کرائسٹ چرچ کی مساجد میں حملہ کرنے والا برینٹن ٹیرنٹ پاکستان میں کیا کرتا رہا؟

گلگت
Image caption برینٹن ٹیرنٹ کے پاکستان میں قیام کے دنوں کے بارے میں متضاد اطلاعات فراہم کی جارہی ہیں

نیوزی لینڈ کی مساجد میں حملے کے بعد حراست میں لیے جانے والے آسڑیلین شہری برینٹن ٹیرنٹ کے بارے میں بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ وہ گذشتہ سال اکتوبر کے آخری اور نومبر کے ابتدائی دنوں میں گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں سیر و تفریح کے لیے آیا تھا اور اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر پندرہ سولہ دن گلگت بلتستان میں موجود رہا۔

بی بی سی کی معلومات کے مطابق اس نے زیادہ وقت ہنزہ، نگر، کریم آباد اور خنجراب کے علاقوں میں گزارا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ان علاقوں کے ہوٹلوں میں برنٹن ٹیرنٹ کا جو بھی ریکارڈ موجود تھا وہ احکام نے 17 مارچ کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

اسی بارے میں

نیوزی لینڈ: حملہ آور کون ہے؟

’حملہ آور شہرت چاہتا تھا، لیکن وہ بے نام رہے گا‘

نیوزی لینڈ: سوگ کے ماحول میں یکجہتی کا مظاہرہ

ان دو ہفتوں کے دوران وہ دوردراز علاقوں کی سیر و تفریح کرتا رہا تھا۔ زیادہ تر پیدل چلتا تھا، روزانہ اٹھ کر سخت ورزش کرتا تھا اور پہاڑوں کے دامن اور بعض اوقات پہاڑوں پر بھی چڑھ جایا کرتا تھا۔

معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ برنٹن ٹیرنٹ ایک بیک پیکر تھا۔ ایک ایسا سیاح جو زیادہ پیسے خرچ نہیں کرتا، سستے ہوٹلوں میں ٹھہرتا ہے، اپنا بیگ خود اٹھاتا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتا ہے اور کسی گائیڈ کی خدمات حاصل نہیں کرتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Osho Thang Hotel
Image caption پاکستان کے شمالی علاقے سیاحت کے لیے معروف ہیں

گلگت میں اس نے دو مختلف منی چینجر سے 2300 امریکن ڈالر پاکستانی روپیہ میں تبدیل کروائے تھے۔ جس کا ریکارڈ بھی احکام نے ضبط کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک منی چینجر سے کم پیسے دینے پر اس کا بحث مباحثہ بھی ہوا تھا۔

گلگت ہی میں نوادارت کی دکانیں اس کی دلچسپی کا مرکز تھیں جبکہ وہ خشک میوں کی دکانوں پر بھی مول تول کرتا رہا تھا۔

جس موسم میں وہ کریم آباد، ہنزہ پہنچا اس وقت وہاں سیاحت کا سیزن تقریباً ختم ہی ہونے والا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی غیر ملکی آئے تو سب چاہتے ہیں کہ وہ ان کا مہمان بنے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

مقامی لوگوں نے بتایا کہ ’وہ ہمارے لیے ایک عام سا غیر ملکی سیاح تھا جو اپنا بیگ خود اٹھا کر آیا تھا۔ اچھے دوستانہ انداز میں گپ شپ لگاتا تھا۔ علاقے اور پہاڑوں کے حوالے سے معلومات لیتا تھا۔ مقامی تہذیب و تمدن کی بات کرتا تھا۔ دیکھنے ہی میں انتہائی سخت جان لگتا تھا۔ ہر ایک سے بہت جلد تعلق پیدا کرنے کا فن جانتا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ یہی پوچھتا تھا کہ 'سب سے سستا ہوٹل کون سا ہے۔ میں صرف سستے ہوٹل میں ٹھہروں گا، چاہے سہولتیں کم ہی کیوں نہ ہوں'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency
Image caption کرائسٹ چرچ کی مسجدوں پر حملے میں 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 28 سالہ آسٹریلین شہری برینٹن ٹیرنٹ پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہیں۔

اس کے بارے میں ایک ہوٹل کے سوشل میڈیا صفحے پر ایک پیغام بھی تحریر کیا گیا تھا جو اب ہٹا دیا گیا ہے لیکن اس پیغام کی تصویر اب بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔

اس پیغام میں یہ تحریر کیا گیا تھا:

’میرا نام برینٹن ٹیرنٹ ہے اور میں پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کر رہا ہوں۔ پاکستان ایک نا قابل یقین شاندار جگہ ہے۔ یہاں کہ لوگ انتہائی مہربان اور مہمان نواز ہیں۔ وادی ہنزہ اور نگر ویلی کی خوبصورتی اور خزاں کو کوئی بھی مات نہیں دے سکتا۔ بدقسمتی سے بہت سے لوگ پاکستان کا ویزہ لینے میں مشکلات کی وجہ سے دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ امید ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستانی حکومت اور جناب عمران خان ویزہ پروگرام کے حوالے سے ضروری تبدیلیاں کریں گے جس سے دنیا اس علاقے کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے آئے گی۔‘

گلگت بلتستان کے ذرائع کے مطابق برنٹن ٹیرنٹ 19، 20 اکتوبر کو گلگت پہنچا تھا۔ جہاں پر اس نے قوانین کے مطابق پولیس کی سپیشل برانچ کے پاس اپنی انٹری کروائی تھی۔ گلگت میں ایک دن اور رات قیام کے بعد وہ نگر، ہنزہ، خنجراب کی طرف نکل گے تھے۔

برینٹن ٹیرنٹ کے پاکستان میں قیام کے دنوں کے بارے میں متضاد اطلاعات فراہم کی جارہی ہیں۔

اس حوالے سے سرکاری موقف لینے کے لیے بی بی سی نے وزرات خارجہ اور داخلہ کے ترجمانوں سے رابطہ کیا مگر انھوں نے کوئی بھی جواب نہیں دیا۔

اسی بارے میں