکھ 20 ہزار روپے سالانہ بھی دیا جاتا ہے۔

سندھ اسمبلی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سندھ کے ایکٹ کی 2017 کی ترمیم کے بعد وزیر اعلی کی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ 50 ہزار جبکہ دیگر صوبائی وزرا کی 75 ہزار روپے ہیں۔ تمام وزرا کو ایک سرکاری گھر اور گاڑی دی جاتی ہے۔

اگر وزرا اپنی مدت وزارت کے دوران اپنی رہائش گاہ میں رہیں تو حکومت انھیں 55 ہزار روپے ماہانہ دے گی۔

بلوچستان کے ایکٹ کی طرح سندھ کے ایکٹ میں بھی وزیر اعلیٰ کے لیے مرسڈیز بینز والی شق موجود ہے۔

سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ 50 ہزار اور ایک لاکھ 40 ہزار روپے ماہانہ ہیں۔

دونوں کو سرکاری گھر مہیا کیے جائیں گے اور اور ان کے بجلی اور گیس کے بل بھی حکومت ادا کرے گی۔ اگر وہ اپنے ذاتی گھر میں رہیں تو سپیکر کو 70 ہزار روپے جبکہ ڈپٹی سپیکر کو 60 ہزار روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں۔

سندھ اسمبلی کے اراکین کو ماہانہ 50 ہزار روپے کی تنخواہیں ملتی ہیں اور ان کے اس کے ساتھ انھیں ایک ہزار روپے کا ڈیلی اور سفری الاؤنس ملتا ہے۔ سفر کے لیے اضافی سالانہ دو لاکھ روپے کا خرچہ بھی حکومت دیتی ہے۔

پنجاب اسمبلی

پنجاب کے سیلریز، الاؤنسز اینڈ پریولجز ایکٹس میں 2016 میں ترمیم کی گئی جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی تنخواہ 39 ہزار جبکہ دیگر وزرا کی تنخواہیں 35 ہزار روپے ماہانہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

تمام وزرا بشمول وزیر اعلیٰ کو ایک سرکاری گاڑی دی جاتی ہے اور وزیر اعلیٰ چاہیں تو کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کے بغیر اپنے ذاتی استعمال کے لیے ایک 3200 سی سی کی گاڑی بیرون ملک سے درآمد کر سکتے ہیں۔

وزرا کو ایک سرکاری گھر دیا جاتا ہے اور اس کے بجلی اور گیس کے بل بھی حکومت ادا کرتی ہے۔ اگر وہ اپنی رہائش گاہ میں رہتے ہیں تو ان کو 25 ہزار روپے دیے جائیں گے اور ان کے بجلی اور گیس کے بل بھی حکومت کی طرف سے ادا کیے جاتے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے سپیکر کی تنخواہ 37 ہزار روپے جبکہ ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ 35 ہزار روپے ماہانہ ہے۔ ان دونوں عہدیداران کو دو سرکاری گاڑیاں دی جاتیں ہیں۔

انھیں حکومت کی طرف سے گھر دیا جاتا ہے جس کے گیس اور بجلی کا بل حکومت ادا کرتی ہے۔ اگر وہ اپنی ذاتی رہائش گاہ میں رہیں تو انھیں 25 ہزار روپے دیے جاتے ہیں اور گیس، بجلی کا بل حکومت الگ سے بھرتی ہے۔

پنجاب کی قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہ ماہانہ 18 ہزار روپے ہے جبکہ انھیں ایک ہزار روپے روزانہ کا الاؤنس اور چھ سو روپے کا سفری الاؤنس ملتا ہے اس کے علاوہ رکن کو سال کا ایک لاکھ 20 ہزار روپے اضافی ٹریول الاؤنس بھی ملتا ہے۔

اوپر بتائی گئی مراعات کے علاوہ عوامی عہدیداروں کو اس کے علاوہ بھی متعدد مراعات حاصل ہوتی ہیں جن میں مفت ٹیلی فون، اپنا اور اہلخانہ کا علاج، ٹرین اور ہوائی جہاز پر سفر، رہن سہن وغیرہ شامل ہیں۔

مگر ہو گیا، اب واپس کیسے ہو گا؟

وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان شہباز گل نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے پنجاب کے مقابلے میں باقی ارکانِ اسمبلی کی ماہانہ تنخواہوں کے موازنے کے حوالے سے اعداد و شمار دیئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اس وقت پر یہ (اضافہ) بھی نہیں ہونا چاہیے تھا، میرے وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ اعظم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔'

شہباز گل کے مطابق ان کی جماعت کی سینیئر قیادت ایک کمیٹی قائم کرے گی جو یہ دیکھے گی کہ 'یہ تنخواہیں بڑھا کر جو خیبر پختونخواہ کے برابر لائی گئی ہیں یہ ضروری تھا، کتنا ضروری تھا، کرنا چاہیے تھا یا نہیں۔'

