چمن اور طورخم بارڈر پر بچوں کے ساتھ بڑوں کو بھی پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان اور افغانستان نے اب سرحد عبور کرنے والے تمام عمر کے افراد کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین یا قطرے دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا آغاز دونوں ممالک کی جانب سے 25 مارچ سے ہوگا۔

دس سال سے زائد عمر کے افراد پر اگرچے وائرس حملہ نہیں کرتا لیکن یہ لوگ وائرس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق خیبر پختونخوا میں طورخم اور صوبہ بلوچستان میں چمن کے مقامات سے روزانہ 20 سے 25 ہزار افراد پاک افغان سرحد عبور کرتے ہیں۔ دونوں ممالک میں پولیو کے خاتمے کے لیے اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والے تمام عمر کے افراد کو یہ قطرے دیے جائیں گے اور انھیں ایک کارڈ جاری کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

ویکسینیشن: سات غلط فہمیاں جنھیں دور کرنا ضروری ہے

پولیو مہم میں استعمال ہونے والے مارکرز تک رسائی کا انکشاف

’چٹائیوں سے اتنے پیسے نہیں ملتے کہ علاج کرائیں‘

کیا پولیو کا وائرس بڑی عمر کے افراد پر بھی حملہ کر سکتا ہے؟

اس بارے میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے عہدیدار ڈاکٹر محمد جوہر نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑی عمر کے افراد میں قوت مدافعت بچوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے اس لیے پولیس کا وائرس ان پر اثر نہیں کرتا لیکن بڑی عمر کے افراد کے جسم میں وائرس موجود ہو سکتا ہے۔ اس لیے پانچ سال سے بڑی عمر کے افراد وائرس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتے ہیں۔

روزانہ کتنے افراد یہ سرحد عبور کرتے ہیں؟

ڈاکٹر جوہر نے بتایا کہ انھوں نے جو ابتدائی معلومات حاصل کی ہیں اس کے مطابق طور خم سرحد روزانہ دس سے تیرہ ہزار افراد یہ سر حد عبور کرتے ہیں اور اسی طرح آٹھ سے بارہ ہزار افراد چمن سرحد پر سفر کرتے ہیں۔ اس لیے ایک اندازے کے مطابق 20 سے 25 ہزار افراد یہ سرحد عبور کرتے ہیں۔

کیا روزانہ سفر کرنے والوں کو روزانہ یہ قطرے دیے جائیں گے؟

ڈاکٹر جوہر کے مطابق انسداد پولیو کے ان قطروں کا اثر کچھ عرصے کے لیے ہوتا ہے تو جن لوگوں کو یہ ویکسین دی جائے گی انھیں ایک کارڈ بھی جاری کیا جائے گا اور یہ کارڈ ایک مخصوص دورانیے کا ہوگا اور جب اس کارڈ کا وقت مکمل ہو جائے گا تو اس شخص کو پھر سے انسداد پولیو کے یہ قطرے دیے جائیں گے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

یہ اقدامات پہلے کیوں نہیں کیے گئے؟

ڈاکٹر محمد جوہر نے بتایا کہ اس سے پہلے سرحد پر دس سال تک کے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے دیے جاتے تھے لیکن حالیہ دنوں میں ایسے کیسز آئے ہیں جن کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والے بھی ایک وجہ ہیں۔

اس کے علاوہ افغانستان میں ایسے علاقے ہیں جہاں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قھطرے نہیں دیے جا سکتے اور اگر وہ بچے یا بڑے کہیں سفر کرتے ہیں تو وہ جراثیم کہیں بھی لے جا سکتے ہیں ۔

پاکستان افغانستان پولیو وائرس کی موجودگی

انٹرنیشنل ہیلتھ ریولیشن کے مطابق دونوں ممالک میں پولیس وائرس کے بلاکس ہیں اس لیے کچھ عرصہ قبل بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور افغانستان سے دیگر ممالک کو سفر کرنے والے افراد پر یہ لازمی قرار دیا گیا تھا کہ ان کے پاس انسداد پولیو کے قطرے لینے کی سرٹیفیکیٹ ہونی چاہیے ۔ حج اور عمرہ کی ادائگی کے لیے سعودیہ عرب جانے والے افراد پر بھی لازمی ہوتا ہے کہ وہ انسداد پولیس کے قطرے لیں وگرنہ انھیں اجازت نہیں دی جاتی۔

وائرس ریزروائرز

پاکستان میں مختلف ایسے علاقے ہیں جہاں پولیو کا وائرس موجود ہے ان علاقوں میں کراچی کے بعض مقامات ، کوئٹہ ، پشاور اور وزیرستان جیسے علاقے وائرس کے مرکز سمجھے جاتے ہیں۔ دیگر علاقوں میں اگر وائرس کی موجودگی ہوتی بھی تو ان کے لنک بھی کسی نہ کسی وجہ سے انہی علاقوں سے ملتے ہیں۔

وائرس پھیلنے کی وجہ سفر

ڈاکٹر جوہر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خاص طور پر قبائلی علاقوں میں اور ادھر افغانستان کی جانب لوگ سفر بہت زیادہ کرتے ہیں اور حرکت میں رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے شواہد ملے ہیں جن سے معلوم ہوا ہے کہ وائرس کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ یہ سفر ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جب جاتے ہیں تو یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے جسم میں پولیو کا وائرس دوسری جگہ لے جائیں جہاں شائد پہلے یہ وائرس موجود نہ ہو ۔ اب جینیٹک تجزیے سے بھی معلوم ہوا ہے کہ وائرس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوئے ہیں۔

پاکستان میں اس سال اب تک تین ماہ میں پولیس کے 6 کیسز سامنے آئے ہیں ان میں چار بچے خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے جبکہ دو بچے سندھ اور پنجاب میں اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ۔ گزشتہ سال کل بارہ بچوں پر اس وایرس نے حملہ کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں