’ملائیشین ماڈل‘: عمران خان اس کا بار بار ذکر کیوں کرتے ہیں؟

مہاتیر محمد تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد 23 مارچ کی پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنے کے لیے جمعرات کی رات پاکستان پہنچے۔ ان کے آنے سے پہلے ہی پاکستان میں ٹوئٹر پر #PakistanWelcomesMahathir یعنی مہاتیر کو پاکستان آنے پر خوش آمدید کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنا شروع ہو گیا۔

92 سالہ مہاتیر محمد گذشتہ سال ملائیشیا کے انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد دنیا کے معمر ترین حکمران منتخب ہوئے تھے۔ اس سے پہلے وہ سنہ 1981 میں پہلی بار وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 2003 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ جس کے بعد انھوں نے 15 برس تک سیاست سے کنارہ کشی اختیار رکھی لیکن سنہ 2016 میں انھوں نے سیاست میں واپسی کا اعلان کیا۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کئی بار کہا ہے کہ وہ مہاتیر محمد کے بہت بڑے مداح ہیں، انھوں نے اپنی تقاریر میں ’ملائیشین ماڈل‘ کا ذکر بھی کیا ہے۔

گذشتہ سال وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان نے ملائیشیا کا سرکاری دورہ بھی کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

92 سالہ مہاتیر محمد نے وزیر اعظم کا حلف اٹھا لیا

ملائیشیا: وزیراعظم نجیب رزاق کے خلاف مظاہرے

عمران خان کا سفر

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

’ملائیشین ماڈل‘ کیا ہے؟

یونیورسٹی آف لیڈز برطانیہ میں شعبہ عمرانیت سے منسلک جنید سیرت احمد کا کہنا ہے کہ مہاتیر کے ملائیشین ماڈل کے تحت ملائیشیا بھر میں تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے منصوبوں سمیت تمام کاروباروں میں حکومتی سطح پر سرمایہ کاری کی گئی۔ مہاتیر کے اس ماڈل کا مقصد ملک میں موجود تمام طبقوں میں مساوات لانا اور خاص طور پر نچلے طبقے کی فلاح تھا۔

جنید سیرت نے بتایا کہ اس ماڈل کے نتائج یہ نکلے کہ اب ملائیشیا کی شرح خواندگی 100 فیصد ہے اور صحت کی بہترین سہولیات ملک کے تمام طبقات کو میسر ہیں۔ اسی ماڈل کی بدولت اب ملائیشیا کی معشیت کا شمار مسلم دنیا کی سب سے متنوع معیشت میں ہوتا ہے۔

کیا پاکستان میں مہاتیر کے ’ملائیشین ماڈل‘ کو اپنایا جا سکتا ہے؟

ماہر معاشیات قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مہاتیر کا ملائیشین ماڈل اپنانے کے لیے بہت سی چیزیں بدلنا ہوں گی۔ مہاتیر کے ملائیشین ماڈل کا ایجنڈا ملک کو ترقی دینا تھا، ملائیشیا کی اشرافیہ بھی ملک میں ترقی چاہتے تھے جبکہ پاکستان کے فرسودہ جاگیردارانہ نظام میں موجود اشرافیہ ملک میں ترقی ہی دیکھنا نہیں چاہتے۔ ملائیشیا ایک مڈل کلاس سوسائٹی ہے جہاں پاکستان کی طرح جاگیردرانہ نظام نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ملائیشین ماڈل کو نافذ العمل کرنے کے لیے ہمیں صرف مہاتیر محمد کی تعریف ہی نہیں بلکہ عوام تک تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

جنید سیرت کے مطابق بھی پاکستان میں مہاتیر محمد کے ملائیشین ماڈل کو کسی حد تک تو اپنایا جا سکتا ہے تاہم ابھی مکمل طور پر اسے نافذ کرنا ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا میں مہاتیر کے اس ماڈل کو ایک مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے ہی ملائیشیا کی پسماندہ معیشت میں بہتری آئی اور وہ ترقی پذیر ممالک میں شامل ہو گیا۔

ملائیشیا میں مہاتیر محمد نے برسرِاقتدار نجیب رزاق کے باریسن نیشنل اتحاد کو شکست دی تھی۔ ان کا اتحاد گذشتہ 60 برسوں سے ملک پر حکومت کر رہا تھا۔ نجیب رزاق پر بھی بڑی بد عنوانی کے الزامات تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

مہاتیر محمد اور سی پیک

مہاتیر محمد چین کے سی پیک کے منصوبہ جات پر بھی کچھ اعتراضات رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چین کے بارے میں منفی سوچ نہیں رکھتے لیکن بعض معاہدے اور ان کی شرائط ملائیشیا کے مفاد میں ہرگز نہیں۔

ٹوئٹر پر پیغامات

سوشل میڈیا پر بھی مہاتیر محمد کو زبردست انداز میں پاکستان میں خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔ ملیحہ ہاشمی لکھتی ہیں کہ مہاتیر محمد کی پاکستان آمد اور 23 مارچ کی پریڈ میں شرکت سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ دنیا کی اعلیٰ قیادت پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان پر اعتماد کرتی ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے مہاتیر محمد کی وزیر اعظم ہاؤس آمد کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عمران خان اپنے استاد کی موجودگی میں بہت خوش دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ ان سے متاثر رہے ہیں۔

ایک صارف نے حکومت کی خارجہ پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ موجودہ حکومت کے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات یورپ اور ایشائی ممالک کے مقابلے میں بہتر ہو رہے ہیں جو کہ ایک بہترین چیز ہے۔

اسی بارے میں