یوم پاکستان کی پریڈ: چین، سعودی عرب اور آذربائیجان کے فوجی دستے بھی شریک

چین کے لڑاکہ طیارے تصویر کے کاپی رائٹ Govt of Pakistan

یوم پاکستان کی پریڈ میں حاضریں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ تل دھرنے کو بھی جگہ نہ تھی۔ گذشتہ پانچ برس میں پہلی بار اتنی زیادہ تعداد میں پاسز جاری کیے گئے تھے۔ اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ہونے والی یوم پاکستان کی پریڈ میں پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ ساتھ چین، سعودی عرب اور آذربائیجان کے دستے اور ہواز باز شریک ہوئے۔

’1971 کی جنگ کے دوران میری عمر تقریباً نو سال تھی، میں سکول اور محلے میں سِکّے جمع کرتی، اور فوجیوں کے قافلوں میں دے دیتی۔ تب سے فوج سے محبت ہے، کتنے ہی سالوں سے کوشش کر رہی تھی کہ مجھے پاس مل جائے، اور اب میرا پریڈ دیکھنے کا خواب پورا ہوا،‘ یہ الفاظ آج اسلام آباد کے شکر پڑیاں پریڈ گراؤنڈ میں آئیں سعدیہ نسیم کے تھے جو پاکستان کی مسلح افواج کی پریڈ دیکھنے لاہور سے آئی تھیں۔

اس بار مسلح افواج کی پریڈ میں کئی ممالک نے شرکت کی۔ آذربائیجان اور سعودی عرب کے فوجی دستوں نے مارچ کیا، جبکہ ترک فضائیہ کے ایف سولہ طیارے نے فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا اور سب سے زیادہ جوش و خروش اس وقت دیکھنے کو ملا جب پاکستانی فضائی فوج کے جے ایف ۱۷ تھنڈر نے مظاہرہ پیش کیا۔

سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہونے کے باعث پریڈ گراؤنڈ کے قریبی شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں بنی رہیں، یہاں تک کہ کئی افراد اپنی گاڑیاں بیچ سڑک پارک کر کے پریڈ گراؤنڈ میں داخل ہو گئے

مزید پڑھیے

یومِ پاکستان پریڈ میں غیرملکی دستے

اسلام آباد میں یوم پاکستان پریڈ

یومِ پاکستان کی تقریبات: تصویری جھلکیاں

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد، وزیراعظم عمران خان اور صدرِ مملکت عارف علوی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے

‎چین سے آئے جے ایف ٹین طیاروں نے فضا میں کرتب دکھائے اور خوب داد وصول کی۔ اس سے قبل یہی کرتب پاکستانی فضائیہ کی ’شیردل‘ فارمیشن دکھاتی تھی۔ فری فال کا مظاہرہ کرنے والوں میں پاکستانی افواج کے علاوہ سعودی عرب، آذربائیجان، سری لنکا، بحرین، برونائی ملائشیا کے دستے شامل تھے۔

‎پریڈ میں شریک ملک کی بّری فوج سے تعلق رکھنے والے ایک افسر کا کہنا تھا کہ اس بار اتنے ممالک کی شرکت سے ہم نے یہ پیغام دیا ہے کہ ’پاکستان تنہا نہیں اور کوئی ملک کسی ’مس ایڈوینچر‘ کا نہ سوچے۔‘

‎واضح رہے کہ فروری میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی اپنی بدترین سطح پر پہنچی تو یہ بھی خیال کیا جا رہا تھا کہ فوج کے مشرقی سرحد پر مصروف ہونے کے باعث اس سال فوجی نمائش کی یہ تقریب منعقد نہیں کی جائے گی، تاہم کشیدگی میں حالیہ ہفتوں میں کمی دیکھنے میں آئی اور گزشتہ روز انڈین وزیر اعظم نے پلوامہ واقعے کے بعد پہلی بار پاکستان کو یوم پاکستان کے موقع پر پیغام بھیجوایا ہے، جسے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Govt of Pakistan

پاکستان میں تیار ہونے والے مختلف میزائلز اور یو اے ویز کی نمائش کے علاوہ مسلح افواج کے فوجی دستوں نے سلامی دی۔ پاکستان میں تیار ہونے والے الخالد اور الضرار ٹینک، آرٹلری گنز اور دیگر جنگی ساز و سامان کی نمائش کی گئی، اسپیشل سروسز گروپ نے اپنے مخصوس انداز میں مارچ کیا جبکہ گروپ نے فری فال کا مظاہرہ بھی کیا۔

‎اس سے قبل تقریب کے آغاز میں چیف آف ایئر اسٹاف مجاہد انور خان نے فلائی پاسٹ کیا۔ انہوں نے طیارے کے کاکپٹ سے کہا کہ پاکستان کے خلاف جارحیت کی غلطی نہ کی جائے، اور یہ کہ فضائی فوج پاکستان کی فضائی حدود کا دفاع اور نگہبانی کرے گی۔

‎انکلوژرز میں موجود شہری وقفے وقفے سے نعرے لگاتے رہے۔ ان میں موجود ایک طالب علم طیب نے کہا کہ ’پہلے پریڈ کے پاس لینے کے باوجود ان کا ارادہ نہیں تھا کہ وہ پریڈ میں آئیں گے، لیکن جب ستائیس فروری کو پاکستانی فوج نے انڈیا کو جواب دیا تو ہم نے کوشش کر کے فل ڈریس ریہرسل کے پاسز بھی لے لیے، جس میں سب اہلخانہ نے شرکت کی۔‘

پریڈ میں موجود ایک اور خاتون مسز منیب نے بتایا کہ انہیں پریڈ تو شاندار لگی اور اس سے پہلے ایسی پریڈ نہیں ہوئی، لیکن اگر پاسز زیادہ لوگوں کو دیے گئے تھے تو ان کے بیٹھنے کے انتظامات بھی ہونے چاہیے تھے، کئی بڑی عمر کی خواتین اور مردوں کو بھی کئی گھنٹے کھڑے ہو کر پریڈ دیکھنی پڑی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Govt of Pakistan

ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد، وزیراعظم عمران خان اور صدرِ مملکت عارف علوی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے جب کہ غیر ملکی مہمان بحرین کی نیشنل گارڈ کے سربراہ اور آذربائیجان کے وزیر دفاع بھی تقریب میں شریک تھے۔

‎اس کے علاوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، تینوں سروسز چیف، حکومتی شخصیات، غیر ملکی سفرا اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے مرکزی تقریب میں شرکت کی۔

دوسری جانب آج سوشل میڈیا پر بھی 23 مارچ 2019 اور پاک ڈے پریڈ جیسے ٹرینڈز موجود رہے اور پریڈ سے متعلق تصاویر شیئر کی جاتی رہیں وہیں پریڈ کی کمنٹری کو بھی خاصی تنقید کا سامنا رہا۔

تقریب پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر لائیو دکھائی گئی تاہم سوشل میڈیا پر کوریج کے دوران تکنیکی مسائل کو بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا۔

سوشل میڈیا صارف اعظم گیلانی نے کہا کہ ’شاندار پریڈ، ناقص پیشکش، ناقص کیمرہ ورک، بُری صوتی جھلک، انگریزی کمنٹری کے لیے اپنایا گیا لہجہ بھی بُرا تھا۔‘

صحافی فہد حسین نے ٹویٹ کیا کہ ہر سال پریڈ کا بدترین حصہ اس کی ٹی وی کوریج ہوتی ہے، مسلح افواج کی بہترین پرفارمنس کو پیشہ ورانہ طور پر کمزور پروڈکشن تباہ کر دیتی ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ کوریج ان شعبہ جات کے بہترین پیشہ ورافراد سے کیوں نہیں کرائی جاتی؟ نہایت مایوس کن!‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

جبکہ بلاگر شیما مہکار نے اسے ’شور شرابے پر مشتمل کمنٹری‘ قرار دیا اور وزیر اطلاعات سے پروڈکشن ’اپ گریڈ‘ کرنے کی درخواست کی۔

سوشل میڈیا صارف سید علی ضیا جعفری نے لکھا کہ ’کمنٹری اور پروڈکشن کے علاوہ پریڈ اور اس سے پیدا ہونے والا تاثر دیکھنے لائق تھا۔‘ جبکہ ارباز احمد نے لکھا کہ ’کمنٹری اور کمنٹیٹرز کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔‘ ایسا پہلی بار نہیں ہوا، گذشتہ چند برس کے دوران پریڈ کوریج کی کوالٹی پر کئی بار سوالیہ نشان اٹھائے گئے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں