بھگت سنگھ اور ساتھیوں کی 88 ویں برسی، کیا آج بھی ان کے خیالات اتنے ہی اہم ہیں؟

بھگت سنگھ برسی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

23 مارچ پاکستان کے لیے ایک بہت اہم دن، اس دن لاہور میں ’قرارداد پاکستان‘ پیش کی گئی جو تحریک پاکستان کے لیے ایک اہم سنگ میل تھا لہذا ہر سال یہ دن سرکاری سطح پر دھوم دھام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ لیکن اس سے نو سال پہلے 23 مارچ 1931 کو لاہور میں ہی برطانوی راج کے دوران تین آزادی پسند انقلابی نوجوان بھگت سنگھ،راج گرو اور سكھدیو کو پھانسی دے کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ان تینوں پر برطانوی پولیس افسر سانڈرز کے قتل کا الزام تھا اور اسی جرم کی سزا میں انھیں پھانسی دی گئی۔ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی انقلاب پر یقین رکھتے تھے اور وہ بائیں بازو کی سیاست سے منسلک تھے۔ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی موت کے بعد وہ برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کی عظیم علامت بن گئے۔

یہ بھی پڑھیے۔

بھگت سنگھ مقدمہ، لارجر بنچ تشکیل دینے کی سفارش

انھیں اپنے مطلب سے یاد آتے رہے بھگت سنگھ

بھگت سنگھ نصاب کا حصہ نہیں لیکن آبائی مکان ثقافتی اثاثہ

اس 23 مارچ کو ان کی 88 ویں برسی ہے۔ بھگت سنگھ کا تعلق لائل پور سے تھا، آج یہ جگہ پاکستان میں ہے اور اس کا نام فیصل آباد ہے۔ جس وقت بھگت سنگھ کو پھانسی لگائی گئی اس وقت پاکستان کا تصور نہیں تھا اور برصغیر ایک تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Progressive Student Collective
Image caption بھگت سنگھ کی برسی کے موقع پر لاہور میں پروگریسو سٹوڈنٹ کولیکٹوو سے تعلق رکھنے والے نوجونوں نے ایک تقریب کا انعقاد کیا

دونوں ملکوں کی آزادی کے بعد انڈیا میں بھگت سنگھ کو تحریک آزادی کا عظیم ہیرو کہا جاتا ہے اور ان کے لیے ’شہید‘ کا خطاب بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں بھگت سنگھ کے بارے میں عوامی سطح پر زیادہ ذکر نہیں ہوتا لیکن اس کا ہرگز مطلب نہیں کے ان کے مداح یہاں موجود نہیں۔

آج ان کی برسی کے موقع پر لاہور کے ’پروگریسو سٹوڈنٹ کولیکٹوو‘ نے بھی ایک تقریب کا انعقاد کیا جہاں نوجونوں نے آ کر بھگت سنگھ کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پروگریسو سٹوڈنٹ کولیکٹوو کے حیدر علی بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان کو بھگت سنگھ کے بارے میں پڑھانا بہت ضروری ہے، اس بھگت سنگ کے بارے میں 'جو کسی ذات پات رنگ نسل طبقے کی بنیاد پر کسی پر جبر نہیں دیکھ سکتا تھا، جو طاقتور کے سامنے حق کی بات کرتا تھا۔'

انھوں نے کہا کہ اگر 'ہم آج کے سیاق و سباق میں بھگت سنگھ کو نوجوانوں کا آئڈیل نہیں بنائیں گے، ان کے پیغامات اور نظریات لوگوں تک نہیں پہنچائیں گے تو جس تیزی سے یہ ملک تباہی کی جانب جا رہا اسے کوئی نہیں روک سکے گا۔'

Image caption بھگت سنگھ 23 برس کے تھے جب انھیں پھانسی دی گئی

بھگت سنگھ کے اقدار

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تاریخ دان اور ایف سی کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عمار علی جان نے کہا کہ 1919 میں جلیاں والا باغ کی قتل و غارت کے بعد پورے بر صغیر میں عموماً خوف پایا جاتا تھا لیکن بھگت سنگھ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اگر انسان کے اندر واقعی ہی آزادی کی جستجو ہو تو وہ ’ایسے کام کر جاتا ہے جس میں انسان کا جسم اور وجود بے معنی رہ جاتا ہے اور آپ کے اقدار آگے بڑھ جاتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’بھگت سنگھ نے ایک قسم کا اپنے آپ کو پھانسی کے تختہ دار تک پہنچایا اور اس بات کو ثابت کیا کہ طاقت کبھی بھی انسان پر حاوی نہیں ہو سکتی۔ چاہے جتنے بھی مشکل حالات ہو متبادل ممکن ہے۔‘

ڈاکٹر عمار علی جان نے کہا کہ اس وقت برصغیر میں ایک بحران ہے۔ انڈیا میں بھگت سنگھ کی سوچ اور اقدار کے دشمن ’فاشسٹ‘ اقتدار میں ہیں جبکہ پاکستان میں ’عجیب صورت حال ہے کہ ہم نے ابھی تک یہ مانا ہی نہیں ہے کہ وہ ہمارا ہیرو ہے، یہ سب صرف ان کے نام کی وجہ سے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/Dev_Fadnavis
Image caption بی جے پی سے تعلق رکھنے والے انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا کے وزیر اعلی دیوندر فدنویس بھگت سنگھ،راج گرو اور سكھدیو کی برسی کے موقع پر ان کی تصویروں پر پھول چڑہا رہے ہیں

جب ان سے پوچھا گیا کہ انڈیا میں قوم پرست قوتیں بھی بھگت سنگھ کو اپنا ہیرو قرار دیتی ہیں اور حال ہی میں وزیر اعظم نرندر مودی نے بھی بھگت سنگھ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ تو اس پر ڈاکٹر عمار نے کہا کہ ’یہ ایک اور طریقہ ہوتا ہے کسی کو مارنے کا کہ آپ اس کے نظریات کو اس کی جدوجہد کو نظر انداز کر دو اور اس کے مجسمے بنا دو یا کسی حاکم کے خیالات کے ساتھ انھیں جوڑ دو۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ بھگت سنگھ نے انڈیا میں مذہب کے نام پر فاشزم کو مکمل طور پر رد کیا تھا۔ بھگت سنگ سوشلسٹ تھا وہ کسانوں اور مزدوروں کی جدوجہد پر یقین رکھتا تھا اس وقت جو اس وقت انڈیا میں حکومت ہے وہ کارپوریٹ فاشسٹ حکومت ہے یا وہ امیروں کے لیے کام کر رہی ہے یا وہ مذہبی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔‘

ٹوئٹر پر پیغامات

بھگت سنگھ کی برسی کے موقعے پر پاکستان اور انڈیا میں موجود صارفین نے ٹوئٹر کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے بر ضغیر کی تاریخی انقلابی شخصیت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

دلی سے تعلق رکھنے والے مشہور تاریخ دان سید عرفان حبیب نے بھگت سنگھ کو ان کی برسی پر اپنی ٹویٹ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئیے ہم آج بھگت سنگھ کو یاد کریں جن کے خیالات آج بھی اہم ہیں۔

پاکستان کی سماجی حقوق پر کام کرنے والی کارکن اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ندا کرمانی نے ٹویٹ میں کہا کہ نہرو اور جناح دونوں بھگت سنگھ کی انقلابی سوچ کے مخصوص پہلوں کی حمایت کرتے تھے۔ افسوس کے ان کی پھانسی کے 88 سال بعد پاکستان کی اکثریت ان کی انسانیت کے لیے اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کے بارے میں ناواقف ہے۔

ایک اور پاکستانی صارف باول بلوچ نے لکھا کہ آج کے دن ایک حقیقی انقلابی کو پھانسی ہر لٹکایا گیا تاہم پھندا صرف ان کی روح اور جسم کو الگ کر سکا۔ ان کے مضبوط خیالات نہ صرف انڈینز کی بلکہ ہر مظلوم طبقے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

اسی بارے میں