کرائسٹ چرچ حملے میں کراچی کے ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک

غلام حسین تصویر کے کاپی رائٹ Maryam Gul
Image caption غلام حسین اور کرم بی بی اپنے نواسوں کے ساتھ

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر دہشت گردی کے واقعے میں پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کے ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں ماں کرم بی بی، باپ غلام حسین اور بیٹا انجینیئر ذیشان رضا شامل ہیں۔ اس خاندان کی بچ جانے والی الیکٹرکل انجینیئر مریم گل نے میتوں کو بے حرمتی سے بچانے اور تدفین میں مزید تاخیر نہ کرنے کے غرض سے تینوں کی نیوزی لینڈ ہی میں تدفین کی اجازت دے دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے علماء سے پوچھا تو سب نے کہا ہے کہ تدفین میں تاخیر مناسب نہیں ہے، جبکہ کرائسٹ چرچ میں موجود پاکستانی کمیونٹی نے بھی تسلی دی کہ وہاں کے مسلمان اچھی طرح سے ان کی تدفین کرائیں گے اور اس لیے انھوں نے اجازت دی۔

انھوں نے کہا: 'خواہش کے باوجود میں آخری رسومات میں شرکت سے محروم رہوں گی، لیکن وہاں جلد ہی جانے کی کوشش کروں گی۔'

یہ بھی پڑھیے

نعیم رشید نے حملہ آور کو روک کئی جانیں بچائیں

’یقین ہی نہیں آرہا کہ اریب اس دنیا میں نہیں رہا‘

’کریڈٹ کارڈ مشین سے حملہ آور کا مقابلہ کیا‘

مریم بیگ نے بی بی سی کو بتایا: 'میں نے کئی مرتبہ بھائی ذیشان رضا سے کہا تھا کہ میں پاکستان میں اکیلی ہوں آپ وہاں پر کیا کرتے ہو واپس آجاؤ نیوزی لینڈ جانے سے پہلے بھی اچھی ملازمت کرتے تھے اب بھی مل جائے گئی۔ مگر نیوزی لینڈ تو ذیشان کے خوابوں کی سرزمین تھی۔‘

’وہاں جانے سے پہلے کہا کرتے تھے کہ دنیا میں رہنے کے قابل کوئی جگہ ہے تو وہ صرف نیوزی لینڈ ہی ہے جہاں پر پرامن ماحول ہے، قانون کی حکمرانی ہے، لوگ قانون کی پاسداری کرتے ہیں، ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، انسانیت کا پاس ہے۔‘

’وہ نیوزی لینڈ گئے تو ہمیں بھی کہتے تھے کہ نیوزی لینڈ ہی منتقل ہوجاؤ رہائش کے قابل تو نیوزی لینڈ ہی ہے۔‘

’بھائی نیوزی لینڈ کی شہریت حاصل کرنا چاہتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Maryam Gul
Image caption ذیشان رضا اور ان کے والد غلام حسین

مریم گل کے مطابق ذیشان پاکستان سے نیوزی لینڈ کی مستقل شہریت کا ویزہ لے کر نیوزی لینڈ گئے تھے۔ وہاں پر مستقل رہائش رکھنے والوں کو چار سال بعد شہریت دی جاتی ہے۔

'ذیشان کو اب شہریت ملنے والی تھی کہ یہ سانحہ پیش آگیا اور میں اپنے بھائی، محبت کرنے والی ماں اور شفیق والد سے محروم ہوگئی ہوں۔‘

'میرے والدین اسی سال جنوری میں ویزٹ ویزے پر نیوزی لینڈ گئے تھے۔ اپریل میں انھوں نے واپس آنا تھا۔ وہ مجھے تنہا چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے تھے۔ مگر ذیشان کے اصرار پر وہ بے بس ہوگئے تھے، بھائی، والد اور والدہ سے کہتا تھا کہ وہ بھی ان کی خدمت کرنا چاہتا ہے، تھوڑے دنوں کے لیے اس کے پاس رہ جائیں گے تو اس سے ان کی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گیں۔ جس پر وہ مجبور ہوگئے تھے۔ ان کو کیا پتہ کہ ملک الموت ان کے تعاقب میں ہے اور میں اس کے بعد کبھی بھی اپنے پیاروں کو نہیں دیکھ پاؤں گی۔'

مریم گل کا کہنا تھا کہ وہ دو ہی بہن بھائی تھے، اس لیے دونوں ہی بہت لاڈلے تھے۔

’میرے ابو بہت ہی شریف النفس انسان تھے اتنے زیادہ کہ خود کو نقصان پہنچا دیتے تھے۔ ابو بہت زیادہ تعاون کرنے والے تھے۔ ہر بات فوراً مان جایا کرتے تھے۔‘

