پروفیسر صاحب، مر جائیے!

تصویر کے کاپی رائٹ GOVT. S.E COLLEGE BAHAWALPUR/FAC

صادق ایجرٹن کالج کے پروفیسر خالد حمید کو ان ہی کے ایک طالبعلم نے درسگاہ ہی میں چھری کے وار کر کے قتل کر دیا۔ پروفیسر مرحوم، انگریزی کے استاد تھے۔ ملزم کے بقول 'اسلام کے خلاف بولتے تھے۔۔۔ روز بولتا تھا، بہت زیادہ توہین کرتا تھا ' جب اس سے پوچھا گیا کہ اگر ایسا تھا تو تم نے شکایت کیوں نہیں کی؟ قانون موجود ہے۔

لڑکے کا جواب صاف تھا، ' کون سا قانون؟ قانون تو گستاخوں کو رہا کرتا ہے۔' یہ خبر سوشل میڈیا پہ ہی زیادہ سنائی دی۔ مین سٹریم میڈیا فی الحال، نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم پہ لہلوٹ ہے کہ کیسے، سیاہ دوپٹہ اوڑھے، درود و سلام پڑھتی، مسلمانوں کا دکھ بانٹتی پھر رہی ہیں۔ سینتیس سالہ وزیرِ اعظم کی زندگی کا صرف اتنا سا حصہ ہی ہم دیکھنا چاہتے ہیں اور اسی حصے سے ہمیں غرض ہے۔

ان ہی دو تصویروں کے بل پہ ہم انہیں صوفیوں اور ولیوں کی صف میں شامل کرنے کو تیار ہیں۔ وہی ہم جو خالد حمید صاحب کو ویلکم پارٹی کرانے پہ واجب القتل سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو انہیں مسلمان ہونے تک کا مشورہ دے ڈالا۔ میں نے جب یہ سنا تو دہل گئی۔ اگر یہ بے چاری، ہمارے ہاں ہوتیں تو اوّل تو بچپن ہی میں ان کو ایسا کچلا جاتا کہ گھر سے باہر قدم رکھنے سے پہلے سو بار سوچتیں۔

مزید پڑھیے

بہاولپور: الوداعی پارٹی کروانے پر استاد کا قتل

’میرا اللہ ان سے بدلہ لے گا‘

توہین مذہب کے الزامات: ’زندگی اب موت جیسی ہو گئی ہے‘

سیاست میں آنا تو اس لیے ممکن نہ تھا کہ یہ شعبہ صرف، امراء کی بیگمات اور بہنوں بھابھیوں کے لیے مخصوص ہے۔ متوسط طبقے کی عورت سیاست کے میدان میں دو قدم بھی نہیں چل سکتی۔ اگر کسی طرح ایسا ممکن بھی ہو جاتا تو، ان کو پورا خاندان، کب کا انہیں عاق کر چکا ہوتا۔ کنبے کی کنواریوں کو ڈرایا جاتا کہ بی بی، زیادہ چبڑ چبڑ نہ کیا کرو، جاسنڈا بن جاو گی اور ماں باپ کے چٹے چونڈے میں کلف لگواو گی۔ دیکھا نہیں کیسے مردوں میں گھسی پھرتی ہے وہ تو شکر ہے ابا پہلے ہی سدھار لیے تھے ورنہ اس صدمے سے مر ہی تو جاتے۔

اقلیتوں سے محبت کے جرم میں ان پہ اب تک کفرکا فتویٰ تو آ ہی چکا ہوتا اور اگر اس سے بچ گئی ہوتیں تو ان کی نجی زندگی پہ وہ کیچڑ اچھلتا کہ رہے نام سائیں کا۔ ان کی بچی، شادی کے بغیر پیدا ہوئی ہے، وہ اپنے ماں باپ کا مذہب چھوڑ چکی ہیں کیونکہ وہ ان کے ذاتی خیالات سے متصادم تھا اور ان کے ان فیصلوں پہ ان کے معاشرے کو اسی طرح کوئی اعتراض نہیں جیسا کہ ان کا ایک اقلیت کی وضع اختیار کرنے پہ کوئی اعتراض نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جاسنڈا کیٹ لورل آرڈرن نیوزی لینڈ کے شہر ہیملٹن میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد پولیس افسر تھے جبکہ ان کی والدہ سکول میں کیٹرنگ اسسٹنٹ کا کام کرتی تھیں

مثل مشہور ہے ، میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو، ہمیں جاسنڈا جیسی لیڈر تو چاہیے لیکن صرف اتنی، جتنی نیوزی لینڈ پہ لگنے والے دھبے کو دھونے کے لیے بنائے گئے ان کے سیاسی امیج میں نظر آ رہی ہے۔ وہ اپنی ذاتی زندگی میں مذہب، کے بارے میں عمومی اور اسلام کے بارے میں بالخصوص کیا رویے رکھتی ہیں اس سے کسی کو کوئی غرض نہیں ہے۔

سب صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ ایک اقلیت پہ گزرنے والے سانحے پہ اس ملک کی وزیرِ اعظم کا کیا ردِ عمل تھا ؟ نیوزی لینڈ میں تو یہ سانحہ آ ج گزرا ہے، ہمارے ہاں تو یہ روز کی باتیں ہیں ۔ اقلیت ہی نہیں مسالک کی بنیاد پہ بھی نفرت بانٹی جارہی ہے اور اربابِ حل وعقد، منہ میں گھنگنیاں ڈالے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

اس خاموشی کے دو ہی مطلب ہو سکتے ہیں۔ اوّل تو یہ کہ نفرت کے اس کاروبار میں یہ سب سانجھے دار ہیں اور ان کی دکان داری، یہ سودا بیچ کر ہی چل رہی ہے، دوسرا یہ کہ ان کو پروا نہیں۔ لوگ جو بھی کرتے ہیں، پڑے کیا کریں۔ معاشرہ بگڑتا ہے، بگڑا کرے، لوگوں میں عدم برداشت کا رویہ پروان چڑھ رہا ہے، چڑھا کرے۔ جب تک ان کی میزوں پہ کھانا موجود ہے، ان کے خیال میں سب اچھا ہے۔

مگر سب اچھا نہیں ہے۔ میں پچھلے کالم ہی میں اسلامو فوبیا پہ رو پیٹ رہی تھی مگر چند روز کے اندر ہی جواب خود میرے سامنے آ گیا۔ خالد حمید صاحب تومسلمان بھی تھے، خطیب حسین کی طرح، اسی مذہب کے پیرو جو کہتا ہے کہ تم پہ تمہارے مومن بھائی کا خون اور عزت حرام ہے۔

ایک ہی مذہب، ایک ہی رنگ و نسل، تو یہ کون سا فوبیا ہے؟ اسے شدت پسندی کہیں تو یہ کیسی شدت پسندی؟ ویلکم پارٹی، پاکستان کے سبھی کالجوں سکولوں کی روایت ہے۔ یہ روایت تو ضیاء صاحب کے دور میں بھی منائی گئی۔ آج خطیب حسین اس پارٹی سے خائف کیوں تھا؟

خرابی کہیں بہت دور ہے، مرض کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ کمی کہاں ہے؟ کمی شاید ہمارے ردِ عمل میں ہے۔ ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ یہ واقعہ نیوزی لینڈ میں پیش آ یا ہوتا تو ان کی وزیرِ اعظم کیا کرتیں؟ شاید وہ فوری بہاولپور پہنچتیں اور معاملے کو ٹیسٹ کیس بنا دیتیں تاکہ اساتذہ اس خوف کی فضا سے نکل سکیں۔

میں وزیرِ اعظم کی طرف سے کسی بیان کی منتظر رہی مگر وہاں ایک بے حس خاموشی طاری ہے۔ اب ایسا ہے کہ سوموار کو یونیورسٹی جاؤں گی اور اپنے سامنے بیٹھے متوقع قاتلوں کو ڈرتے ڈرتے پڑھا کر آؤں گی اور کوشش کروں گی کہ ان میں سے کل کو کوئی جاسنڈا نہ نکلے۔ خطیب حسین ضرور پیدا ہوتے رہیں لیکن کوئی خا لد حمید اور مشال خان نہ جنم لے۔

اسی بارے میں