شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی میں بہت دیر ہوئی ہے: محسن داوڑ

محسن داوڑ

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے میں بہت دیر کی ہے اور اس کارروائی شروع کرنے کے لیے دو جوہری طاقتوں کو جنگ کے دہانے تک نہیں پہنچنا چاہیے تھا۔

انھوں نے الزام لگایا کہ پاکستان کی ریاست شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی سے کتراتی ہے اور ان کے ساتھ تعلقات رکھتی ہے۔

بی بی سی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں محسن داوڑ نے کہا کہ کہا کہ شدت پسند تنظیموں کے ساتھ تعلقات کا اعتراف متعدد اعلیٰ اہلکار خود کر چکے ہیں۔

پی ٹی ایم کے رہنما نے کہا کہ آرمی پبلک سکول پشاور کے واقعے کے بعد، بیس نکاتی ایجنڈے پر سب کا اتفاق ہوا۔ ’اعلان ہوا کہ تمام کالعدم گروہوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ لیکن اتنے عرصے سے نہیں کی گئی اور جب انڈیا کے جہاز آئے اور حملہ کیا، تو اس کے بعد اعلان کرتے ہیں اب کارروائی کی جارہی ہے۔ اگر وسائل کی کمی ہے یا اگر شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے اہل نہیں ہیں تو اس کا اعتراف کریں۔‘

انڈین حملے سے پاکستان نے کیا سبق حاصل کیا ہے؟

’مدارس کے خلاف کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی‘

جہادی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا صرف دکھاوا ہے؟

شدت پسند تنظیمیں’قومی دھارے‘ میں: ماہرین کی رائے

محسن داوڑ کے مطابق پاکستان نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں اور اس کا جواب ریاست کو خود دینا چاہیے کہ اس کو کیا فائدہ ہورہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مشرف زیدی کہتے ہیں کہ پاکستانی ریاست کی اہلیت پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

’کب تک جنگی اقتصادیات پر ریاست کا انحصار ہوگا؟ دہشت گردی اور مسلح شدت پسند تنظیموں نے کیا فائدہ دیا ہے؟‘

ان کے مطابق ماضی میں بھی انھوں نے شدت پسندوں سے اپنے رابطوں کا اقرار نہیں کیا تھا اور بیس برس بعد مان لیا۔ اب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آج وہ جو کر رہے ہیں، دس برس بعد اس کا اعتراف لیں۔

محسن داوڑ گذشتہ ہفتے لندن آئے ہوئے تھے جہاں انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ قبائلی اضلاع میں لوگوں کو جو مبینہ ذلت اٹھانی پڑتی تھی اس میں کمی آئی ہے۔ تاہم انھوں نے کہا جہاں تک راؤ انوار کی بات ہے، اس کیس میں استغاثہ انتہائی کمزور ہے۔ اس قدر کمزور ہے کہ اسے سپریم کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے۔

محسن داوڑ سے جب یہ پوچھا گیا کہ فوج کے ترجمان اور بعض دیگر ادارے کہتے ہیں کہ آپ غیر ملکی طاقتوں کے لیے استعمال ہورہے ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ الزام پاکستانی فوج کا پرانا ہے۔ ’جس نے بھی اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی کوشش بھی کی اس پر یہ الزام لگایا گیا ہے۔ انھوں نے باچا خان کو بھی غدار کہا تھا، ولی خان کو بھی غدار کہا تھا، صمد خان اچکزئی کو بھی غدار کہا تھا، تو وہ کہتے ہی رہتے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں۔‘

محسن داوڑ نے کہا کہ اگر اس سلسلے میں ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تجزیہ کاروں اور ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایسی جماعتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا مطلب بنیادی طور پر سیاسی مواقع فراہم کرنا ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ فوج اس دہشتگردی کے پیچھے ہے، تو انھوں نے کہا یہاں پر حمید گل کے سٹیٹمنٹ موجود ہیں، کرنل امام کے بیانات رکارڈ پر ہیں، سرتاج عزیز کے بیانات رکارڈ پر ہیں۔

’اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جو افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات ہورہے ہیں ان کی ثالثی پاکستان کر رہا ہے، تو اس سے واضع ہوتا ہے کہ ریاست کے ان کے ساتھ تعلقات ہیں۔`

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں