پشتون تحفظ موومنٹ: ایک سال بعد

عزیز ہم وطنو!

ریاست غصہ نہیں کرتی، اگر کرتی ہے تو پھر ڈانٹ ڈپٹ کر پیار سے سمجھاتی بھی ہے۔ درگزر کرنا ہی بہادری ہے۔ کیا کریں یہ ملک بھی اپنا ہے، فوج بھی اور عوام بھی۔ انھیں گلے لگانے میں کیا قباحت ہے: عاصمہ شیرازی کا کالم۔

’اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟

گذشتہ ایک برس کے دوران پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں پاکستانی فوج کے موقف میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ فوج کی جانب سے تنظیم کو بات کرنے کی پیشکش تو کی جاتی ہے لیکن یہ بات چیت تاحال اس پیشکش سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔

یہ پی ٹی ایم کیا ہے؟

اب بھی وقت ہے کہ ریاست پی ٹی ایم کے ساتھ، جس کے کچھ مقاصد واضح اور کچھ غیر واضح ہیں، ماں کی طرح بات کرے اور یہ سیکھے کہ مائنس کی سیاست صرف خلا پیدا کرتی ہے اور خلا فاصلے: عاصمہ شیرازی کا کالم۔

پٹھان تو ہو گا۔۔۔

ہماری ریاست ازل سے قومی یکجہتی کا ڈنڈا لہراتی پھرتی ہے لیکن جیسے ہی اسے کوئی مختلف لہجہ سنائی دیتا ہے چاہے وہ قبائلی پشتون کا ہو یا مکران کے بلوچ کا ریاست کو تشنج کے دورے پڑنے لگتے ہیں: محمد حنیف کا کالم۔

منظور پشتین کے ساتھ تصویر بنوانا غیر قانونی؟

پاکستان میں ٹوئٹر پر کافی عرصے سے کئی ایسے لوگوں کو پیغامات مل رہے تھے جو اہم مسائل پر بات کرتے ہیں یا کسی موضوع پر بظاہر ریاست سے مختلف خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔

’منظور پشتین اُس وقت کہاں تھا جب۔۔۔‘

سوشلستان میں ہم بات کریں گے کہ منظور پشتین آخر آج تک کہاں رہا ہے اور کیوں بہت سارے مواقع پر احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی بولا۔

سینسرشپ: ’حساس موضوعات کو ہاتھ نہ لگائیں‘

جب اس ماہ پشاور میں فاٹا کے عوام کے بنیادی حقوق کی آواز اٹھانے والی تنظیم پی ٹی ایم نے اپنا جلسہ کیا تو الیکٹرانک میڈیا پر اس کی زیادہ کوریج دیکھنے میں نہیں آئی۔

پاکستانی جامعات میں بھی آواز دبانے کی کوششیں؟

پاکستان کی اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں میں اظہار رائے پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کے خلاف چند اساتذہ نے ایک احتجاجی خط لکھا ہے جس کی حمایت دنیا بھر کے کئی دانشوروں اور پروفیسروں نے بھی کی ہے۔

پشتون تحفظ تحریک کی مخالفت میں اضافہ

پشتون تحفظ تحریک کے پہلے بڑے جلسے کے اعلان کے ساتھ ساتھ فاٹا اور خیبر پختونخوا میں اس نومولود تحریک کے خلاف مہم میں بھی تیزی آ رہی ہے۔