آئی ایس آئی کے سابق افسر کی خودکشی، خط میں نیب کو موت کا ذمہ دار قرار دیا

خود کشی تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اسد منیر

پاکستان کے اہم ترین خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق افسر اور بعد میں کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے منسلک سابق بریگیڈئیر اسد منیر نے اسلام آباد میں خودکشی کر لی ہے۔

اسد منیر کا ایک خط سوشل میڈیا پر شئیر کیا جا رہا ہے جس میں انھوں نے قومی احتساب بیورو کی جانب سے ان کے خلاف کی جانے والی کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ 'میں اس لیے خودکشی کر رہا ہوں تاکہ میں ہتھکڑیاں لگانے اور میڈیا کے سامنے بےعزت ہونے سے بچ سکوں اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ نیب افسران کے رویے کا نوٹس لیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اسد منیر کے بھائی خالد منیر کی جانب سے خط کے اصل ہونے کی تصدیق کی گئی ہے

اسد منیر کے بھائی خالد منیر نے اس خط کے اصل ہونے کی تصدیق اپنی ٹویٹ میں کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ حاندان کے لیے افسوسناک دن ہے، خط مصدقہ ہے اور اسد منیر نے خود لکھا ہے۔ اور خط کے اوپر انھوں نے اپنی لکھائی میں اس خط کو کس طرح پیش کیا جائے اس پر ہدایات دی ہیں۔‘

اسد منیر کے اہلخانہ نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کیا تھا۔ پولیس ذرائع نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کیا۔

اسد منیر کی موت کی خبر سب سے پہلے ان کے بھائی خالد منیر نے صبح کو ٹویٹ کے ذریعے کی۔ بعد میں اسد منیر کی صاحبزادی اور سماجی کارکن مینا گبینہ نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے جنازے کا مقام اور وقت لکھا مگر موت کی وجہ کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اسد منیر کی صاحبزادی اور سماجی کارکن مینا گبینہ کی ٹویٹ

اسد منیر ماضی میں آئی ایس آئی کے علاوہ ملٹری انٹیلیجنس سے بھی منسلک تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ٹی وی پر بطور تجزیہ کار فرائض سر انجام دیتے تھے اور کالم نویس بھی تھے۔

اس کے علاوہ اسد منیر ٹوئٹر بہت باقاعدگی سے استعمال کرتے تھے اور اکثر اپنے تجزیے لکھتے تھے۔

اسد منیر کی موت پر پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر بلاول بھٹو زرداری نے تعزیتی کلمات ٹویٹ کیے لیکن حکومت یا نیب کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

'خودکشی کیوں کی؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اسد منیر کی جانب سے لکھا گیا خط جس میں انھوں نے نیب کو اپنی خودکشی کا ذمہ دار قرار دیا ہے

واضح رہے کہ ایک روز قبل نیب نے اعلامیہ جاری کیا تھا جس کے مطابق اسد منیر سمیت دیگر افراد کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس ریفرنس میں اسد منیر پر اور دیگر پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلام آباد میں ایک پلاٹ بحال کر دیا تھا۔

اسد منیر کے نام سے جاری کیے گئے خط میں اس کیس کی تفصیلات بتائی گئیں اور اپنی صفائی میں انھوں نے لکھا کہ 'میں نے صرف پلاٹ کو بحال کرنے کی تجویز دی تھی۔ میرے خلاف چھ سال سے کوئی کیس نہیں تھا مگر اپریل 2017 سے میرے خلاف کاروائی ہو رہی ہے اور میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا۔'

اسد منیر کی جانب سے لکھے گئے اس خط کے آخر میں تحریر کیا گیا ہے کہ 'میں اپنی جان اس لیے دے رہا ہوں تاکہ چیف جسٹس نظام میں مثبت تبدیلی لائیں اور احتساب کے نام پر نااہل لوگ عام عوام کی زندگیوں سے نہ کھیلیں۔'