آئین کے مطابق اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد بل حتمی منظوری کے لیے گورنر کو بھیجا جاتا ہے۔ قانونی ماہر سلمان اکرم راجہ کے مطابق گورنر پہلی مرتبہ بل پر اعتراضات لگا کر اسے واپس بھیجنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

'گورنر پنجاب کو اگر اس پر اعتراض ہو تو وہ اسے دستخط کیے بغیر واپس بھیج دیں گے۔ اس طرح تحریکِ انصاف کی حکومت اس میں ضروری ترامیم کر کے اسے دوبارہ اسمبلی سے منظور کروا سکتی ہے اور اس کے لیے سادہ اکثریت چاہیے، جو ان کے پاس موجود ہے۔'

تاہم دوسری مرتبہ گورنر کی منظوری محض رسمی ہوتی ہے۔ اگر گورنر دوسری مرتبہ وہی بل سامنے آنے پر اس پر دستخط نہ بھی کریں تو دس روز گزرنے پر وہ بل خود بخود قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ منی یا فنانس بل کی صورت میں گورنر پہلی مرتبہ بھی اسے واپس بھیجنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اس صورت میں ان کے دستخط سراسر رسمی ہیں، دس روز گزرنے پر بل منظور سمجھا جاتا ہے۔

تحریکِ انصاف کی حکومت بل کے ساتھ کیا کرنا چاہے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سردار لطیف کھوسہ ماہرِ قانون بھی ہیں اور سنہ 2011 کے آغاز سے سنہ 2012 کے اختتام تک پنجاب کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بطور گورنر وہ خود پہلی مرتبہ ایسے بل واپس بھیج چکے ہیں جن میں انھیں خامیاں نظر آتی تھیں۔

ان کا ماننا ہے کہ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اگر چاہیں تو وہ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔

'فنانس بل کے علاوہ کسی بھی بل پر پہلی مرتبہ گورنر کی رضا مندی ضروری ہوتی ہے۔ وہ اختلافِ رائے رکھتے ہوں تو بل واپس ہو جاتا ہے۔' لطیف کھوسہ کے خیال میں پنجاب پبلک ریپریزینٹیٹوز (ترامیمی) بل 2019 فنانس بل کے زمرے میں نہیں آتا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ گورنر اور اسمبلی کے درمیان ہر بل صوبائی کابینہ کے راستے ہو کر جاتا ہے۔ کابینہ کی صوابدید ہے کہ وہ بل اسمبلی کو واپس بھجوائے یا نہیں۔ اگر وہ سمجھتی ہو کہ اس میں مزید ترمیم کی ضرورت نہیں ہے تو کابینہ اسے اسمبلی میں نہیں بھجوائے گی۔

لطیف کھوسہ کے خیال میں پنجاب میں تحریکِ انصاف کی حکومت بھی 'اسے واپس اسمبلی نہیں بھجوائے گی۔ اسمبلی میں تب بھجوایا جاتا ہے جب بل منظور کروانا ہو۔' بل تب تک قانون کی شکل اختیار نہیں کر سکتا جب تک اسے گورنر کے پاس نہ بھیجا جائے اور پہلی مرتبہ وہ اس کی منظوری نہ دے۔

کیا وزیرِ اعظم، گورنر کو روک سکتا ہے؟

گورنر صوبہ میں وفاق کی علامت ہوتا ہے۔ سردار لطیف کھوسہ کی رائے میں آئینی طور پر وزیرِ اعظم گورنر کو بل روکنے کے احکامات نہیں دے سکتا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وفاق گورنر کو صلاح دے سکتا ہے 'اور وہ بھی میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اعلانیہ طور پر کیسے اور کیوں دی گئی؟'

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اپنی جماعت کا سربراہ ہونے کے ناطے 'عمران خان پنجاب حکومت کو بل واپس لینے کا کہہ سکتے ہیں۔'

تاہم پنجاب اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ انہیں 'سمجھ نہیں آئی کہ وزیرِ اعظم نے گورنر کو کس اختیار کے تحت روکا؟' 'یہ اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور ہوا تو کیا وہ (وزیرِ اعظم) اسمبلی کی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے؟ وہ سمجھتے ہیں کہ اسمبلی میں ایسے ہی لوگ بیٹھے ہیں جو بغیر سوچے سمجھے کچھ کام کر لیں گے؟'

ملک احمد خان نے یہ سوال بھی کیا کہ 'کیا اگر تنخواہیں خیبر پختونخواہ اسمبلی میں بڑھائی جائیں تو حلال ہیں اور اگر پنجاب میں بڑھائی جائیں تو حرام ہیں؟' ان کا کہنا تھا اس معاملے پر وہ حکومت کو اسمبلی میں 'بھاگنے نہیں دیں گے۔'

تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا پنجاب حکومت اس بل کو دوبارہ اسمبلی کے پاس بھیجتی ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں