کرائسٹ چرچ: وزیرِ اعظم جاسنڈا آرڈرن کا خود کار ہتھیاروں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ حملے میں استعمال ہونے والے نیم خود کار ہتھیاروں کی تمام اقسام پر پابندی عائد کی جائے گی

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جاسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ ان کا ملک کرائسٹ چرچ حملے میں استعمال ہونے والے نیم خود کار ہتھیاروں کی تمام اقسام پر پابندی عائد کرے گا۔

گذشتہ جمعے کو دو مساجد پر ہونے والے حملوں کے بعد نیوزی لینڈ میں اسلحے کے بارے میں قوانین زیرِ بحث ہیں۔ ان حملوں میں 50 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جاسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کے اس حوالے سے نئی قانون سازی 11 اپریل تک وضح ہو جائے گی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ممنوعہ اسلحے کی واپسی کے حوالے سے نئی سکیم بھی متعارف کروائی جائے گی اور اس قانون سازی سے قبل ایسے اقدامات کیے جائیں گے جس سے پابندی سے پہلے اسلحے کی خریداری کی روک تھام کی جا سکے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 'حملے کے چھ روز بعد ہم تمام اقسام کے ملٹری سٹائل نیم خود کار ہتھیاروں اور خود کار رائفلز پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرائسٹ چرچ میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کا عمل شروع ہو چکا ہے

'ان پارٹس پر بھی پابندی عائد کی جائے گی جو بندوقوں کو نیم خود کار ہتھیاروں میں تبدیل کرنے اور بہت زیادہ گنجائش رکھنے والے میگزینز پر بھی پابندی عائد کی جائے گی۔'

نئی قانون سازی

بدھ کو بی بی سی کے نامہ نگار کلائیو مائری کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں جاسنڈا آرڈرن نے نیم خود کار ہتھیاروں کی عام دستیابی اور نیوزی لینڈ میں اس حوالے سے قوانین کو ایک مسئلہ قرار دیتے ہوئے نئی قانون سازی کا عندیہ دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ میں قانونی مقاصد کے لیے بندوق کے استعمال کی اجازت ہے خاص کر دیہی علاقوں میں۔

ان کے مطابق وہ اس حوالے سے قانون سازی کریں گی اور انھیں یقین ہے کہ نیوزی لینڈرز نیم خود کار ہتھیاروں کی دستیابی کے مسئلے کو ڈیل کرنے کے لیے ہمارا ساتھ دیں گے، وہ ہتھیار جو خاص طور پر انسانی جانوں کو لینے کے لیے بنے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’حملہ آور شہرت چاہتا تھا، لیکن وہ بے نام رہے گا‘

’سفید فام انتہا پسندی پوری دنیا کا مسئلہ ہے‘

جاسنڈا آرڈرن: ’ہمدرد قیادت کی شبیہ‘

’یہ ہر نیوزی لینڈر کا فرض ہے کہ وہ یہاں بسنے والوں کو تحفظ کا احساس دلائیں اور نسل پرستی پر مبنی ہر اقدام کو چیلنج کریں۔ میں ہر اس فرد کو جو نیوزی لینڈ کو اپنا گھر سمجھتا ہے اور اس کا جو بھی مذہب یا قومیت ہے یقین دلانا چاہتی ہوں کہ وہ اپنے آپ کو محفوظ تصور کرے۔‘

وزیرِاعظم آرڈرن نے 'وائٹ نیشنل ازم' یا سفید فام قوم پرستی کو ’ایک عالمی مسئلہ‘ بھی قرار دیا۔

'یہ حملہ ایک آسٹریلوی شہری نے کیا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ مسئلہ ہمارے یہاں نہیں پایا جاتا۔'

اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ حملہ انٹیلی جنس کی ناکامی تھا، ان کا کہنا تھا کہ ایجنسیوں کی سالانہ رپورٹس میں ہر بات کا تذکرہ نہیں ہوسکتا۔ 'ان حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ عالمی سطح پر سفید فام قوم پرستوں کی موجودگی بڑھی ہے، ہماری ایجنسیاں گذشتہ نو ماہ سے خاص طور پر ایسے گروہوں کے رہنماؤں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جاسنڈا آرڈرن کون ہیں؟

کرائسٹ چرچ حملوں کے بعد دنیا بھر کے لوگ وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن کے ہمدردانہ رویے سے متاثر ہوئے اور ان کی قیادت کے انداز کو بہت سراہا گیا۔

جاسنڈا کیٹ لورل آرڈرن 26 جولائی 1980 کو نیوزی لینڈ کے شہر ہیملٹن میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد پولیس افسر تھے جبکہ ان کی والدہ سکول میں کیٹرنگ اسسٹنٹ کا کام کرتی تھیں۔

یونیورسٹی آف وائے کاٹو سے سیاست اور تعلقات عامہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ پالیسی مشیر کے طور پر کام کرنے کے لیے جاسنڈا لندن منتقل ہو گئیں۔

ان کی پرورش ایک مورمن عیسائی کے طور پر کی گئی، لیکن ہم جنس پرستوں کے حقوق کی حمایت کرنے کے لیے انھوں نے 2005 میں مذہب سے علیحدگی اختیار کر لی۔

انھوں نے نوجوانی میں ہی نیوزی لینڈ کی لیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 2008 میں نیوزی لینڈ کی سب سے کم عمر پارلیمانی رکن بن گئیں۔ پھر اگست 2017 میں انھوں نے قائد حزب اختلاف کا عہدہ سنبھالا۔

جاسنڈا آرڈرن 26 اکتوبر 2017 کو نیوزی لینڈ فرسٹ اور لیبر پارٹی کے اتحاد سے بننے والی مخلوط حکومت کی وزیر اعظم ٹھہریں اور اسی طرح وہ نیوزی لینڈ کی تیسری خاتون وزیر اعظم بنیں۔

38 سالہ آرڈرن نیوزی لینڈ کی 150 سالہ تاریخ میں سب سے کم عمر رہنما ہیں۔

اسی بارے میں