’ہمارا بچپن عام سا تھا۔ ابو ملازمت کرتے تھے جبکہ امی گھر کی دیکھ بھال اور ہماری نگرانی کرتی تھیں۔ دونوں ماں باپ ہماری تعلیم پر بہت توجہ دیتے تھے۔ انٹرمیڈیٹ تک میں اپنے ابو سے پڑھتی رہی ہوں جبکہ بھائی بھی مدد کیا کرتے تھے۔‘

’امی زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں۔ اسی لیے ان کو اس بات کا بہت شوق تھا کہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کروں اس وجہ سے وہ مجھ سے گھر کا زیادہ کام نہیں کرواتی تھیں، ٹیلی وژن اور دوسری سرگرمیوں سے بھی بہت دور رکھا تھا۔ اکثر کہتی تھیں کہ جو گھر کا کام کرنا ہے وہ میں کر دوں گی تم پڑھائی پر توجہ دو۔ میری امّی سرسوں کا ساگ بہت اچھا پکاتی تھیں اکثر میں فرمائش کرکے ان سے ساگ پکواتی تھی۔‘

این ای ڈی یونیورسٹی کراچی میں معاون پروفیسر ڈاکٹر علی بیگ کا کہنا تھا کہ ان کے ساس اور سسر ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔ دونوں اپنے نواسوں پر جان چھڑکتے تھے۔ اپنے نواسوں کے لیے تحائف لاتے رہتے تھے اور اکثر و بیشتر ملاقات کا اظہار کرتے تھے۔ گھر کا کوئی بھی فنکشن ہو، بچوں کی سالگرہ ہو یا کچھ اور سب انتظامات وہ دونوں ہی کرتے تھے۔

'درحقیقت وہ ہمارے گھر کی جان اور رونق تھے۔ ان سے بچھڑ کر ایسے لگتا ہے جیسے دنیا اجڑ گئی ہو۔'

'بچے بار بار پوچھ رہے ہیں کہ مما اتنا کیوں رو رہی ہیں اور نانا نانی کدھر ہیں۔ مگر میرے پاس ان کو بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Maryam Gul
Image caption ذیشان رضا

غلام حسین اور کرم بی بی کون تھے؟

غلام حسین بلوچ تھے مگر ان کی پیدائش اور ابتدائی تعلیم کراچی ہی میں ہوئی تھی۔ انھوں نے کئی سال تک پاکستان ایئر لائنز میں ملازمت کے بعد ریٹائرمنٹ حاصل کی تھی۔ انھیں انگریزی زبان پر خاصی مہارت حاصل تھی۔ اپنے فرائض انتہائی ایمانداری سے ادا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کو اپنے ادارے میں بھی خصوصی شہرت حاصل تھی۔

کرم بی بی کی پیدائش کراچی میں ہوئی تھی لیکن ان کے والدین کا تعلق پنجاب سے تھا۔ وہ مکمل طور پر گھریلو خاتون تھیں۔

ذیشان رضا کون تھے؟

ذیشان رضا غلام حسین اور کرم بی بی کی واحد اولاد نرینہ تھی۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم کراچی میں اپنے علاقے ملیر سے حاصل کی تھی جبکہ میکنیکل انجینیئرنگ میں پہلے بیچلر اور پھر ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کرائسٹ چرچ میں کئی دعائیہ تقریبات منعقد کی گئیں

انھوں نے عملی زندگی کا آغاز ڈی وائی ایل موٹر سائیکل کمپنی سے کیا تھا۔ سنہ 2004 میں پاک سوزوکی موٹر کمپنی میں پروڈکشن پلاننگ کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی اور جب سنہ 2013 میں ملازمت کو خیر آباد کہا تو اس وقت ترقی کرتے کرتے پروڈکشن مینجر کے عہدے تک پہنچ گئے تھے۔

سنہ 2013 میں پاک سوزوکی موٹر کمپنی کو خیر آباد کہہ کر نیوزی لینڈ کے مستقل ویزہ کے لیے درخواست دی تھی اور سنہ 2014 کے اوائل میں نیوزی لینڈ منتقل ہوگئے تھے جہاں پر آکلینڈ میں گڈ وڈ انڈسٹری سے منسلک ہوگئے تھے۔

وہ حادثے سے چند دن قبل آکلینڈ سے کرائسٹ چرچ منتقل ہوئے تھے اور دہشت گردی کا نشانہ بننے والی مسجد النور کے قریب ہی اپنے والدین کے ہمراہ رہائش اختیار کی تھی۔

اسی بارے میں