’بہاولپور ون یونٹ سے قبل تین برس تک پاکستان کا صوبہ تھا‘

بی بی سی
Image caption بہاولپور کا تاریخی نور محل جو کہ اب انتظامیہ کے زیر استعمال ہے

ایک خود مختار ریاست کے طور پر بہاولپور کی تاریخ دو سو برس سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل ریاستِ بہاولپور کے امورِ خارجہ، دفاع اور کرنسی برصغیر کے حاکم راج برطانیہ کے سپرد تھے جبکہ دیگر معاملات ریاست کے بانی عباسی خاندان کے نواب چلاتے تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر بہاولپور کے تاریخی صادق ایجرٹن کالج کے شعبہ تاریخ کے سابق صدر ہیں۔ وہ ان دنوں بہاولپور یونیورسٹی میں تاریخ کے وزٹنگ پروفیسر بھی ہیں اور وہ ریاستِ بہاولپور کی تاریخ پر خصوصاً گہری نظر رکھتے ہیں۔

بہاولپور کے تاریخی ڈرنگ سٹیڈیم کے کرکٹ گراؤنڈ کے سبزہ زار پر بی بی سی سے ہونے والی ایک حالیہ گفتگو میں ڈاکٹر طاہر نے بتایا کہ 'پاکستان میں شامل ہونے کے بعد کچھ عرصہ یعنی سنہ 1955 تک بہاولپور کی حیثیت ایک صوبے کی رہی ہے۔'

سنہ 1955 میں بہاولپور صوبے کے طور پر ون یونٹ میں شامل ہوا، مگر سنہ 1970 میں ون یونٹ کے خاتمے پر اسے بہاولپور صوبے کے درجے پر بحال نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے!

تو پھر چلیں بہاولپور

بہاولپور کے نوابوں کی گاڑیاں

نور محل بہاولپور کی شناخت بن گیا

بہاولپور صوبہ کب بنا؟

سنہ 1947 میں بٹوارے کے بعد ریاستِ بہاولپور نے پاکستان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر طاہر کے مطابق بہاولپور کے اندر بھی زیادہ لوگ نہیں جانتے مگر سنہ 1955 میں ون یونٹ میں شامل ہونے سے قبل تین برس تک بہاولپور کی حیثیت ایک صوبے کی تھی۔

ان کے مطابق بہاولپور کے حکمران نواب صادق محمد خان خامس نے پاکستان کی حکومت کے ساتھ متعدد معاہدے کیے۔

'ان معاہدوں کے نتیجے میں رفتہ رفتہ ریاست بہاولپور سے اختیارات لے لیے گئے تھے اور ایک ریاست سے ایک صوبے کا مرحلہ طے ہوا تھا۔'

سنہ 1951 کے انسٹرومنٹ آف ایکسیشن جو کہ ایک ضمنی معاہدہ ہے، اس کے تحت ریاست بہاولپور کے تمام مرکزی امور حکومتِ پاکستان نے لے لیے تھے۔ 'صوبائی امور جو باقی صوبوں کو حاصل تھے ان کا اختیار بہاولپور کو دے دیا گیا تھا۔'

Image caption سنہ 1969 میں جب ون یونٹ ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تو بہاولپور کے لوگوں کو امید تھی کہ وہ علیحدہ یونٹ کے طور پر بحال ہو جائے گا، مگر جب ایسا نہ ہوا تو یہاں کے لوگوں نے ایک زبردست تحریک چلائی

اس طرح بہاولپور ایک علیحدہ یونٹ بنا جہاں باقاعدہ انتخابات ہوئے تھے۔ پاکستان کے باقی حصوں کی طرح بہاولپور میں بھی یہ انتخابات 'ون مین ون ووٹ' کی بنیاد پر ہوئے تھے اور یہاں کے لوگوں نے بھی اس وقت کی بڑی جماعت مسلم لیگ ہی کو ووٹ دیا تھا۔

پروفیسر طاہر کے مطابق مسلم لیگ کی طرف سے سید حسن محمود جن کا تعلق صادق آباد سے ہے، وہ بہاولپور کے وزیرِ اعلٰی بنے تھے۔ 'اس طرح سنہ 1952 سے لے کر سنہ 1955 تک بہاولپور کی حیثیت ایک صوبے کی تھی۔'

'صوبہ بہاولپور کا بجٹ صوبہ سرحد کے برابر تھا'

پروفیسر طاہر کے مطابق بہاولپور کی علیحدہ منتخب اسمبلی تھی اور وزیرِ اعلٰی بہاولپور کو وہی اختیارات حاصل تھے جو دوسرے صوبائی وزرائے اعلٰی کو حاصل ہوتے تھے۔

'بہاولپور کا وزیرِ اعلٰی منتخب ہو کر آیا تھا، جو اسمبلی کے اجلاس میں بیٹھتا تھا، وہاں قانون سازی ہوتی تھی اور اسمبلی کا اپنا الگ سیکرٹیریٹ تھا۔ حتیٰ کہ یہاں کا اپنا پبلک سروس کمیشن تھا۔'

باقی صوبوں کی طرح بہاولپور صوبے کا بھی بجٹ پیش ہوتا تھا۔ اگرچہ بہاولپور کا رقبہ زیادہ بڑا نہیں تھا، پروفیسر طاہر کے مطابق سنہ 1951 اور 1952 میں 'بہاولپور کا بجٹ اس وقت کے صوبہ سرحد کے برابر تھا۔'

'بہاولپور صوبے کی تحریک کو دبایا گیا، گولی چلی'

سنہ 1955 میں وزیرِ اعظم چوہدری محمد علی بوگرہ کی حکومت نے مغربی پاکستان کے تمام صوبوں کو ملا کر ایک یونٹ یعنی ون یونٹ اور مشرقی پاکستان کو علیحدہ یونٹ بنا دیا گیا تھا۔

بہاولپور بھی باقی چاروں صوبوں کی طرح ون یونٹ میں شامل ہوا۔ سنہ 1970 میں لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے ون یونٹ تحلیل کر دیا گیا۔

Image caption بہاولپور کا تاریخی فرید گیٹ

ڈاکٹر طاہر کے مطابق سنہ 1969 میں 'جب اُس وقت کے آمر جنرل یحیٰی خان نے ون یونٹ ختم کرنے کا اعلان کیا تو بہاولپور کے لوگوں کو امید تھی کہ وہ علیحدہ یونٹ کے طور پر بحال ہو جائے گا، مگر جب بحال نہ ہوا تو یہاں کے لوگوں نے ایک زبردست تحریک چلائی۔'

اس تحریک کا مرکز بہاولپور کا تاریخی فرید گیٹ ہوتا تھا جہاں جلسے منعقد کیے جاتے تھے۔ یہ تحریک لگ بھگ چھ ماہ تک چلتی رہی۔

'اس کے بعد تشدد سے اسے دبا دیا گیا۔ گولی چلی، آنسو گیس کا استعمال ہوا۔ ان تمام افراد کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا جو اس تحریک سے وابستہ تھے۔' تاہم اس کے بعد پاکستان میں سنہ 1970 کے پہلے عام انتخابات منعقد ہوئے۔ اس میں بھی صوبہ بہاولپور کی مانگ نمایاں رہی۔

'مجیب الرحمٰن نے کہا میں صوبہ بہاولپور ضرور بحال کروں گا'

پروفیسر ڈاکٹر طاہر کے مطابق سنہ 1970 کا انتخاب بہاولپور میں صوبے کی بحالی کی بنیاد پر لڑا گیا تھا۔ اس میں ماسوائے پاکستان پیپلز پارٹی کے باقی تمام جماعتوں نے ایک متحدہ محاذ اسی بنیاد پر بنایا تھا۔ اس محاذ میں مسلم لیگ، تحریکِ استقلال، جماعتِ اسلامی وغیرہ شامل تھیں۔

'مرکزی اسمبلی کی آٹھ میں سے چھ اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی 18 میں سے 16 نشستوں پر بہاولپور سے وہ امیداوار کامیاب ہوئے جو بہاولپور کو علیحدہ صوبہ بنانے کے حامی تھے۔'

Image caption بہاولپور کی شہرت تعلیمی مرکز کے طور پر جانی جاتی ہے اور صادق پبلک سکول یہاں کا ایک معروف تعلیمی ادارہ ہے

انتخاب جیتنے کے بعد متحدہ محاذ نے بنگال میں عوامی لیگ کے سربراہ مجیب الرحمٰن سے ملاقات کی۔ یاد رہے کہ سنہ 1970 کے عام انتخابات میں مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے واضح اکثریت کے ساتھ مجموعی طور پر سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں۔

ان انتخابات میں 300 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی تھی اور عوامی لیگ نے 160 سیٹیں جبکہ پی پی پی نے 81 سیٹیں جیتی تھیں جبکہ حکومت بنانے کے لیے 151 سیٹوں کا جیتنا ضروری تھا۔

پروفیسر ڈاکٹر طاہر نے بتایا: 'مجیب الرحمٰن نے کہا کہ میں وزیرِ اعظم بننے والا ہوں، میں بہاولپور کو علیحدہ صوبے کے طور پر ضرور بحال کروں گا۔ مجھے یاد ہے میں اس وقت ٹیکنیکل سکول میں پڑھتا تھا اور عوامی لیگ کا جھنڈا جو یہ فرید گیٹ کے ساتھ ایک عمارت تھی حبیب ہوٹل، وہاں اس کا دفتر تھا، وہاں پر لہراتا تھا۔'

اس کے بعد کے واقعات ایسے ہوئے کہ صوبہ نہ بن پایا۔ سنہ 1970 میں بہاولپور کو صوبہ پنجاب کا ایک ڈویژن بنا دیا گیا۔

'بہاولپور قدرتی طور پر ایک الگ خطہ ہے'

بہاولپور ڈویژن تین اضلاع پر مشتمل ہے۔ وسط میں بہاولپور، اس کے مغرب میں رحیم یار خان اور مشرق میں بہاولنگر کے اضلاع ہیں۔

پروفیسر طاہر کے مطابق بہاولپور ڈویژن کا رقبہ 45 ہزار 588 مربع کلو میٹر ہے۔ اس میں چولستان 20 ہزار 200 کلو میٹر ہے جبکہ اس علاقے کی لمبائی 480 کلو میٹر ہے۔ اس کا مشرقی اور جنوبی حصہ انڈیا کے ساتھ لگتا ہے۔

'یہ ایک قدرتی طور پر علیحدہ خطہ ہے۔ اس کے شمال میں پانچ دریا ہیں جو اس کی حد بندی کرتے ہیں، پنجاب سے الگ کرتے ہیں اس کو۔ مشرق میں انڈیا کا صحرا اس کی حد بندی کرتا ہے۔ اسی طرح سندھ کا صوبہ مغرب میں ہے اس کے۔ تو ہر طریقے سے اس کا ایک الگ صوبہ بنایا جا سکتا ہے۔'

'بہاولپور میں جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا نہری نظام تھا'

ڈاکٹر طاہر کے مطابق بہاولپور کے لوگوں کی اکثریت بہاولپور کا علیحدہ صوبہ چاہے گی۔ ان کے نزدیک بہاولپور کی تاریخ اور اس کا مستقبل دونوں اس سے وابستہ ہیں۔

’بہاولپور برصغیر کی امیر ترین ریاستوں میں سے ایک تھی۔ اس نے جو ترقی ریاست کے دور میں شروع کی وہ صوبے کے دور تک جاری رہی، مگر پھر تھم گئی اور آج تک جامد ہے۔'

Image caption بہاولپور کا بہاول وکٹوریا ہسپتال

ریاست بہاولپور تعلیم کا مرکز گردانا جاتا تھا۔ سنہ 1886 میں یہاں پہلا کالج قائم ہوا تھا۔ برصغیر کے تمام بڑے تعلیمی اور سماجی ادارے بہاولپور کی طرف رجوع کرتے تھے۔

سنہ 1922 میں شروع ہونے والے ستلج ویلی پراجیکٹ کے تحت بہاولپور کے ایک بڑے علاقے کو 'جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے نہری نظام کے ذریعے سیراب کیا گیا جس نے بہاولپور کی آمدن کئی گنا بڑھا دی۔'

مزید پڑھیے

بہاولپور:’الوداعی پارٹی کروانے پر استاد کا قتل‘

بہاولپور جنوبی پنجاب' صوبہ بنانے کی تجویز

بہاولپور: لواحقین کو اپنے پیاروں کی تلاش

سنہ 1906 میں علاقے کا سب سے بڑا بہاول وکٹوریہ ہسپتال تعمیر ہوا۔ سنہ 1924 میں لائبریری قائم کی گئی۔ سنہ 1945 میں لڑکیوں کے لیے کالج بنایا گیا تھا۔ سنہ 1950 کی دہائی کے اوائل ہی میں بہاولپور میں ڈرنگ اسٹیڈیم تعمیر کیا گیا۔

اُس وقت اس کا ہاکی کا گراؤنڈ ایشیا میں سب سے بڑا تھا۔ اس میں موجود کرکٹ گراؤنڈ نے مغربی پاکستان میں پہلے ٹیسٹ میچ کی میزبانی کی تھی جو انڈیا اور پاکستان کی ٹیموں کے درمیان جنوری سنہ 1955 میں کھیلا گیا تھا۔

Image caption بہاولپور میں موجود کرکٹ گراؤنڈ نے مغربی پاکستان میں پہلے ٹیسٹ میچ کی میزبانی کی تھی

پروفیسر طاہر کے مطابق صوبہ کا دور بہاولپور کے لیے ترقی کا دور تھا۔ 'مگر جو تعلیمی اور سماجی ادارے اس وقت بنے تھے، آج بھی کم و بیش وہی ہیں، ان میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ لوگوں میں احساسِ محرومی پایا جاتا ہے۔'

اسی بارے میں