جعلی اکاؤنٹس کیس: بلاول بھٹو، آصف زرداری کی نیب میں پیشی

بلاول بھٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کے روز قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے پیش ہونے کے بعد کہا ہے کہ یہ ان کی حکومت کی کمزوری تھی کہ نیب کے قانون کو ختم نہیں کیا گیا۔

نیب کے دفتر کے باہر جمع پارٹی ورکروں سےخطاب کرتےہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا ’یہ ہماری کمزوری تھی کہ ہم نے نیب کے اس کالے قانون کو تب ختم نہیں کیا جس کی وجہ سے آج میں یہاں کھڑا ہوں۔‘

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ جب بھی ملک میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کی بات کرتے ہیں تو جے آئی ٹی اور نیب کی طرف سے بلاوا آ جاتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم ان نوٹسز سے نہیں ڈرتے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے اور ان تمام اراکینِ پارلیمان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں جو کالعدم تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں۔‘

آج صبح نیب اسلام آباد میں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ اور پارک لین سے متعلق بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری کو طلب کر کے ان کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے۔

نیب کے ایک افسر کے مطابق نیب کے 10 ممبران پر مشتمل ٹیموں نے ایک گھنٹے تک آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے تفتیشی بیان لیے۔ افسر نے بتایا کہ زیادہ تر سوالات منی لانڈرنگ کیس کے بارے میں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پارک لین کیس کیا ہے؟

نیب کا دعویٰ ہے کہ ادارے نے آصف زرداری اور بلاول کے خلاف انکوائری الزامات کی بنیاد پر شروع کی جن میں کہا گیا کہ پنجاب فورسٹ لینڈ کی زمین کو سی ڈی اے نے غیر قانونی طور پر پارک لین اسٹیٹ کو ٹرانسفر کیا۔ پارک لین اسٹیٹ پرائیوٹ لمیٹڈ کراچی کی ایک ریئل سٹیٹ کمپنی ہے جو آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے نام پر ہے۔

اس کمپنی کے بارے میں آصف زرداری کے وکیل کہتے ہیں کہ یہ کمپنی انھوں نے 31جولائی 1989 میں خریدی تھی۔ آصف زرداری کی طرف سے موجود وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ بلاول کا اس کیس سے براہِ راست کوئی تعلق اس لیے نہیں بنتا کیونکہ جب یہ کمپنی وجود میں آئی تو اس وقت بلاول کی عمر ایک سال تھی۔

آصف زرداری کے وکیل نے بتایا کہ وہ کمپنی کے عہدے سے 2008 میں دستبردار ہوگئے تھے اور بلاول کا اس کمپنی کے روزمرہ معاملات سے نہ کوئی تعلق تھا اور نہ ہی اب ہے۔

اس سے پہلے اس کیس کی سماعت نیب راولپنڈی میں 13 دسمبر کو ہوئی تھی جس میں آصف علی زرداری پیش ہوئے تھے جبکہ بلاول بھٹو کی طرف سے ان کا وکیل پیش ہوا تھا۔

نیب سیاسی انجنیئرنگ کا ادارہ

نیب کی کارروائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے پی پی پی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ’نیب سیاسی انجینئرنگ کرنے والا ایک سیاسی ادارہ بن گیا ہے جس کا احتساب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آج ہمارے کارکنوں کو مارا پیٹا گیا، جو یہاں پر صرف پرامن احتجاج کرنے آئے تھے۔ ہمارے سو سے زائد کارکنوں کو رہا کیا جائے۔‘

آج اسی حوالے سے سابق صدر آصف علی زرداری 4 بجے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

زرداری اور فریال تالپور کے خلاف مقدمہ راولپنڈی منتقل

بلاول کو تحریکِ انصاف سے کیا گِلے ہیں؟

جعلی اکاونٹس کیس: زرداری کی درخواستیں مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سکیورٹی کے خدشات کے پیشِ نظر انتظامیہ نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے اور نیب ہیڈ کوارٹرز تک جانے والے تمام راستوں کو خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا تھا جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی اس موقع پر موجود تھی۔

تاہم جیسے ہی سینئیر قیادت کا قافلہ پیشی کے لیے نیب ہیڈ کوارٹرز پہنچا تو جیالوں نے شدید نعرے بازی کی اور قافلے کے ساتھ پولیس کا حفاظتی حصار توڑ کر ہیڈ کوارٹرز بلڈنگ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

اس موقع پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا جبکہ مشتعل جیالوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ جبکہ پولیس کی جانب سے مشتعل کارکنان کی گرفتاری بھی عمل میں آئی۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس

رواں ماہ کراچی کی بینکنگ کورٹ نے آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور حسین لوائی کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا مقدمہ راولپنڈی کی عدالت میں منتقل کردیا ہے۔

نیب کے چیئرمین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی تحقیقات ایف آئی اے سے قومی احتساب بیورو اسلام آباد کو منتقل کردی ہیں، جس کے بعد چیئرمین نے قانونی اختیار استعمال کرکے متعلقہ مقدمہ اسلام آباد میں چلانے کا فیصلہ کیا ہے لہٰذا تمام ریکارڈ راولپنڈی کی عدالت منتقل کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس کیس میں آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور بھی شاملِ تفشیش ہیں

آصف علی زرداری، فریال تالپور، انور مجید اور دیگر ملزمان کے وکلا نے مقدمے کی منتقلی کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ نے مقدمہ نیب کے حوالے کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ مقدمے کی نئے سرے سے تحقیقات کا حکم دیا ہے، نیب فیصلے کی غلط تشریح کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے آصف زرداری اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے جن سے مشکوک منتقلیاں کی گئیں۔

ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ان مشکوک منتقلیوں سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ عبداللہ لوطہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور، اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید، ان کے بیٹے اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے داماد ملک زین شامل ہیں۔

اسی بارے میں